Sunday , July 23 2017
Home / ہندوستان / ’’انسانی ڈھال‘‘ فاروق احمد ڈار کو 10 لاکھ روپئے معاوضہ ادا کرنے کی ہدایت

’’انسانی ڈھال‘‘ فاروق احمد ڈار کو 10 لاکھ روپئے معاوضہ ادا کرنے کی ہدایت

فوج کے طرز عمل کا جائزہ لینا ہمارے اختیار میں نہیں، ریاستی حکومت ہر شہری کے جان و مال کی حفاظت کی ذمہ دار : جسٹس بلال نازکی

سرینگر 10 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) جموں و کشمیر انسانی حقوق کمیشن نے آج ریاستی حکومت کو ہدایت دی کہ فاروق احمد ڈار کو 10 لاکھ روپئے کا معاوضہ ادا کیا جائے جسے سرینگر لوک سبھا ضمنی چناؤ کے دوران آرمی کی جانب سے بطور ’’انسانی ڈھال‘‘ استعمال کیا گیا۔ ریاستی انسانی حقوق کمیشن نے اپنے فیصلے میں کہاکہ ڈار کو دیا جانے والا معاوضہ اُس کی تضحیک، جسمانی اور نفسیاتی اذیت، تناؤ، غلط رویہ اور محروسی کے بدلے کے ازالے کی علامتی کوشش ہے، جس سے اُسے سنگباری کرنے والوں سے بچنے کے لئے فوجی گاڑی کے بانٹ پر باندھ دینے سے گزرنا پڑا۔ کمیشن چیرپرسن جسٹس (ریٹائرڈ) بلال نازکی کے جاری کردہ فیصلے میں کہا گیا کہ میرے ذہن میں کوئی شائبہ نہیں کہ فاروق احمد کو اذیت اور ذلت سے گزارا گیا اور اس کے علاوہ اُسے غلط طور پر محروس کیا گیا۔ اُنھوں نے کہاکہ اِس اقدام کے نتیجہ میں کسی بھی انسان کو صدمہ ہوتا ہے، نفسیاتی تناؤ سے گزرنا پڑتا ہے جس سے وہ عمر بھر بھی متاثر رہ سکتا ہے۔ کمیشن نے کہاکہ اِن تمام زیادتیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ریاستی حکومت کے لئے یہ مناسب ہے کہ متاثرہ شخص کو 10 لاکھ روپئے کا معاوضہ دیا جائے۔ کمیشن نے حکومت جموں و کشمیر کو اِس ہدایت کی اندرون چھ ہفتے تعمیل کے لئے کہا ہے۔ یہ فیصلہ بہ اعتبار نوعیت سفارشی ہے اور اِسے عملدرآمد کے لئے ریاستی حکومت کی منظوری درکار ہوگی۔ رولنگ میں کہا گیا کہ ریاست کے چیف سکریٹری مصرحہ مدت کے دوران کمیشن کو تعمیل کی رپورٹ پیش کریں گے۔ یہ فیصلہ انٹرنیشنل فورم فار جسٹس اینڈ پروٹیکشن آف ہیومن رائٹس کے چیرمین احسن انتو کی داخل کردہ درخواست پر سامنے آیا ہے۔ جسٹس ریٹائرڈ نازکی نے کہاکہ پولیس نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ ڈار کو آرمی کی گاڑی کے بانٹ پر باندھ دیا گیا اور انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا گیا۔ اُنھوں نے یہ بھی کہاکہ کمیشن اِس حقیقت کے بناء مجبور ہے کہ وہ پروٹیکشن آف ہیومن رائٹس ایکٹ 1993 کے محدود اطلاق کی وجہ سے آرمی کے طرز عمل کا احاطہ نہیں کرسکتا۔ ایسے مباحث نہیں ہوسکتے کہ آیا ڈار سے کیا گیا سلوک انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوا یا نہیں۔ اِس ملک میں قوانین ہیں اور بین الاقوامی قوانین بھی موجود ہیں جو اِس طرح کے سلوک کی کسی مجرم کے ساتھ بھی اجازت نہیں دیتے۔ کسی انسان سے اس طرح کا سلوک مہذب سماج قبول نہیں کرسکتا ہے۔ تاہم کمیشن اِس حقیقت کی بناء محدود اختیار رکھتا ہے کہ وہ آرمی کے طرز عمل کا جائزہ نہیں لے سکتا جو ڈار کے ساتھ ساتھ اسٹیٹ پولیس کے مطابق اِس واقعہ کے لئے ذمہ دار ہیں۔ کمیشن چیرپرسن نے کہاکہ پولیس رپورٹ کے تناظر میں ڈار کو انسانی حقوق خلاف ورزیوں کا شکار بنایا گیا اور اِس لئے ریاستی حکومت اپنی ذمہ داری سے فرار اختیار نہیں کرسکتی۔ فیصلے میں کہا گیا کہ کمیشن نے کوئی نوٹس مرکزی حکومت یا مسلح افواج کو جاری نہیں کی لیکن یہ حقیقت برقرار ہے کہ عوام کے جان و مال اور آزادی کا تحفظ ریاستی حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT