Tuesday , September 26 2017
Home / سیاسیات / انسداد رشوت ستانی کے تحت ایف آئی آر سیاسی انتقام

انسداد رشوت ستانی کے تحت ایف آئی آر سیاسی انتقام

استعفیٰ کا مطالبہ مسترد ، تیجسوی پرساد یادو کا بیان
پٹنہ ۔ 12 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) بہار کے ڈپٹی چیف منسٹر تیجسوی پرساد یادو نے جے ڈی (یو) کی طرف اپنے موقف کی صفائی پیش کرنے کا مطالبہ کئے جانے کے دوسرے دن کہا کہ انسداد رشوت سانی کی مختلف دفعات کے تحت ان کے خلاف درج ایف آئی آر ’’سیاسی انتقام‘‘ کا نتیجہ ہے اور انہوں نے استعفیٰ دینے سے عملاً انکار کردیا۔ یادو نے کابینی اجلاس کے بعد باہر نکلتے ہوئے اخباری نمائندوں سے کہا کہ (ہوٹلوں کیلئے اراضی کے کیس میں) ایف آئی آر ان کے خلاف سیاسی انتقام کا حصہ ہے۔ بی جے پی کے صدر امیت شاہ اور وزیراعظم نریندر مودی میرے اور میرے ارکان خاندان کے خلاف سیاسی وجوہات کی بنیاد پر سازشیں کررہے ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہر کوئی جانتا ہے کہ وہ (بی جے پی ) لالو جی سے ڈرتے ہیں لیکن کوئی یہ نہیں جانتا تھا کہ وہ (بی جے پی) ایک 28 سال کے نوجوان سے بھی ڈر رہے ہیں‘‘۔ تیجسوی پرتاپ نے کہا کہ ’’کیا آپ یقین کرسکتے ہیں کہ 14 سالہ بچہ جس کے مونچھ بھی نہ نکلیں ہوں، آیا وہ کسی رشوت ستانی میں ملوث ہوسکتا ہے؟‘‘ انہوں نے کہا کہ ایف آئی آر فرضی ہے۔ یہ ایف آئی آر ایک خانگی فریق کی طرف سے رانچی اور پوری میں آئی آر سی ٹی سی کی دو ہوٹلیں چلانے لائسنس کے حصول کے بدلے پٹنہ میں انہیں 3 ایکر اراضی دی گئی تھی جب لالو پرساد یادو وزیر ریلوے تھے۔ تیجسوی نے بحیثیت وزیر اپنی بہتر کارکردگی اور صاف ستھری امیج کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’وزارتی عہدہ سنبھالنے کے پہلے دن سے رشوت کے خلاف کسی مروت کے بغیر سخت موقف اختیار کرتا رہا ہوں اور اپنی ذمہ داری سنبھالنے میں تاحال میں نے کبھی کوئی غلطی نہیں کی ہے۔ جب ایک 28 سالہ شخص رشوت میں ملوث نہیں ہوسکتا تو 14 سالہ بچہ رشوت ستانی میں کیسے ملوث ہوسکتا ہے‘‘۔

TOPPOPULARRECENT