Thursday , September 21 2017
Home / آپ کے سوال / انشاء اللہ طلاق دیدوں گا

انشاء اللہ طلاق دیدوں گا

سوال : ایک اہم مسئلہ میں آپ سے شرعی رہنمائی مطلوب ہے۔ امید کہ آپ جلد جواب عنایت فرمائیں گے ۔
ہمارے قریبی رشتہ داروں میں ایک اہم مسئلہ درپیش ہوا ہے کہ میاں بیوی کے درمیان اختلافات ہوئے، بچی اپنے میکہ آگئی اور کئی دن تک دونوں میں صلح صفائی کی کوششیں ہوئیں۔ حال میں ایک میٹنگ ہوئی، لڑکا اور اس کے ماں باپ اور برادران لڑکی کے والد کے گھر آئے، گفتگو کے دوران تنازعہ بڑھ گیا۔ لڑکا غصہ میں بے قابو ہوگیا اور اس نے غصہ میں کہا کہ میں انشاء اللہ تمہاری بیٹی کو طلاق دے دوں گا، اس پر ساری مجلس پر سکتہ طاری ہوگیا ۔ کیا اس جملہ سے طلاق ہوگئی ، کیا لڑکے پر طلاق دیدینا ضروری ہوگیا ؟ براہ کرم جواب دیں۔
مدثر خان، کشن باغ
جواب : طلاق کے واقع ہونے کیلئے طلاق کا لفظ زمانہ ماضی یا حال کے صیغہ سے ادا کرنا ضروری ہے ، مستقبل کا صیغہ استعمال کرنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی یعنی میں نے طلاق دیا یا طلاق دیتا ہوں کہنے سے طلاق واقع ہوتی ہے، طلاق دیدوں گا (مستقبل کے صیغے کے ساتھ) کہنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی ہے۔ بھجۃ المشتاق لاحکام الطلاق صفحہ : 13 میں ہے : قال فی الفتح ولا یقع باطلقک الا اذا غلب فی الحال اھ قال فی الخلاصۃ و فی المحیط لو قال بالعربیۃ اطلق لایکون طلاقا الا اذا غلب استعمالہ فی الحال فیکون طلاقا۔
پس صورت مسئول عنہا میں لڑکے نے ’’ انشاء اللہ تمہاری بیٹی کو طلاق دیدوں گا ‘‘ کہا ہے تو اس سے مستقبل میں طلاق دینے کا عزم معلوم ہوتا ہے، لہذا اس طرح کہنے سے ازروئے شرع کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔ ان دونوں میں رشتہ نکاح برقرار ہے۔

قبر میں سوال و جواب سے استثناء
سوال : آپ سے دریافت کرنا یہ ہے کہ میری والدہ کا شب جمعہ انتقال ہوا، اور جمعہ کی نماز کے بعد نماز جنازہ ادا کی گئی اور عصر سے قبل ہی تدفین عمل میں آئی۔ مجھ سے بعض حضرات نے کہا کہ جمعہ کے دن انتقال کرنے والوں کو قبر کا عذاب نہیں ہوتا، حتی کہ ان سے قبر میں سوال و جواب بھی نہیں ہوتے۔ میں نے ایک روایت میں پرھا بھی ہے کہ جمعہ کے دن وفات پانے والے عذاب قبر سے محفوظ رہیں گے لیکن آپ سے معلوم کرنا یہ ہے کہ ان سے سوال و جواب ہوگا یا نہیں ؟
عبدالولی، کاروان
جواب : قبر میں سوال و جواب برحق ہے، البتہ بعض حضرات سوال و جواب سے مستثنی رہیں گے ۔ ان میںایک وہ شخص بھی ہے جس کا انتقال شب جمعہ یا جمعہ کے دن ہوا ہو۔ ردالمحتار جلد 2 ص : 208 مطبوعہ دارالفکر بیروت مطلب : ثمانیۃ لایسا لون فی قبور ھم میں ہے : ثم ذکر ان من لایسال ثمانیۃ : الشھید‘ والمرابط ‘ والمطعون والمیت زمن الطاعون بغیرہ اذا کان صابرا محتسبا‘ والصدیق والاطفال والمیت یوم الجمعہ او لیلتھا والقارئی کل لیلۃ تبارک الملک و بعضھم ضم الیھا السجدۃ والقاری فی مرض موتہ قل ھو اللہ احد۔

جائیداد کی تقسیم
سوال : میرے شوہر کا انتقال ہوگیا ، مجھ کو تین لڑکے اور دو لڑکیاں ہیں۔ مرحوم کی کچھ جائیداد اور بینک میں جمع شدہ رقم ہے ۔ میں مرحوم کا متروکہ تقسیم کردینا چاہتی ہے ۔ شرعی لحاظ سے کس کو کتنا حصہ ملے گا ۔ تاکہ کسی کی حق تلفی نہ ہو۔
نام ندارد
جواب : تمام متروکہ مرحوم سے اولاً تجہیز و تکفین کے مصارف وضع کر کے جس نے خرچ کئے ہیں اس کو دیئے جائیں، پھر مرحوم کا قرض اور بیوی کا زر مہر واجب الادا ہو تو ادا کیا جائے ، اس کے بعد مرحوم نے کسی غیر وارث کے حق میں کوئی وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے تیسرے حصے سے اس کی تکمیل کی جائے ۔ بعد ازاں جو باقی رہے اس کے جملہ چونسٹھ (64) حصے کر کے بیوی کو آٹھ (8) تینوں لڑکوں کو فی کس چودہ (14) دونوں لڑکیوں سے ایک کو سات (7) حصے دیئے جائیں

طلاق کا حق صرف مرد کو کیوں
سوال : طلاق کا حق صرف مرد کو کیوں ہے۔ مرد و عورت کو کیوں نہیں ؟ جبکہ نکاح کے منعقد ہونے کے لئے عاقد اور عاقدہ کی رضامندی اور ان کا ایجاب و قبول لازم و ضروری ہے کیونکہ یہ ایک باہمی معاہدہ ہے جو طرفین کی جانب سے طئے پاتا ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ یکطرفہ تعلق ختم کرلینے سے یہ رشتہ اور باہمی معاہدہ ختم ہوجائے۔ دوسرے کی رضامندی اور واقفیت کی مطلق ضرورت نہ ہو ؟
امتہ الخیر، قاضی پورہ
جواب : طلاق کا اختیار مرد کو دئے جانے میں کئی مصلحتیں پوشیدہ ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ ساری زندگی کی ذمہ داری مرد پر ڈالی گئی۔ عورت کو ہر قسم کی تکلیف اور ذمہ داری سے محفوظ رکھا گیا۔ اگر ایسے میں عورت کو طلاق کا حق دیا جائے تو اس کی بنی بنائی زندگی آناً فاناً ختم ہوجائے گی اور کوئی عقلمند آدمی اپنی زندگی کو برباد کرنا نہیں چاہتا۔ اس لئے مرد کے تفویض طلاق کا اختیار کیا جانا قرین مصلحت ہے۔ اگر کچھ لوگ نادانی سے اس کا غلط استعمال کرتے ہیں تو اس کی وجہ سے نفس قانون یا اس کی مصلحت پر کوئی اثر مرتب نہیں ہوتا۔
امانت تلف ہونے پر ضامن کون ؟
سوال : زید نے ایک مشین اپنے دوست رشید کے پاس امانت کے طور پر رکھوائی۔ رشید اس کو ا پنے پاس حفاظت سے رکھا۔ بعد ازاں رشید نے ا پنے مکان کی تعمیر شروع کی ، مکان خالی کرنا تھا تو اس نے زید کی مشین اپنے دوست خالد کے گھر میں چند دن کیلئے رکھی ۔ خالد نے اس کو قبول کرلیا اور گھر میں رکھا اور میں خالد نے بلا ضرورت اس مشین کو کھول کر کچھ اس کے بارے میں معلومات حاصل کرنا چاہا جس کی وجہ سے مشین خراب ہوگئی۔ خالد کو بھی اس کا اعتراف ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس مشین کے نقصان کی پابجائی رشید کرے گا یا وہ خالدکے ذمہ ہوگی۔
محمد مقتدر حسین،کاماٹی پورہ
جواب : مذکور السؤال مشین کے نقصان کا ضمان خالد کے ذمہ ہے کیونکہ وہ اس کے عمل سے تلف ہوا ہے، رشید نے سامان چونکہ ضرورتاً اپنے پاس سے منتقل کیا تھا اس لئے رشید پر اس کی ذمہ داری نہیں ہے، عالمگیری جلد 4 کتاب الودیعۃ باب ثانی میں ہے : وان اخرجھا عن یدہ عندالضرورۃ بان وقع الحریق فی دارہ فخاف علیہ الحرق او کانت الودیعۃ فی سفینۃ فلحقھا غرق او خرج اللصوص و خاف علیھا او ما اشبہہ ذلک فدفعھا الٰی غیرہ لا یکون ضامنا کذا فی فتاوی قاضیخان۔ اسی صفحہ میں ہے ۔ ولو استھلک الثانی الودیعۃ ضمن بالاجماع۔

رات دیر گئے تک جاگنا، صبح دیر تک سونا
سوال : مجھے افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ مسلم نوجوان کاہل و سست ہوگئے ہیں، وہ رات دیر گئے دوست و احباب کے ساتھ گفتگو کرتے رہتے ہیں، دیر سے سوتے ہیں، نتیجے میں دیر سے اٹھتے ہیں، کئی نوجوان لڑکے تعلیم یافتہ ہیں، کمانے کے قابل ہیں لیکن وہ سستی و عفلت میں اپنی زندگی بسر کر رہے ہیں ، کماتے دھماتے نہیں، دکان عموماً دیر سے کھولتے ہیں، آپ سے گزارش ہے کہ اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے رہنمایانہ ارشادات سے رہبری فرمائیں۔
محمد عبدالعزیز، پراناپل
جواب : صبح سویرے جلد اٹھنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند تھا اور صبح خیزی اللہ سبحانہ و تعالیٰ کو پسند ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح سویرے اٹھنے والوں کے حق میں دعاء خیر فرمائی ہے۔ ’’ اے اللہ ! میری امت کو صبح کے اٹھنے میں برکت دے ‘‘ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد گرامی کا مفہوم ہے کہ رزق کی تقسیم صبح سویرے ہوتی ہے۔
حضرت صخر ایک تجارت پیشہ صحابی تھے ، وہ ہمیشہ اپنا سامان تجارت صبح سویرے روانہ کرتے اور فرماتے ہیں کہ اس کی برکت سے مال کی اتنی کثرت ہے کہ رکھنے کو جگہ نہیں ملتی۔ (ابو داود، 3 ، 8 ، کتاب الجہاد 26-6 ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر اوقات صبح سویرے ہی لشکر روانہ فرماتے اور سفر بھی و دیگر اہم کاموں کو رات کے آخری حصے میں انجام دینے کی ترغیب فرماتے۔
لہذا مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ فجر کی نماز کے ساتھ ہی اپنے کام و کاج کاروبار و تجارت و دیگر اہم امور کی انجام دہی میں مشغول ہوجائیں۔ رات میں زیادہ دیر تک بلا وجہ جاگنا پسندیدہ نہیں ہے، اس سے فجر کی نماز جو کہ فرض ہے چھوٹ جانے کا ندیشہ رہتا ہے اور رزق کی تقسیم کے وقت وہ خواب غفلت میں رہتا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رات میں جلد سونے اور صبح جلد اٹھنے کی ترغیب دی ہے اور بعد نماز عشاء باہمی گفتگو و قصہ گوئی سے منع فرمایا ۔ پس فجر کی نماز ترک کرنا اور صبح دیر گئے تک سونا منحوسی ہے۔

اسلام کو حق سمجھنا کیا مسلمان ہونے کیلئے کافی ہے
سوال : میرا ایک غیر مسلم دوست تھا، ہم دونوں میں کافی محبت و دوستی تھی۔ انہوں نے پولیس ایکشن سے قبل کا مذہبی رواداری والا دور دیکھا تھا، اسلامی تہذیب سے متاثر تھے، عموماً اسلام کی صداقت کو مانتے تھے اور کہتے تھے کہ اسلام میں خدا کا جو تصور ہے وہ سب سے صحیح تصور ہے۔ وہ بت پرستی کو غیر معقول تصور کرتے تھے اور علی الاعلان اس کی مخالفت کرتے تھے۔ حال ہی میں ان کا انتقال ہوا ، ان کے مذہب کے مطابق ہی ان کی آخری رسومات انجام دی گئیں۔
مجھے سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح اسلام کی حقانیت کے اظہار سے کیا وہ دامن اسلام میں داخل نہیں ہوئے۔ اس سلسلہ میں شرعی رہنمائی فرمائیں تو مہربانی ہوگی۔
مرزا ارسلان بیگ، ٹولی چوکی
جواب : ایمان دل سے تصدیق اور زبان سے اقرار کا نام ہے اور کوئی شخص دل سے تصدیق کرے لیکن زبان سے اقرار نہ کرے تو وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مومن ہوگا۔ دنیا میں اس پر اسلام کا حکم نہیں ہوگا ۔ البتہ کوئی شخص مذہب اسلام کو صرف حق و سچا مذہب سمجھا ہو تو محض حق سمجھنے کی وجہ سے وہ مسلمان نہیں ہوگا کیونکہ کفار و مشرکین اور اہل کتاب دین اسلام کو حق جانتے تھے لیکن سرکشی عناد اور تکبر کی وجہ سے مسلمان نہیں ہوئے تھے اور اہل کتاب تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی کے طور پر ایسا جانتے تھے جیسا کہ وہ اپنی اولاد کو جانتے تھے یعنی اپنے اولاد کو پہچاننے میں کبھی کسی قسم کی تکلیف و دشواری نہیں ہوتی۔ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت و رسالت کے آثار و قرائن سے وہ اس قدر واقف تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت و رسالت میں انہیں ادنی سے ادنی درجہ کا شک و شبہ نہیں تھا ۔ اس کے با وصف وہ ایمان نہیں لائے اور حق کو چھپادیئے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : الذین آتینا ھم الکتاب یعرفونہ کما یعرفون ابناء ھم وان فریقا منھم لیکتمون الحق وھم یعلومن (سورۃ البقرہ 146/25)
پس آپ کے دوست نے صرف دین اسلام کو حق جانا ہے اس کا اعلان نہیں کیا تو ان پر مسلمان ہونے کا حکم نہیں ہوگا۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT