Tuesday , September 26 2017
Home / Top Stories / انسداد دہشت گردی کیلئے افریقی ممالک کے ساتھ تعاون پر زور

انسداد دہشت گردی کیلئے افریقی ممالک کے ساتھ تعاون پر زور

اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں ہندوستان کو مستقل رکنیت کی وکالت، ہند ۔ افریقہ فورم کے وزرائے خارجہ سے سشماسوراج کا خطاب

نئی دہلی ۔ 27 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) دہشت گرد گروپس کے مابین عالمی سطح پر باہمی روابط میں اضافہ نے دہشت گردی کی لعنت کو پھیلا دیا ہے۔ ہندوستان نے 54 افریقی ممالک کے مابین انٹلیجنس کا تبادلہ اور ٹریننگ کے ذریعہ اس لعنت سے باہمی طور پر نمٹنے کی بھرپور وکالت کی۔ تیسرے ہند ۔ افریقہ فورم چوٹی اجلاس کے وزرائے خارجہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیرامور خارجہ سشماسوراج نے اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں ہندوستان کو مستقل نشست کے معاملہ کی بھی بھرپور تائید کی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان دیگر افریقی ممالک کے ساتھ تقریباً 2.5 بلین عوام کا احاطہ کرتا ہے اور اسے عالمی ادارہ میں جائز حق سے محروم نہیں رکھا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ آج تمام ممالک دہشت گردی کی بڑھتی لعنت کا سامنا کررہے ہیں۔ غیر سرکاری عوامل اور سرحد پار دہشت گردی نے ایک نیا رخ اختیار کرلیا ہے اور اس کی وجہ سے تمام ممالک کو امن و استحکام کے سلسلہ میں غیرمعمولی چیلنج کا سامنا ہے۔ دنیا بھر میں دہشت گرد گروپس کے مابین تیزی سے بڑھتے روابط کے پیش نظر ہمیں چاہئے کہ انٹلیجنس کا تبادلہ، ٹریننگ اور دیگر اقدامات کے ذریعہ اس لعنت کو ختم کرنے میں اہم رول ادا کریں۔

انہوں نے توقع ظاہر کی کہ بین الاقوامی برادری مؤثر اقدام کرتے ہوئے بین الاقوامی دہشت گردی کے خلاف جامع کنونشن کی منظوری کو یقینی بنائے گی۔ سشماسوراج کا یہ تبصرہ آئی ایس آئی ایس اور بوکوحرام سے بڑھتے خطرات اور بین الاقوامی تشویش کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ سشماسوراج نے دیگر کئی کلیدی شعبوں جیسے توانائی، تجارت اور سیکوریٹی کے بارے میں بھی بات کی اور کہا کہ فریقین کو اس معاملہ میں باہمی تعاون و اشتراک بڑھانا ہوگا اور ہم سب کو مل کر ہمہ رخی فورم کو مستحکم کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور افریقی ممالک کی آبادی تقریباً 2.5 بلین ہے اور یہ تمام ممالک عالمی حکمرانی کے اداروں میں مؤثر نمائندگی سے قاصر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور افریقہ کو اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کے جائز مقام سے مزید محروم نہیں رکھا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایک عالمی ادارہ کے کس طرح درست ہونے کی توقع کرسکتے ہیں جس میں سارے افریقی خطہ اور ایک ملک کو نظرانداز کیا گیا ہے۔ انہوں نے عالمی اداروں میں جمہوری اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کا 70 واں سیشن ہمارے لئے ایک موقع ہوگا جہاں ہم ان دیرینہ مسائل کی یکسوئی کیلئے مؤثر اقدامات یقینی بناسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں امن اور خوشحالی کیلئے عالمی سطح پر اداروں میں جمہوریت ہونی چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT