Friday , July 28 2017
Home / شہر کی خبریں / اندرون تین ماہ ای ویسٹ متعارف کرنے کی منصوبہ بندی

اندرون تین ماہ ای ویسٹ متعارف کرنے کی منصوبہ بندی

نئی پالیسی کے لیے سرکردہ کمپنیوں سے تجاوز کا حصول ، حکومت تلنگانہ کا اقدام
حیدرآباد۔6جولائی (سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ آئندہ تین ماہ کے دوران الکٹرانک اشیاء کو ضائع کرنے کے سلسلہ میں اپنی منصوبہ بندی روشناس کروائے گی۔ ریاستی حکومت کی جانب سے تیار کی جا رہی پالیسی میں اس بات کا خصوصی خیال رکھا جا رہا ہے کہ کس طرح E-Wasteمنیجمنٹ کو ممکن بنایا جائے اوراس سلسلہ میں کس طرح کی حکمت عملی اختیار کی جائے۔ ریاستی حکومت کے محکمہ انفارمیشن اینڈ ٹکنالوجی کے مطابق بہت جلد انٹرنیٹ تو تھنگس اور ای۔ویسٹ کے سلسلہ میں پالیسی پیش کی جائے گی۔ مسٹر جئیش رنجن نے بتایا کہ حکومت تلنگانہ نے اپنی آئی ٹی پالیسی کو روشناس کرواتے ہوئے اس بات کو بھی پیش کیا تھا کہ جتنا جلد ممکن ہو سکے الکٹرانک اشیاء بالخصوص کمپیوٹر اور دیگر اشیاء کو تلف کرنے کے سلسلہ میں پالیسی تیار کی جا رہی ہے اور ہارڈ وئیر کی ترقی کے سلسلہ میں اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے آئی ٹی شعبہ کو ترقی دینے کیلئے جو اقدامات کئے جا رہے ہیں ان اقدامات کے مثبت نتائج برآمد ہونے لگے ہیں۔ مسٹر رنجن کے بموجب ان نئی پالیسیوں کی تیاری کے سلسلہ میں آئی ٹی شعبہ کی 10سرکردہ کمپنیوں سے مدد و تجاویز حاصل کر رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست تلنگانہ میں انفارمیشن ٹکنالوجی شعبہ کی ترقی کیلئے متعدد اقدامات کئے جا رہے ہیں اور ان اقدامات کے سبب آئی ٹی صنعتیں تلنگانہ کی سمت متوجہ ہو رہی ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت کی جانب سے ٹی ۔ ہب کے طرز پر ٹی ۔ورک کے آغاز کا منصوبہ تیار کیا جا چکا ہے اور عثمانیہ یونیورسٹی صد سالہ تقاریب کے دوران اس کے آغاز کی منصوبہ بندی بھی کی جا چکی تھی لیکن ناگزیر وجوہات کی بناء پر اس پراجکٹ کو ملتوی کرنا پڑا تھا جس کے لئے حکومت نے فوری طور پر 50کروڑ کا بجٹ جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس پراجکٹ کے آغاز کیلئے خانگی عمارت کی تلاش جاری ہے اور بہت جلد یہ پراجکٹ بھی شروع کردیا جائے گا۔ ریاستی حکومت کی آئی ٹی پالیسی کے سلسلہ میں تفصیلات سے واقف کرواتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریاست تلنگانہ میں آئی ٹی صنعت کے فروغ کیلئے حکومت اور سرکردہ آئی ٹی کمپنیوں کی جانب سے حاصل مشوروں کی بنیاد پر ٹی ۔ورک کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے جس میں ہارڈ ویئر کمپنیوں اور ماہرین کو مواقع فراہم کئے جائیں گے۔

TOPPOPULARRECENT