Wednesday , August 23 2017
Home / مذہبی صفحہ / انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے

انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے

تکثیرات اربعہ کا تیسرا مجاہدہ ’’شکر‘‘ ہے۔ نہایت عاجزی کے ساتھ منعم کی نعمت کا اعتراف کرنا شکر کہلاتا ہے، لیکن فی الحقیقت اللہ تعالی کے لئے بندے کی شکر گزاری یہ ہے کہ بندہ نہایت عاجزی کے ساتھ اللہ تعالی کی نعمت کا زبان سے اعتراف اور دل سے اقرار کرے۔ اللہ تعالی کا شکر تین طریقوں سے ادا کیا جاتا ہے، ایک زبان سے، دوسرا اعضاء و جوارح سے اور تیسرا دل سے۔ زبان سے شکر گزاری یہ ہے کہ نہایت عجز و انکسار کے ساتھ اللہ تعالی کی نعمت کا اعتراف کیا جائے۔ اعضاء و جوارح سے شکر یہ ہے کہ بندہ اپنے منعم کا وفادار اور اطاعت گزار رہے، فرماں بردار رہے، اس کے احکام کی تعمیل کرتا رہے اور اس کی منہیات سے بچتا رہے۔ دل سے شکر یہ ہے کہ منعم کا ہمیشہ احترام کرتا رہے اور اس کے احسان کو ہمیشہ پیش نظر رکھے۔
حضرت پیران پیر رحمۃ اللہ علیہ فتوح الغیب کے مقالہ نمبر ۵۹ میں فرماتے ہیں: اگر نعمت کی حالت ہے تو اس کا شکر ادا کرنا ضروری ہے اور شکر زبان، دل اور اعضاء و جوارح تمام سے ادا ہوتا ہے۔ زبان کے ساتھ شکر ادا کرنے کے معنی یہ ہیں کہ تہہ دل سے اس بات کا اعتراف کرے کہ نعمت خدا ہی کی طرف سے ہے اور اس میں اپنی ذات اور مخلوق، کسب و ہنر اور قوت و طاقت کا کوئی تعلق نہیں، کیونکہ تو خود اور یہ ساری چیزیں نعمت کے اسباب اور وسائل ہیں۔ نعمت کو پیدا کرنے والا، اسے تقسیم کرنے والا اور اس کا مسبب وہی خدائے بزرگ و برتر ہے۔ جب تخلیق اور تقسیم اسی کے ہاتھ میں ہے تو اس کے علاوہ کوئی دوسرا کس طرح شکر اور حمد کے لائق ہو سکتا ہے۔ ظاہر بات ہے کہ ہدیہ لانے والے غلام کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی، بلکہ ہمیشہ ہدیہ بھیجنے والے مالک پر ہی نظر کی جاتی ہے۔ جنھیں یہ بصیرت حاصل نہیں ہے، ان کے متعلق اللہ تعالی کا فرمان ہے کہ ’’وہ دنیاوی زندگی کے صرف ظاہری پہلو کو جانتے ہیں اور آخرت سے بالکل غافل ہیں‘‘ (سورۂ روم۔۷) جس شخص کی نظر صرف ظاہر اور اسباب پر ٹک گئی اور اس کی حقیقت پر توجہ نہ دی، وہ جاہل، بے وقوف اورنالائق ہے۔ عاقل کو عاقل اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس کی نظر ہمیشہ انجام کار پر ہوتی ہے۔
دل سے شکر ادا کرنے کا مفہوم یہ ہے کہ پختہ دلی کے ساتھ اس بات کا ہمیشہ یقین اور اعتماد رکھے کہ میری موجود ہر چیز، ظاہری و باطنی نعمتیں، لذت اور منفعتیں اور تمام حرکات و سکنات اللہ تعالی ہی کی طرف سے ہیں۔ زبان سے شکر دراصل دل کی ترجمانی کرتا ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ ’’تم کو جو نعمت بھی حاصل ہے، اللہ ہی کی طرف سے ہے‘‘ (سورۂ نحل۔۵۳) ایک اور مقام پر فرمایا: ’’اور اپنی کھلی اور چھپی نعمتیں تم پر تمام کردی ہیں‘‘ (سورۂ لقمان۔۲۰) ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا: ’’اور اگر تم اللہ کی نعمتیں گنو تو شمار نہ کرسکو گے‘‘۔ (سورۂ ابراہیم۔۳۴)

ان دلائل سے ثابت ہوا کہ کسی مؤمن کے لئے اللہ تعالی کے علاوہ کوئی نعمت عطا کرنے والا نہیں ہے۔ رہا اعضاء و جوارح سے شکر! تو یہ اس طرح ادا ہوگا کہ اعضاء و جوارح کی ہر حرکت اطاعت الہی کے تحت ہو، اس میں غیر اللہ کا کوئی دخل نہ ہو۔ جس چیز میں اللہ تعالی کی معصیت اور نافرمانی ہو، اس میں مخلوق کو کوئی وقعت نہ دے اور یہ قاعدہ، نفس، خواہشات، ارادہ و آرزو اور تمام مخلوق سب کے لئے ہے۔ اطاعت الہی کو اصل اور اساس قرار دے اور دوسری باتوں کو فروعی، عارضی اور ثانوی حیثیت دے۔ اچھی طرح جان لے کہ اس کی مخالفت سے تو ظالم راہ ہدایت سے دور اور اللہ کے احکام جو اس نے اپنے نیک بندوں کے لئے مقرر فرمائے ہیں کی خلاف ورزی کرنے والوں میں شامل ہو جائے گا۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ’’اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں، وہی کافر ہیں‘‘ (سورہ مائدہ۔۴۴) ایک دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا: ’’اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں، وہی ظالم ہیں‘‘ (سورہ مائدہ۔۴۵) ایک اور آیت میں ’’وہی فاسق ہیں‘‘ فرمایا گیا ہے۔ اس وقت تیرا انجام دوزخ ہوگا، جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں، حالانکہ تو دنیا میں معمولی سے بخار اور آگ کی ذرا سی چنگاری کی تپش برداشت نہیں کرسکتا، پھر آخر دوزخ میں ہمیشہ کے لئے کس طرح صبر کرسکے گا۔ بچ، بچ، خبردار!‘‘۔ (یہاں حضرت پیران پیر رحمۃ اللہ علیہ کی عبارت ختم ہوتی ہے)

شکر کے دو بڑے فائدے ہیں، ایک تو اس سے بندے میں عاجزی و انکساری پیدا ہوتی ہے، دوسرے شکر پر اللہ تعالی کی طرف سے ازدیاد نعمت کا وعدہ ہے اور اس وعدہ کے مطابق بندے پر انعام و اکرام کی بارش ہونے لگتی ہے۔ سید الطائفہ حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ’’حقیقی شکر یہ ہے کہ بندہ اپنے آپ کو کسی انعام و اکرام اور احسان کا مستحق ہی نہ سمجھے‘‘۔ یعنی اللہ تعالی کا شکر تو صحیح معنی میں ادا ہی اس وقت ہوتا ہے، جب بندہ اپنے آپ کو شکر سے عاجز سمجھے۔
حضرت سیدنا داؤد علیہ السلام نے اللہ تعالی سے عرض کیا: ’’یااللہ! میں تیرا شکر ادا کرنے سے خود کو عاجز پا رہا ہوں، کیونکہ جب شکر کروں گا تو تیری توفیق ہی سے ادا کروں گا اور توفیق شکر بھی ایک نعمت ہے!‘‘۔ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: ’’داؤد! اگر تم نے اس حقیقت کو پالیا ہے تو صحیح معنی میں اب تم نے میرا شکر ادا کیا‘‘۔ غالباً اسی لئے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا تھا کہ ’’شکر سے عاجز ہوجانا ہی اللہ تعالی کا شکر ہے‘‘۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ’’انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے‘‘۔ (سورۂ ذاریات۔۶)
اللہ تعالی کی نعمتیں انسان پر آسمان سے بارش کے قطروں کی طرح برس رہی ہیں کہ انسان کا ایک لمحہ بھی اللہ تعالی کی نعمتوں کے بغیر نہیں گزر سکتا۔ چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے: ’’اگر تم اللہ کی نعمتوں کا شمار کرنا چاہو تو نہیں کرسکتے‘‘ (سورۂ ابراہیم۔۳۴) انسان بڑا ہی ناانصاف اور ناشکرا ہے، انسان کے نزدیک اللہ تعالی کی نعمتوں کی قدر نہیں، دراصل جو نعمتیں اس کو حاصل ہوتی ہیں، یہ ان کی قدر نہیں کرتا اور ان نعمتوں کے پیچھے بھاگتا رہتا ہے، جو اسے حاصل نہیں ہیں یا جو اس کے مقدر میں نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنا شکرگزار بندہ بنائے۔ (آمین) (اقتباس)

TOPPOPULARRECENT