Thursday , August 17 2017
Home / اداریہ / انصاف و قانون

انصاف و قانون

پھر میری خامشی نے فسانہ سنادیا
پھر میرے ضبط دَرد نے رسوا کیا مجھے
انصاف و قانون
قانون و انصاف جب اپنا کام انجام دیتے ہیں تو شہریوں میں تحفظ کا احساس قوی ہوجاتا ہے مگر جب قانون کی نگہبانی کرنے والے دوہرا معیار یا جانبدارانہ موقف اختیار کرکے کاروائیاں کرتے ہیں یا فیصلے جاری کرواتے ہیں تو اس سے سماج کے اندر ایک طرح سے امتیازی اور متعصبانہ سوچ کو فروغ ملتا ہے ۔ ہندوستان میں دہشت گرد حملوں کے واقعات میں ہر طبقہ سے تعلق رکھنے والے گمراہ افراد ملوث ہوتے ہیں ۔ ان واقعات کے سلسلہ میں گرفتار ہونے والوں پر جب مقدمہ بازی ہوتی ہے تو یہاں ’’منہ دیکھی ‘‘ بات کو ترجیح دی جائے تو پھر انصاف کا توازن مشکوک بنادیا جاتا ہے ۔ یہ بہت خوش آئند بات ہے کہ ہندوستان کے قانون ، تحقیقی اور سلامتی کے اداروں نے اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی نبھایا ہے اور ان پر عوام الناس کو کامل ایقان بھی ہے ۔ قومی تحقیقاتی ایجنسی ( این آئی اے ) نے ملک میں کئی دہشت گرد واقعات کی تحقیقات کی ہیں کئی مجرموں کو گرفتار کیا ہے ۔ اس طرح حیدرآباد کے دلسکھ نگر میں فبروری 2013 ء کو ہوئے دہشت گرد حملہ میں انڈین مجاہدین کے 5 کارکنوں کو سزائے موت کے اعلان کا ہر امن پسند شہری نے خیرمقدم کیا ہے ۔ ممنوعہ تنظیم انڈین مجاہدین کی طرح اس ملک میں دیگر تنظیمیں مختلف ناموں سے کام کررہی ہیں مگر ان کے معاملہ میں حکومت وقت اور قانون کے رکھوالوں کا عملی مظاہرہ جب مختلف دکھائی دیتا ہے تو یہ ملک کے ایک گوشے سے وابستہ عوام کو تشویش میں مبتلا کردیتا ہے ۔ بلاشبہ ہر شخص کا مستقبل اپنے ملک سے جڑا ہوتا ہے ۔ ملک میں امن و امان ترقی دراصل انفرادی امن و ترقی بھی ہوتی ہے اس کا مجموعی عوامی فائدہ بھی ہوتا ہے ۔ اس لئے ملک کے معاملہ میں کوئی بھی فیصلہ یا کام عوام کے حق میں اور ملک کی بہتری کے لئے ہونا چاہئے ۔ جن تنظیموں کو بعض بڑی طاقتوں نے خفیہ طورپر قائم کر رکھا ہے ان کے خلاف کارروائی قیام امن کیلئے ضروری ہوتی ہے ۔ انڈین مجاہدین کو ممنوعہ قرار دیئے جانے کے بعد یہ بات شدت سے نوٹ کی گئی تھی کہ ہندوستان کی دیگر تنظیموں پر بھی پابندی عائد کی جانی چاہئے لیکن جس تنظیم کا تعلق ایک طاقتور گروپ سے ہوتا ہے یا سماج کے بڑے طبقہ کی حمایت حاصل ہوتی ہے تو اسے بُرا سمجھنا معیوب قرار دیا جاتا ہے ۔ دہشت گردی کے واقعات میں ایسی تنظیمیں شامل ہونے کا جب نام نمودار ہوتا ہے تو اسے ایک معنی خیز بہانہ دے کر دبادیا جاتا ہے ۔ دہشت گرد تنظیموں کے کارکنوں نے ملک کے مختلف حصوں میں امن کو درہم برہم کرنے کی کوشش کی ہیں۔ ماضی میں جو واقعات رونما ہوئے ہیں ان کی تفصیلات اور تحقیقاتی رپورٹس حکومت اور نظم و نسق کے ذمہ داروں کے پاس محفوظ ہوتی ہیں لیکن جب کسی دہشت گرد حملے میں ایک خاص ٹولے اور گروپ کے ملوث ہونے کا پتہ چلتا ہے تو اس واقعہ کی تحقیقاتی کارروائیوں کا رُخ ہی موڑ دیا جاتا ہے ۔ ملک میں دلسکھ نگر بم دھماکہ کی طرح دیگر دھماکے بھی ہوئے ہے ان دھماکوں میں ملوث تنظیموں اور ان سے وابستہ کارکنوں کو انصاف کے کٹہرے میں لاکر سزا دینے کا عمل مفقود ہوتا ہے تو پھر انصاف کا حصول ذومعنی ہوجاتا ہے ۔ مکہ مسجد بم دھماکہ ، اجمیر بم دھماکہ ، سمجھوتہ ایکسپریس دھماکہ اور مالیگاؤں دھماکے یا گجرات فسادات ، بابری مسجد شہادت کیس اسی طرح کئی ایسے واقعات میں ملوث افراد کو سزائے موت دینے اور جیل کے اندر عمرقید گذارنے کا فیصلہ دینے میں جو کوتاہیاں کی جاتی ہیں اس سے کئی سوال اُٹھتے ہیں مگر ان سوالات کے اُٹھنے کو بھی جب اہمیت نہیں دی جاتی ہے تو پھر آنے والا دن عوام کے ایک خاص طبقہ میں احساس عدم تحفظ کو قوی کرتا ہے ۔ دلسکھ نگر بم دھماکہ میں ملوث نوجوانوں پر الزام ثابت کیا گیا تھا کہ انھوں نے 21 فبروری 2013 ء کو دو بم دھماکے کئے گئے جس میں 18 افراد ہلاک اور 131 زخمی ہوگئے تھے ۔ ان نوجوانوں کو این آئی اے کی خصوصی عدالت نے سزائے موت کا اعلان کیا ۔ اس سزا کا فیصلہ سن کر ان نوجوانوں نے جب کمرہ عدالت میں اپنے چہرے پر کسی خوف و حیرانی کا تاثر ظاہر ہونے نہیں دیا تو اس کے کئی معنی اخذ کئے جاسکتے ہیں ۔ ان نوجوانوں کے حق میں قانونی امداد اور ان کی بے گناہی کو ثابت کرنے کی کوشش بھی اس لحاظ سے کمزور تھیں کیوں کہ جرم کی مخالفت کرنے کا مزاج قوی تر تھا ۔ یہی مزاج دیگر زعفرانی تنظیموں کے حامی افراد میں دکھائی نہیں دیتا ۔ اس سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا دراصل اس ملک میں اختیارات کا ناجائز فائدہ اُٹھانے والوں کو ہی برتری حاصل ہوتی رہے گی ، کیا بطور ہندوستانی شہری ان پر یہ فرض عائد نہیں ہوتا ہے کہ وہ دہشت گرد واقعات میں ملوث تنظیموں اورافراد کے ساتھ بھی ایسا ہی معاملہ کرنے کیلئے زور دیں جس طرح انڈین مجاہدین کے کارکنوں کے ساتھ کیا گیاہے ۔ دلسکھ نگر واقعہ اور عدالتی کارروائی کی سماعت کے دوران عدالت کانظم بہتر رہا اور یہ فیصلہ غیرضروری طوالت کا شکار نہیں بنا ۔ ایسے ہی واقعات کے دیگر مقدمات کو بھی طوالت دینے سے گریز کرکے خاطیوں کے خلاف جلد سے جلد فیصلہ سنائے تو ہی انصاف کے تقاضہ کی تکمیل سمجھی جائے گی ۔

TOPPOPULARRECENT