Sunday , October 22 2017
Home / Top Stories / انسداد دہشت گردی اور باہمی تجارت میں اضافہ سے اتفاق

انسداد دہشت گردی اور باہمی تجارت میں اضافہ سے اتفاق

صدر جمہوریہ پرنب مکرجی کی اردن کے شاہ عبداللہ سے ملاقات، سلفیورک ایسڈ پلانٹ کا افتتاح
عمان۔10 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان اور اردن نے انسداد دہشت گردی اور دفاعی تعاون کے شعبہ میں باہمی تعاون اور اضافے سے اتفاق کیا ہے۔ دورہ کنندہ صدر جمہوریہ پرنب مکرجی اور اردن کے شاہ عبداللہ دوم کے مابین آج ہوئی بات چیت کے دوران مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں قائدین نے دہشت گردی، اقوام متحدہ سلامتی کونسل اصلاحات اور باہمی تجارت میں اضافے کے تعلق سے بات چیت کی۔ پرنب مکرجی نے کہا کہ ہندوستان 100 ملین ڈالرس تک کا قرض اردن کو فراہم کرنے کے لئے تیار ہے جس کی تفصیلات کو بہت جلد قطعیت دی جائے گی۔ دونوں قائدین نے دنیا کے سب سے بڑے سلفیورک ایسڈ پلانٹ کا افتتاح کیا جو عمان سے 325 کیلومیٹر دور ایسدھیا میں واقع ہے اور اسے 860 ملین ڈالرس کی لاگت سے قائم کیا گیا ہے۔ شاہ عبداللہ نے ملکہ رانیہ کے ہمراہ ہندوستان کا دورہ کرنے صدر جمہوریہ کی دعوت قبول کرلی۔ قبل ازیں  صدرجمہوریہ پرنب مکرجی کے بدامنی کا شکار مغربی ایشیا کے چھ روزہ تاریخی دورہ کا آج آغاز ہوگیا اور وہ عمان پہنچ گئے۔ یہاں صدرجمہوریہ کا پرتپاک خیرمقدم کیا گیا جس کے بعد شاہ عبداللہ نے ان کے اعزاز میں ظہرانہ ترتیب دیا تھا۔ ایرپورٹ سے پرنب مکرجی سیدھے ال حسینیہ محل پہنچے جہاں رنگارنگ استقبالیہ ترتیب دیا گیا تھا۔ صدرجمہوریہ اور شاہ عبداللہ نے تقریباً نصف گھنٹے تک باہمی تبادلہ خیال کیا جس کے بعد وفود سطح کے مذاکرات ہوئے۔

 

بعدازاں شاہ عبداللہ (دوم) نے جن کے پاس ملک کے سارے اختیارات ہیں، پرنب مکرجی کے لئے ظہرانہ ترتیب دیا۔ مرکزی وزیر تھوار چند گہلوٹ اور چھ ارکان پارلیمنٹ بشمول کے وی تھامس (کانگریس) اور میناکشی لیکھی (بی جے پی) اس دورہ میں شامل ہیں۔ صدرجمہوریہ ، اُردن میں دو دن قیام کریں گے جس کے بعد وہ فلسطین اور اسرائیل کا دورہ کرنے والے ہیں۔ پرنب مکرجی پہلے ہندوستانی صدر ہیں جو ان تین ممالک کا دورہ کررہے ہیں۔ یہاں تک کہ وزیر اُمور خارجہ نے بھی ان ممالک کا دورہ نہیں کیا ہے۔ ہندوستان سے روانہ ہوتے وقت پرنب مکرجی نے اس دورہ کو ’’تاریخی‘‘ قرار دیا تھا۔ اسرائیل اور فلسطین کے مابین گزشتہ چند ہفتوں سے جاری تشدد اور جانی و مالی نقصانات کی بناء صدرجمہوریہ کو اپنا دورہ مختصر کرنا پڑرہا ہے۔ یہاں وہ چند تاریخی مقامات کا دورہ کریں گے اور ان کے دورہ کے موقع پر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے جارہے ہیں۔ ہندوستان اور اُردن کے مابین گزشتہ 65 سال سے سفارتی روابط قائم ہیں۔ اس کے باوجود ہندوستانی صدرجمہوریہ پہلی مرتبہ اس ملک کا دورہ کررہے ہیں۔ قبل ازیں راجیو گاندھی نے 1988 میں بحیثیت وزیراعظم یہاں کا دورہ کیا تھا۔ ہندوستان نے اردن کے ساتھ تجارتی روابط کو مزید مستحکم بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ پرنب مکرجی کے اس دورہ کے موقع پر باہمی تجارتی روابط میں اضافہ کے امکانات کا جائزہ لیا جائے گا، کیونکہ ہندوستان یہ تصور کرتا ہے کہ اس علاقہ میں ہندوستانی کمپنیوں کو اپنا کام انجام دینے کے معاملے میں اردن ایک مرکز ثابت ہوسکتا ہے۔ پرنب مکرجی یونیورسٹی آف جارڈن کا بھی دورہ کریں گے جہاں وہ طلباء اور فیکلٹی سے خطاب کرنے والے ہیں۔ عمان میں ہندوستانی سفیر کی جانب سے ہندوستانی برادری اور ہندوستان کے دوست احباب کیلئے منعقدہ تقریب میں بھی وہ شرکت کریں گے۔

TOPPOPULARRECENT