Sunday , August 20 2017
Home / ہندوستان / اندور۔ پٹنہ ایکسپریس حادثہ، مہلوکین کی تعداد146

اندور۔ پٹنہ ایکسپریس حادثہ، مہلوکین کی تعداد146

متعدد زخمی ہنوز دواخانوں میں زیرعلاج ، ملبہ کی صفائی اور امدادی کام جاری

پکھرایاں (کانپور دیہات)۔ 21 نومبر ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) اترپردیش میں کانپور دیہات کے پکھرایاں ریلوے اسٹیشن کے نزدیک کل صبح ہوئے اندور۔راجیندرنگر ایکسپریس ٹرین حادثے میں مرنے والے مسافروں کی تعداد بڑھ کر 146 ہو گئی ہے جبکہ حادثے میں زخمی 74 مسافروں کا اب بھی مختلف اسپتالوں میں علاج چل رہا ہے ۔کانپور دیہات کے پولیس سپرنٹنڈنٹ پربھاکر چودھری نے آج یو این آئی کو یہ اطلاع دیتے ہوئے بتایا کہ19321 اندور۔راجیندرنگر ایکسپریس ٹرین کے تباہ ہوئے ڈبوں سے رات میں مزید کچھ لاشیں ملیں، جس سے حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 146ہو گئی۔ راحت اور بچاؤ ٹیم اب بھی تباہ ہوئے ڈبوں کو ہٹاکر یہ دیکھ رہی ہے کہ کہیں کوئی لاش تو پھنسی ہوئی نہیں ہے۔انہوں نے بتایا کہ 109 مرنے والوں کی شناخت ہو گئی ہے ۔ ان میں اتر پردیش کے 59، مدھیہ پردیش کے 25، بہار کے 23، مہاراشٹر اور جھارکھنڈ کا ایک ایک شخص شامل ہے ۔ دیگر مرنے والوں کی شناخت کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ مرنے والوں کے اہل خانہ کو 97 لاشیں سونپی جا چکی ہیں۔مسٹر پربھاکر نے بتایا کہ زخمیوں میں 20 سے زائد افراد کی حالت اب بھی نازک ہے ۔باقی لاشوں کو شناخت کے لئے مردہ خانہ میں رکھا گیا ہے۔یہ حادثہ شمالی وسطی ریلوے (این سی آر) کے جھانسی ڈویژن کے علاقہ میں ہوا تھا۔ این سی آر کے ذرائع کے مطابق اندؤر راجیندرنگر ایکسپریس کے جی ایس، جی ایس، اے ون، بی ون، بی ٹو، بی تھری، بی ای ایس ون، ایس ٹو، ایس تھری، ایس فور، ایس فائیو، ایس سکس اور سٹنگ کم لگیج ریک سمیت 14 ڈبے پٹری سے اتر گئے تھے ۔ذرائع کا کہنا تھا کہ کل صبح تین بج کر 10 منٹ پر ہوئے اس حادثے کے وقت ٹرین کے تمام مسافر گہری نیند میں سو رہے تھے ۔ حادثہ میں ٹرین کے بی 3، بی ای، ایس ون اور ایس ٹو کوچ کو بری طرح نقصان پہنچا اور زیادہ تر جان و مال کا نقصان ان چار ڈبوں میں ہوا۔ٹرین کے ایس ون کوچ کے کچھ معمولی طور پر زخمی مسافروں کا کہنا تھا کہ جھانسی سے روانہ ہونے کے بعد انہیں ٹرین کے پہیوں سے کچھ آواز سنائی دی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس خرابی کو ٹھیک کرنے کے لئے ٹرین کو دو بار روکا بھی گیا لیکن مرمت نہیں ہو سکی اور ٹرین نے اپنا سفر جاری رکھا۔ بعد میں یہ حادثہ ہو گیا۔ان کا کہنا تھا کہ حادثے کے بعد راحت و بچاؤ کام کے لئے کانپور، الہ آباد اور جھانسی سے سینئر ریلوے افسر اور میڈیکل ٹیمیں موقع پر پہنچیں۔ ریلوے اور ضلع انتظامیہ کے افسران نے ہم آہنگی سے کام کیا۔ ْحادثہ کا شکار لوگوں کی مدد میں سرکاری مشینری کے ساتھ ساتھ مقامی لوگوں نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ کوئی متاثرین کو مناسب مقام پر پہنچارہا تھا تو کوئی حادثہ میں بچ جانے والوں کی ہمت بندھا رہا تھا۔ لوگوں نے اپنی ذاتی گاڑیوں سے زخمیوں کو اسپتال پہنچایا۔ متاثرین کی مدد میں ریاست کی کئی ایجنسیاں بھی مصروف رہیں۔راحت اور بچاؤ کام میں مدد کے لئے نیشنل ڈیزاسٹر ریلیف فورس (این ڈی آر ایف) کی وارانسی سے دو اور لکھنؤ سے ایک ٹیم جائے حادثہ پر پہنچی۔ اس کام میں فوج کی مدد اور فوج کے اسپتال کے ڈاکٹروں کی خدمات بھی لی گئیں۔ ریاستی حکومت نے جائے حادثہ کے آس پاس کے اضلاع کے طبی شعبہ کے اہلکاروں کی اتوار کی چھٹی منسوخ کر دی تھی۔اس حادثے کے بعد جائے حادثہ پر پہنچے ریلوے کے وزیر مملکت منوج سنہا نے کل حادثے کی تحقیقات ریل تحفظ کمشنر کے حوالے کرنے کے ساتھ ہی کہا تھا کہ اس کے لئے قصوروار وں کو بخشا نہیں جائے گا۔ بادی النظر میں حادثہ کا سبب ڈبے کے پہیاجام ہونا بتاتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ جانچ رپورٹ آنے کے بعد ہی حقیقت کا پتہ چلے گا۔ریلوے نے اس حادثہ کے پیش نظر جھانسی میں05101072،ارئی میں 051621072 کانپور میں 05121072 اور پکھرایاں میں05113270239ہیلپ لائن نمبر جاری کئے ہیں۔ کانپور اور جھانسی کے درمیان لمبی دوری کی کئی ٹرینیں اس حادثہ کے پیش نظر یا تو منسوخ کر دی گئیں یا روٹ تبدیل کرکے انہیں چلایا گیا۔اس درمیان، سرکاری ذرائع کے مطابق حادثہ کا شکار ہوئے ڈبوں کو لائن سے ہٹانے کا کام مکمل کر لیا گیا ہے اور راحت اور بچاؤ کام بھی تقریبا مکمل ہو گیا ہے ۔ لائن کی مرمت کا کام چل رہا ہے ۔ اس روٹ پر ریلو ے ٹریفک کل تک بحال ہوجانے کی امید ہے ۔اس حادثہ پر صدر پرنب مکھرجی، وزیر اعظم نریندر مودی، گورنر رام نائک، سابق وزیر دفاع اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) صدر ملائم سنگھ یادو، وزیر اعلی اکھلیش یادو، مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان، بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی صدر مایاوتی اور ایس پی کی اترپردیش یونٹ کے صدر شیو پال سنگھ یادو نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا تھا۔مرکزی، مدھیہ پردیش اور اتر پردیش حکومتوں نے اس حادثے میں مرنے والوں کے لواحقین کو امدادی رقم دینے اور زخمیوں کا مفت علاج کرانے کا اعلان کیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT