Wednesday , September 20 2017
Home / مذہبی صفحہ / انسانی مقصد حیات سے چشم پوشی!

انسانی مقصد حیات سے چشم پوشی!

 

اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ’’اور ہم نے جنات اور انسانوں میں بہت سوں کو جہنم کے لئے پیدا کیا ہے، ان کے پاس دل ہیں جن سے وہ سمجھتے ہیں، ان کے پاس آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے ہیں، ان کے پاس کان ہیں جن سے وہ سنتے ہیں، وہ لوگ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ وہ ان سے بھی زیادہ گئے گزرے ہیں، یہی لوگ ہیں جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں‘‘۔
(سورۂ اعراف۔۱۷۹)
اس آیت میں حواس کے حوالے سے تفقہ، سوجھ بوجھ، غور و فکر اور تدبر کی گویا دعوت دی گئی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ دین میں تفقہ اور تدبر کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ ہمارا دین جس کا نام اسلام ہے، کسی اندھے کی لاٹھی نہیں ہے، اس میں ہر ہر قدم پر آپ کو حکمت و دانائی ملے گی اور اسی کے ذریعہ سے دین کی تعلیم و تبلیغ اور تلقین و دعوت ملے گی۔ یہ دین آپ کو کہیں بھی عقل و شعور سے بیگانہ نظر نہ آئے گا۔
انسان کو اب تک جو علم حاصل ہوا ہے، اس کے مطابق اللہ تعالی نے چھ قسم کی مخلوق پیدا کی ہے۔ جمادات، نباتات، حیوانات، جنات، ملائکہ اور انسان۔ متقدمین نے ان چھ قسم کی مخلوقات کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے: (۱) ذوی العقول اور (۲) غیر ذوی العقول، یعنی جمادات، نباتات اور حیوانات غیر ذوی العقول اور جنات، ملائکہ اور انسان ذوی العقول ہیں، لیکن متاخرین نے سائنس کی روشنی میں اس تقسیم کو غلط قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کوئی مخلوق بھی عقل و شعور سے خالی نہیں، ہر مخلوق کم و بیش عقل و شعور رکھتی ہے اور یہ حقیقت ہے کہ اسلام اور تاریخ انسانی اس کی تائید کرتے ہیں۔
جمادات، مٹی، پتھر وغیرہ اس قدر جامد اور منجمد ہیں کہ ان میں آثار حیات کا پہچاننا تک مشکل ہے، نہ ان میں نشو و نما محسوس ہوتی ہے اور نہ حرکت، لیکن اس کے باوجود ان میں زندگی، حق اور عقل و شعور موجود ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک میں کنکریوں کے تسبیح پڑھنے کا واقعہ اس بات کا شاہد ہے اور آج سائنس داں بھی بتا رہے ہیں کہ جمادات میں زندگی بھی ہے، حس اور عقل و شعور بھی ہے۔ جمادات کا مقصد وجود محدود ہے، اس لئے ان میں عقل و شعور بھی محدود ہے، بلکہ بڑی حد تک غیر محسوس بھی۔
نباتات کا مقصد وجود دوسری نوعیت کا ہے، اس لئے اسی مناسبت سے ان میں عقل و شعور اور حس موجود ہے۔ نباتات میں نشوونما پایا جاتا ہے، یہ بڑھتے اور پھلتے پھولتے ہیں، ان کا نشوونما ہمارے مشاہدے میں ہے، ان کے عقل و شعور اور احساس کا انکار نہیں کیا جاسکتا، بلکہ ان میں توالد و تناسل بھی پایا جاتا ہے۔ ان میں نرومادہ بھی ہوتے ہیں۔ عرب میں کھجور کے درختوں میں نرومادہ کی پیوند کاری عام اور مشہور ہے۔ عہد رسالت میں ہمیں اس کا ثبوت ملتا ہے۔ نباتات کے احساس کی شہادت، ستون حنانہ کے واقعہ میں بھی ملتی ہے۔
حیوانات میں نشوونما، حرکت، چلنا پھرنا، توالد و تناسل، جمادات و نباتات کی نسبت بدرجہا زیادہ ہے۔ ان میں حصول غذا کے لئے دوڑ دھوپ، مضرات سے تحفظ کا اہتمام بھی بدرجہ اتم موجود ہے۔ سردی و گرمی کا احساس، رہنے کی جگہوں، اپنے تحفظ کا سامان، اپنے گھونسلوں اور کھوہوں کی تعمیر و تشکیل، ان میں عقل و شعور اور احساس کے وجود کا واضح ثبوت ہے، جو کسی دلیل کا محتاج نہیں اور ہمارا عام مشاہدہ اس کی صد فیصد تصدیق کرتا ہے۔
انسان میں نشوونما بھی ہے اور سعی و حرکت بھی، توالد و تناسل بھی ہے اور مضرات سے بچنے کا اہتمام بھی، مفادات کے حصول کی سعی بلیغ بھی ہے اور بقا کی جدوجہد بھی۔ ان خصوصیات کے علاوہ عرفان ذات، عرفان خالق، مرغوبات سے دلچسپی، مکروہات سے اجتناب، نتائج و عواقب کا ادراک بھی ہے اور خیر و شر کا امتیاز بھی۔ برائیوں سے احتراز اور اچھائیوں کو اختیار کرنا، انسان کے مقصد وجود میں شامل ہے۔ پھر انسان کی زندگی اتنی متنوع ہے کہ اس کے اعمال و افعال اور مشاغل کا احاطہ کرنا ناممکن نہیں، اس لئے اﷲ رب العزت نے اس کو حواس کی قوتیں، جمادات، نباتات اور حیوانات سے زیادہ بخشی ہیں، اس کو حواس خمسہ سے نوازا گیا ہے۔
حواس خمسہ سے مراد وہ پانچ مشہور قوتیں ہیں، جنھیں باصرہ، سامعہ، شامہ، ذائقہ اور لامسہ کہا جاتا ہے، یعنی دیکھنے کی قوت، سننے کی قوت، سونگھنے کی قوت، چکھنے کی قوت اور چھونے کی قوت۔ یہ حواس انسان کا ایک بہت بڑا ذریعہ علم ہے اور یہ علم کا ایک یقینی ذریعہ سمجھے جاتے ہیں۔ دنیا کے سارے محسوسات کا علم جو آج ہمیں حاصل ہے، اس کی بنیاد یہی حواس خمسہ ہیں اور ان ہی کی بنیاد پر تجربہ اور مشاہدہ کے بعد طبعی قوانین دریافت کئے گئے ہیں۔ آج تمام کے تمام سائنسی علوم ان ہی خواس خمسہ کے مرہون منت ہیں۔
انسان کو عقل و شعور کا زیادہ حصہ اس لئے ملا ہے کہ وہ اپنے خالق کو پہچانے، اعمال کی جزا و سزا کو سمجھے، اعمال کے نتائج و عواقب پر غور کرکے ان کو چھوڑنے یا اختیار کرنے کا فیصلہ کرے۔ اگر وہ اپنے حواس کا صحیح استعمال کرکے ان چیزوں کو سمجھ لیتا ہے، عرفان ذات اور عرفان رب حاصل کرلیتا ہے تو اس کا مقام فرشتوں سے بھی بلند ہو جاتا ہے۔ اس کے برخلاف اگر وہ اپنے حواس کی مقصدیت کو نہ سمجھے اور ان کا صحیح استعمال نہ کرے تو حیوانیت کی سطح سے بلند نہیں ہوسکتا، اس میں اور حیوان میں کوئی فرق نہیں رہ جاتا۔ اسی لئے ایسے لوگوں کے بارے میں اللہ تعالی نے فرمایا: ’’یہ چوپایوں کی طرح ہیں، بلکہ چوپایوں سے زیادہ گئے گزرے ہیں‘‘۔ یہ اس لئے فرمایا کہ جو کام انسان کے لئے مخصوص تھا، اس کو اس نے نظرانداز کردیا۔ عقل و شعور رکھنے کے باوجود وہ اپنے مقصد حیات کو نہ سمجھا تو گویا وہ بینا ہونے کے باوجود نابینا ہے۔ سامع ہونے کے باوجود وہ بہرا ہے اور حیوانیت کی سطح سے نیچے گرچکا ہے۔ قرآن پاک ایسے ہی لوگوں کے بارے میں کہتا ہے کہ ’’بہرے، گونگے اور اندھے ہیں‘‘۔ بہرے کے بعد گونگے اس لئے فرمایا کہ جو پیدائشی بہرا ہوتا ہے، وہ پیدائشی گونگا بھی ہوتا ہے۔ چوں کہ پیدائشی بہرا کوئی آواز نہیں سن سکتا، اس لئے وہ کوئی زبان سیکھ ہی نہیں سکتا کہ بولے۔
اپنے حواس کو قابو میں نہ رکھنے اور ان کو صحیح استعمال نہ کرنے والوں کا بہراپن اور اندھاپن صرف اپنے مقصد حیات اور آخرت کے سلسلہ میں ہوتا ہے، حالانکہ وسائل حیات کے بارے میں وہ بہت تیز اور طرار ہوتے ہیں اور اپنے دنیاوی معاملات کو خوب اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’یہ دنیاوی زندگی کے صرف ظاہری پہلو کو جانتے ہیں اور آخرت سے بالکل غافل ہیں‘‘۔ (سورۂ روم۔۷)
اس دنیاوی اور مادی زندگی کے بارے میں آج انسان کا حال یہ ہے کہ وہ زمین کے پاتال کی خبر لارہا ہے، سمندر کی تہوں کو کھنگال رہا ہے، خلاؤں میں چہل قدمی کر رہا ہے، چاند کو روند چکا ہے اور اب مریخ پر کمندیں ڈال رہا ہے، ذرے کا سینہ چیرکر دنیا کو نور و ظلمت اور موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا کرچکا ہے، ہیروشیما اور ناگا ساکی کے پرخچے اڑادیئے، لیکن اپنے مقصد حیات اور مقام انسانیت کے بارے میں بہرا اور اندھا ہوکر رہ گیا ہے۔ (اقتباس)

TOPPOPULARRECENT