Sunday , August 20 2017
Home / مضامین / انصاف مانگنے والے غدار کیوں ؟

انصاف مانگنے والے غدار کیوں ؟

محمد ریاض احمد
ہندوستان میں جب سے نریندر مودی کی زیر قیادت بی جے پی حکومت نے اقتدار سنبھالا تب سے ایسا لگتا ہے کہ حب الوطنی ، ملک دشمنی ، انصاف ، قوم پرستی ، عذاری ، حکومت اور سیاست کے معنی ومطالب بالکل بدل کر رہ گئے ہیں ۔ 12 مئی 2014 کو منعقد ہوئے عام انتخابات میں بی جے پی کی زیر قیادت این ڈی اے کو زبردست کامیابی حاصل ہوئی تھی ۔ اس کامیابی سے ملک میں ’’ہندوتوا کو مضبوط و مستحکم بنانے کے خواہاں تنظیمیں اور شخصیتیں اپنے قابو سے باہر ہوگئیں ۔ انھیں ایسا لگا کہ ہندوستان میں ہندو راج قائم ہوجائے گا لیکن عقل کے ان اندھوں کو اندازہ نہیں کہ اس ملک میں گنگا جمنی تہذیب اور رواداری کی بنیادیں بہت مضبوط ہیں ۔ ان بنیادوں کو جہاں ہندوؤں کے خون نے استحکام بخشا وہیں مسلمانوں کی قربانیوں نے اسے مضبوط سے مضبوط تر بنایا ، اسی طرح سکھوں ، عیسائیوں غرض ہر شہری نے اپنے وطن کو سجانے سنوارنے اور اسے آگے بڑھانے میں ہم رول ادا کیا ۔ لیکن بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ سب کا ساتھ سب کا وکاس کے نعرہ پر اقتدار حاصل کرنے والی مودی حکومت نے سب کا ساتھ سب کا وکاس کے نعرہ کو فراموش کرکے ’’ہندوتوا کا وکاس دوسروں کا ویناش‘‘ (ہندوتوا کی ترقی اور دوسروں کی تباہی) جیسے نعرہ کو اپنایا گیا ۔ مودی حکومت میں ملک کی تکثیری تہذیب ہندو مسلم اتحاد اور ہندوستانی معاشرہ کی علامت صبر و تحمل ایثار اور رواداری کو جو نقصان پہنچا ہے شاید آزادی کے بعد اتنا نقصان کبھی نہیں پہنچا ہوگا ۔ جیسا کہ ہم نے سطور بالا میں لکھا ہے کہ اس حکومت میں حب الوطنی ، ملک دشمنی ، رواداری ، ترقی اور انصاف کے معنی و مطالب بدل گئے ہیں اس کا اندازہ ہر محب وطن ہندوستانی بخوبی لگا سکتا ہے ۔ آج ملک میں برسراقتدار بی جے پی نے اپنی سرپرست تنظیم آر ایس ایس اور اسکی ذیلی تنظیموں جیسے وی ایچ پی ، بجرنگ دل ، رام سینا کے علاوہ کئی سیناؤں کو دوسروں پر اپنا فاسشٹ نظریات تھوپنے کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے ۔

ملک میں فی الوقت صورتحال اس قدر بھیانک ہوگئی ہے کہ اگر آپ حکومت ، پولیس اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں گے تو آپ کا شمار ملک کے غداروں میں ہوجائے گا ۔ اگر آپ دلتوں ، مسلمانوں اور سماج کے دیگر محروم طبقات کے دستوری حق اور مساوات کی بات کریں گے تو آپ غدار کہلائیں گے ۔ اگر کوئی حب الوطن ہندوستانی ادیب و شاعر حکومت اور اس کے ذمہ داروں کو ہندوتوا کے نظریہ کے دوسروں پر تھوپنے یا ملک میں ہر شعبہ کو زغفرانی رنگ دینے کے خلاف انتباہ دے گا تو اس کے سینے میں گولیاں اتاردی جائیں گی  ۔ اس طرح آج کی سنگین صورتحال میں کوئی اپنی پسند کا کھانا یا گوشت کھائے گا تو اسے اس کے گھر میں گھس کر قتل کردیا جائے گا جس طرح محمد اخلاق کے ساتھ کیا گیا۔ حد تو یہ ہے کہ ہندوتوا کے ٹھیکیداروں کی مودی حکومت میں اس قدر ہمت بڑھ گئی ہے کہ وہ ٹرینوں اور بسوں میں بھی مسلم مسافروں کے ٹفن اور توشہ دانوں کی یہ دیکھنے کیلئے تلاشی لے رہے ہیں کہ کہیں اس میں بڑا گوشت تو نہیں ۔ مودی حکومت میں صرف اور صرف اقلیتوں اور دلتوں میں مختلف بہانوں سے خوف پیدا کیا جارہا ہے ۔ ان میں دہشت پیدا کی جارہی ہے ۔ ان کے تعلیمی اداروں کا اقلیتی موقف ختم کرتے ہوئے ان کی شناخت مٹانے کی کوششیں ہورہی ہیں ۔ اقتدار کے ایوانوں میں ان کی تباہی و بربادی کے منصوبہ بنائے جارہے ہیں ۔ اگر 21 ماہ کے دوران مودی حکومت کے مظاہرہ کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اس حکومت میں تعمیری کام بہت کم ہوئے یہ اور بات ہے کہ بے شمار اسکیمات ، پروگرامس اور پراجکٹس کے صرف اعلانات کئے گئے اس کے برعکس تخریبی کام بہت زیادہ ہوئے ۔ حکومت اور ہندوتوا کے عفریت کے حلاف آواز اٹھانے پر کرناٹک یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر اور دانشور ایم  ایم گلبرگی کو دن دھاڑے گولیاں ماری گئیں  ۔ان کے قتل پر جب عوام نے آواز اٹھائی تو جواب دیا گیا کہ کلبرگی نے ہندو بنیاد پرستوں پر تنقید کی تھی  ۔ اسی طرح مہاراشٹرا میں عوام کو توہم پرستی سے روکنے پر نریندر دھابولکر اور 81 سالہ گویند پنسارا کو گولیوں سے بھون دیا گیا ۔ بی جے پی ارکان پارلیمان اور مودی کے کابینی رفقاء نے ایک منصوبہ بند انداز میں مسلمانوں اور عیسائیوں کو نشانہ بنایا ۔ ہندوتوا کے حامی درندوں نے 70 سالہ ضعیف راہبا کو تک نہیں بخشا ۔ زندگی کے اس حصہ میں اسے داغ دار کردیا حد تو یہ ہے کہ دارالحکومت دہلی اور ملک کے دوسرے علاقوں میں گرجا گھروں کو آگ لگادی گئی ۔ عیسائی مشنری اسکولوں پر حملے کئے گئے ۔ لو جہاد کے نام پر فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کی ہندوتوا تنظیموں کو کھلی چھوٹ دی گئی ۔ لو جہاد کے نام پر انھیں مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف دیگر ابنائے وطن میں غلط فہمیاں پیدا کرنے کا موقع فراہم کیا گیا ۔ مودی حکومت دل کھول کر ہندوتوا فورس کی مدد کررہی ہے ۔

گھر واپسی پروگرام بھی اس کی بدترین مثال ہے ۔ گھر واپسی کے نام پر ہندوتوا کے حامیوں نے غریب مسلمانوں اور عیسائیوں کو یہ کہتے ہوئے ہندو بنانے کی کوشش کی کہ ان کے آبا و اجداد ہندو تھے لہذا انھیں اپنے آبا و اجداد کے مذہب میں واپس آجانا چاہئے لیکن جب ملک و بیرون ملک حکومت کی بدنامی ہونے لگی تب حکومت مجبوراً اور دکھاوے کے طور پر حرکت میں آکر اس دکنی محاورہ ’’میں مارے ویسا کرتوں تو روئے ویسا کر‘‘ پر عمل کیا ۔ نتیجہ میں غریب مسلمانوں اور عیسائیوں کو گھر واپس لینے والے بالکل اسی طرح اپنے گھر واپس ہوگئے جس طرح درندے کسی انسان کو دیکھ کر دم دبائے جنگل کی کسی کونے میں چلے جاتے ہیں ۔ گھر واپسی کے نام پر ہندوتوا طاقتوں کی شرپسندی ختم ہی نہ ہوئی تھی کہ بی جے پی کے سادھو اور سادھویوں کو مسلمانوں کی بڑھتی آبادی اور آبادی میں اضافے سے متعلق ان کی خداداد صلاحیتوں پر حسد ہونے لگا ۔ مسلمانوں کی آبادی کو بھی بہانہ بنا کر ملک میں فسادات بھڑکانے کی کوشش کی گئی  ۔مودی حکومت نے عوام کی ترقی اور امن و امان کو یقینی بنانے فرقہ وارانہ فسادات کے ملزمین کی سرکوبی کی بجائے انھیں وزارت میں شامل کرتے ہوئے انعام و اکرام سے نوازا ۔ اترپردیش کے مظفر نگر میں مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا ۔ ہندوستانی تاریخ کے بھیانک فسادات میںسے ایک اس فساد میں ملوث سنجے بلیان کو مرکزی وزیر بنایا گیا ۔ ان تمام واقعات نے ساری دنیا میں ہندوستان کی شبیہ متاثر کرکے رکھ دی ہے ۔ فی الوقت جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے طلبہ یونین کے صدر کنہیا کمار کی گرفتاری کے ذریعہ ایک نیا تنازعہ کھڑا کیا گیا ہے ۔اس واقعہ سے قبل بی جے پی کی طلبہ ونگ اے بی وی پی کی شرپسندی ، مرکزی وزیر بنڈارو دتاتریہ اور بی جے پی کے قائدین کی ایما پر مرکزی وزیر فروغ انسانی وسائل سمرتی ایرانی کی مداخلت کے باعث یونیورسٹی آف حیدرآباد میں ایک دلت ریسرچ اسکالر روہت چکرورتی ویمولا نے یونیورسٹی کیمپس میں خودکشی کرلی لیکن اس ہونہار طالبعلم کی ماں کاد عوی ہے کہ ان کے بیٹے نے خودکشی نہیں کی بلکہ اس کا قتل کیا گیا اور اس کا قتل صرف اور صرف اس کے دلت ہونے کے باعث کیا گیا ہے ۔ روہت کا جرم یہی تھا کہ اس نے یعقوب میمن کو پھانسی دیئے جانے پر احتجاج کیا تھا اور ملک میں سزائے موت برخواست کرنے کی وکالت کی تھی ۔ روہت دلت مسلم اتحاد کے حق میں بھی تھا ۔ یہ بات اے بی وی پی کو اس قدر بری لگی کہ چند دنوں میں ہی روہت کی پراسرار حالت میں موت ہوگئی ۔

تقریباً 1000 ایکڑ اراضی پر پھیلے یونیورسٹی آف حیدرآباد کے کیمپس میں اے بی وی پی اپنی من مانی کرنا چاہتی ہے لیکن دلت طلبہ اس کے ناپاک عزائم میں ایک چٹان کی طرح حائل ہوگئے ۔ روہت کی موت پر سارے ملک میں زبردست ہنگامہ ہوا ۔ دلتوں کو یہ احساس ہونے لگا کہ مودی حکومت اور اس کی سرپرست تنظیم آر ایس ایس یا سنگھ پریوار کو دلتوں کی ترقی سے کچھ لینا دینا نہیں بلکہ وہ دلتوں اور دیگر کمزور طبقات کو سرے سے ہی انسان نہیں سمجھتے ۔ قومی و عالمی سطح پر روہت ویمولا کی موت کے مسئلہ پر بی جے پی حکومت کی بہت بدنامی ہوئی اور اس کا سلسلہ جاری تھا تاہم عوام کی توجہ اس مسئلہ سے ہٹانے کیلئے جے این یو طلبہ یونین کے صدر کنہیا لال کو ملک سے غداری کے الزام میں گرفتار کیا گیا ۔ ان پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انھوں نے یونیورسٹی کیمپس میں پارلیمنٹ حملہ کیس میں سزائے موت پاچکے افضل گرو کی برسی منائی ، حکومت کے خلاف اور کشمیریوں کے حق میں نعرے لگائے ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کوئی کسی کو پھانسی دئے جانے کے خلاف اظہار خیال کرتا ہے یا اس کی مذمت کرتا ہے تو وہ ملک کا غدار ہوجاتا ہے لیکن جب ہندوتوا کے حامی بابائے قوم مہاتما گاندھی کے قاتل ناتھورام گوڈسے کی سالگرہ اور برسی مناتے ہیں تو وہ حکومت کے ماتھے پر شکن تک نہیں آتی حالانکہ ناتھورام گوڈسے جو بلاشبہ ہندوستان کا پہلا دہشت گرد ہے ، اسے پاکستان کی عدالت نے نہیں بلکہ ہندوستان کی عدالت نے سزائے موت سنائی تھی ۔ اگر یعقوب میمن اور افضل گرو کی پھانسی کے خلاف آواز اٹھانا غداری ہے تو پھر ناتھورام گوڈسے کی سالگرہ اور برسی منانے والے کیا محب وطن ہیں ؟ ہمارے ملک میں ایک بات سچ ہے کہ جو بھی آر ایس ایس اور بی جے پی کے خلاف اظہار خیال کرے گا یا ان کے نظریات سے متفق نہیں اس پر غداری کا لیبل چسپاں کردیا جاتا ہے ۔ حالانکہ غدار وہ ہیں جو مذہب ، ذات پات اور علاقہ کی بنیاد پر ملک کے امن و امان میں خلل پیدا کرتے ہیں ۔ اس کی ترقی کے عمل کے متاثر ہونے کا باعث بنتے ہیں ۔ سرکاری اور خانگی املاک تباہ کرتے ہیں ۔ جہاں تک جے این یو واقعہ اور کہنیا لال کمار کی گرفتاری کا معاملہ ہے یہ دراصل روہت چکرورتی ویمولا کی موت سے پیدا شدہ دھماکو صورتحال اور دلتوں میں پیدا ہوئی برہمی کو روکنے کیلئے پیدا کی گئی ہے  لیکن شاید سنگھ پریوار کو اندازہ نہیں تھا کہ ہندوستان تو ہندوستان ساری دنیا کہنیا کمار کے حق میں اٹھ کھڑی ہوگی ۔ کنہیا کمار کی گرفتاری کے خلاف ایمنسٹی انٹرنیشنل سے لیکر دنیا کے ماہرین تعلیم اور دانشوروں نے آواز اٹھائی ہے  ۔دنیا کے 133 باوقار جامعات سے تعلق رکھنے والے پروفیسروں اور دانشوروں نے مودی حکومت پر ملک میں آمرانہ لعنت کے کلچر کو فروغ دینے کا الزام عائد کیا ۔ ان میں دنیا کے نامور دانشور اور میسوچیسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی امریکہ کے پروفیسر امریطس نوم چومسکی اور ترکی سے تعلق رکھنے والے نوبل لاریٹ اورخان باموق بھی شامل ہیں ۔ بہرحال ان تمام واقعات کا بغور جائزہ لیا جائے تو بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ مودی حکومت اپنی خامیوں و کوتاہیوں اور ناکامیوں کو چھپانے کیلئے اس طرح کے واقعات کو پوری شدت کے ساتھ منظر عام پر لارہی ہے  ۔اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہمیں ہریانہ کا تازہ ترین واقعہ بھی دکھائی دے رہا ہے جہاں جاٹوں نے تحفظات کا مطالبہ کرتے ہوئے پرتشدد احتجاج شروع کردیا ۔ جاٹوں نے پولیس پر دیسی ساختہ اسلحہ سے فائرنگ کی ۔ حکومت نے چند گھنٹوں میں وہاں فوج طلب کرلی ۔ کئی شہروں میں کرفیو نافذ کردیا گیا اور دیکھتے ہی گولی ماردینے کا حکم دیاگ یا ہے ۔ صرف ایک دن میں جاٹوں نے سرکاری و خانگی املاک نذر آتش کردی ۔ حمل  و نقل کا نظام ٹھپ ہو کر رہر گیا ہے ۔ اس سے ہزاروں کروڑ کا نقصان ہوا ۔ اب پتہ نہیں تباہی و بربادی کے اس طوفان کو روکنے ہریانہ کی بی جے پی حکومت یا سنگھ پریوار کونسا نیا تنازعہ چھیڑتی ہے ۔ کیونکہ تقریباً 21 ماہ سے یہ لوگ ایک مسئلہ سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے دوسرا مسئلہ پیدا کرتے جارہے ہیں ۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT