Tuesday , September 26 2017
Home / ہندوستان / انسانی بنیادوں پر مدد دہشت گردی نہیں

انسانی بنیادوں پر مدد دہشت گردی نہیں

عراق اور شام کے دورہ کی اجازت نہ دینے پر اعتراض، دہلی ہائیکورٹ میں مسلم وکیل کا جوابی حلفنامہ
نئی دہلی ۔ 19 ۔ جنوری (سیاست ڈاٹ کام) عراق اور شام میں مقامات مقدسہ کو آئی ایس آئی ایس سرگرمیوں سے بچانے کے مقصد سے ایک وفد نے وہاں کے دورہ کا ارادہ کیا تھا لیکن اسے اجازت نہیں دی گئی۔ وفد نے آج دہلی ہائی کورٹ کو بتایا کہ ان کا مقصد صرف انسانی بنیادوں پر مدد فراہم کرنا تھا اور وہ لڑائی میں حصہ لینے کیلئے نہیں جارہے تھے، جیسا کہ حکومت نے دعویٰ کیا ہے۔ 6 رکنی اس وفد میں شامل ایڈوکیٹ محمود پراچا نے عدالت میں پیش کردہ حلفنامہ میں کہا کہ ہم صرف انسانی بنیادوں پر مدد کیلئے وہاں جارہے ہیں۔ حکومت نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس وفد کو عراق دورہ کی اجازت کا مطلب لڑائی میں حصہ لینے کی اجازت دینا ہے اور یہ دہشت گرد سرگرمی کے مماثل ہے۔ حکومت کے ان دعوؤں کی مخالفت کرتے ہوئے محمود پراچا نے اپنے حلفنامہ میں دلیل پیش کی کہ وہ اور دیگر ارکان انجمن حیدری صرف اس مقصد سے عراق جارہے تھے کہ وہاں انسانی بنیادوں پر مدد فراہم کی جائے اور ان کے مجوزہ دورہ کا حکومت عراق کے عہدیداروں نے بھی خیرمقدم کیا تھا ۔ جسٹس منموہن نے کہا کہ اس حلفنامہ کو آج ریکارڈ میں شامل نہیں کیا گیا ہے اور انہوں نے معاملہ کی آئندہ سماعت 29 مارچ کو مقرر کی ہے۔ محمود پراچا نے انٹلیجنس بیورو کی کارکردگی کے بارے میں بھی سوالات اٹھائے جس نے وفد کے ارکان کی تلاش کیلئے مبینہ طور پر سرکیولر جاری کئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایجنسی نے جو معلومات اکھٹا کی ہے، وہ بالکلیہ غلط ہے۔ اس رپورٹ میں انہیں شیعہ مسلم کہا گیا ہے جبکہ وہ سنی مسلم ہے۔ انہوںنے کہا کہ حکومت کے حلفنامہ میں بھی انفارمیشن بیورو کے قانونی موقف کے بارے میں خاموشی اختیار کی گئی ہے۔ قبل ازیں وزارت امور داخلہ نے عدالت کو بتایا تھا کہ ہندوستانی شہر یوں کو کسی ایسے بیرونی ملک جانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی جہاں لڑائی جاری ہو، اس سے ان کی سلامتی کا خطرہ ہوگا اور ساتھ ہی ساتھ ان ممالک کے ساتھ دوستانہ روابط بھی متاثر ہوں گے۔ یہ تاثر بھی ملے گا کہ حکومت ہند دیگر ممالک میں دہشت گردی کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT