Monday , October 23 2017
Home / ہندوستان / انسداد ِ توہم پرستی کیلئے قانون سازی کا عہد

انسداد ِ توہم پرستی کیلئے قانون سازی کا عہد

مفاداتِ حاصلہ عناصر پر توہم پرستی کے استحصال کا الزام : سدا رامیا
بنگلورو۔ 28 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) کرناٹک کے چیف منسٹر سدا رامیا نے آج اعادہ کیا کہ ان کی حکومت انسداد توہم پرستی بل وضع کرنے کے عہد کی پابند ہے۔ رامیا نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ ’’توہم پرستی کا خاتمہ کرنا انتہائی ضروری ہے کیونکہ مفادِ حاصلہ عناصر کو توہم پرستی کے استحصال کا موقع ملے گا اور وہ توہم پرستی پر مبنی عقائد کو فروغ دینے کی ممکنہ کوشش کریں گے‘‘۔ سدا رامیا نے اس لعنت کے خلاف عوامی شعور بیدار کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ توہم پرستی کے عمل کو روکنے سے متعلق قانون وضع کرنے کے ضمن میں ان کی حکومت کو سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ رامیا نے کہا کہ ’’ہمیں مفادات حاصلہ عناصر کی مخالفت کا سامنا رہے گا اور ہم اس کیلئے تیار ہیں‘‘۔ ایک معقولیت پسند روشن خیال مصنف ایم ایم کلبرگی کے قتل کے فوری بعد مصنفین کے ایک گروپ کے علاوہ ایسے ہی حالات میں دیگر دو مقتول مصنفین نریندر ڈابھولکر اور گووند پنسارے کے ارکان خاندان نے چیف منسٹر پر زور دیا تھا کہ انسداد توہم پرستی بل کی منظوری کے لئے پیشرفت کی جائے جو اپوزیشن کی سخت مخالفت کے سبب زیرالتواء رکھا گیا تھا۔ بی جے پی اس بِل کی مخالفت کررہی ہے اور کہا ہے کہ حکومت کو ہندوؤں کے عقائد میں مداخلت کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔

TOPPOPULARRECENT