Wednesday , August 16 2017
Home / Top Stories / اندور ۔ پٹنہ ایکسپریس کے 14 کوچیس پٹری سے اُترگئے ، 127 ہلاک

اندور ۔ پٹنہ ایکسپریس کے 14 کوچیس پٹری سے اُترگئے ، 127 ہلاک

KANPUR, NOV 20 (UNI):- Rescue workers search for survivors at the site of a train derailment in Pukhrayan, Kanpur on Sunday. UNI PHOTO-31U

بدترین حادثہ کے 200 زخمیوں میں کئی کی حالت تشویشناک ، پٹریوں میں شگاف حادثہ کی وجہ ، وزیراعظم ، ریلویز اور حکومت یوپی کی طرف سے ایکس گریشیا کا اعلان

پوکھریان۔ 20 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) ریلوے کے ایک بدترین حادثہ میں آج کم سے کم 127 افراد ہلاک اور دیگر 200 شدید زخمی ہوگئے جب اندور۔ پٹنہ ایکسپریس اُترپردیش کے کارنپور (رورل) ضلع میں آج صبح کی اولین ساعتوں کے دوران ’’مشتبہ ریل فریکچر‘‘ کے سبب پٹریوں سے اُتر گئی۔ 6 سال کے  عرصہ کا بدترین حادثہ صبح کے 3 بجے کے بعد پیش آیا جب مسافرین گہری نیند میں محو خواب تھے اور اس وقت زبردست جھٹکرے بیدار ہوئے جب ٹرین عملاً چھلانگ لگاتی ہوئی پٹریوں سے اُترگئی۔ اس ٹرین کے چار سلیپر کوچیس S1، S2، S3، S4 کو حادثہ میں زبردست نقصان پہونچا۔ S1 اور S2 ایک دوسرے میں دھنس گئے اور اندیشہ ہے کہ سب سے زیادہ ہلاکتیں ان دو کمپارٹمنٹس میں ہوئی ہیں۔ ایک اے سی III ٹائر کوچ کو بھی نقصان پہونچا لیکن اس میں مہلوکین یا زخمیوں کی تعداد زیادہ نہیں ہے۔ خوفناک جھٹکہ کھاکر بیدار ہونے والے بعض مسافر اس وقت خود کو خوش نصیب محسوس کئے جب وہ تباہ حال ہوگیوں سے بچالئے گئے۔ کمشنر (کانپور زون) افتخار الدین نے کہا کہ وقفہ وقفہ سے مہلوکین کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ دوپہر تک 103 نعشیں نکالی جاچکی تھیں۔ انسپکٹر جنرل (کانپور رینج) ذکی احمد نے کہا کہ 76 مسافرین شدید زخمی ہوئے ہیں۔ دیگر 150 مسافر معمولی طور پر زخمی ہوئے ہیں۔ عہدیداروں نے کہا کہ بادی النظر میں حادثہ کی بنیادی وجہ پٹریوں میں شگاف سے ہوسکتی ہے۔

مملکتی وزیر ریلوے منوج سنہا نے بھی اخباری نمائندوں سے کہا کہ حادثہ کی وجہ پٹریوں میں شگاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماہرین کی ٹیم اس حادثہ کی وجوہات کا پتہ چلائے گی اور اس کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ ان اندیشوں کے درمیان کہ بعض بوگیوں میں ہنوز کئی مسافر پھنسے ہوئے ہیں۔ سروکٹرس کے ذریعہ بوگیوں کو کاٹا جارہا ہے کیونکہ گیاس کٹرس سے پیدا ہونے والی آگ سے بوگیوں میں گرمی اور دھواں پیدا ہوسکتا ہے اور زندہ بچ جانے والے مسافرین کا دم گھٹ سکتا ہے۔ بعض بوگیوں میں پھنسے ہوئے متعدد افراد کو بچا لیا گیا ہے۔ صدرجمہوریہ پرنب مکرجی، وزیراعظم نریندر مودی، کانگریس کی صدر سونیا گاندھی، اترپردیش کے چیف منسٹر اکھیلیش یادو اور دیگر قائدین نے اس بدترین ریلوے حادثہ پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے مہلوکین کے غم زدہ ارکان خاندان سے دِلی تعزیت کا اظہار کیا ۔ زخمیوں کی عاجلانہ صحت یابی کیلئے نیک تمنائیں ظاہر کی گئی ہیں۔ اکھیلیش یادو نے مہلوکین کے خاندانوں کو فی کس 5 لاکھ روپئے بطور معاوضہ دینے کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعظم مودی نے اپنی طرف سے فی کس 2 لاکھ روپئے جاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وزیر ریلوے نے مہلوکین کے خاندانوں کو دیئے جانے والے ایکس گریشیا کو 2 لاکھ روپئے سے بڑھاکر 3.5 لاکھ روپئے کرنے کا اعلان کیا ہے۔ حکومت اُترپردیش کی طرف سے بطور امداد شدید زخمیوں کو 50,000 اور زخمیوں کو 25,000 روپئے دیئے جائیں گے۔

زخمی مسافرین کو پرانی کرنسی کے ذریعہ امداد
ٹرین حادثہ کے بعد زخمی مسافرین کو جو ہاسپٹل میں شریک تھے امداد کے طور پر دی جانے والی رقم میں 500 روپئے کی پرانی کرنسی دی گئی جس کا چلن بند کردیا گیا ہے ۔ یہ حقیقت منظر عام پر آتے ہی حکام نے معاملہ کی تحقیقات کا وعدہ کیا ۔ ایک زخمی نے بتایا کہ یہاں ایک عہدیدار نے خود کو ریلوے سے وابستہ بتاتے ہوئے 5000 روپئے کی امداد تقسیم کی ۔ انہیں اور دیگر زخمیوں کو جو رقم دی گئی اس میں 500 روپئے کے 10 نوٹ ایسے تھے جن کا چلن بند کردیا گیاا ور /8 نومبر کے بعد سے انہیں قبول نہیں کیا جارہا ہے ۔ کمشنر کنسپور زون نے کہاکہ اس معاملہ کی تحقیقات کی جائیں گی ۔

TOPPOPULARRECENT