Wednesday , September 20 2017
Home / مضامین / انصاف پسندادیبوں کو سلام

انصاف پسندادیبوں کو سلام

محمد ریاض احمد
سال 2014 کے عام انتخابات میں نریندر مودی کی زیر قیادت بی جے پی کی کامیابی کے ساتھ ہی ملک و بیرون ملک جمہوریت اور سیکولرازم کے حامیوں میں یہ خدشات پائے جارہے تھے کہ کہیں آر ایس ایس کے اس سیاسی ونگ (بی جے پی) کے ذریعہ ہندوستان کو ہندو ملک تو نہیں بنایا جائے گا ؟ یہ خدشہ ایک طرح سے سنگین سوال تھا جس کے جواب کیلئے ہندوستان کے ماضی کو ٹٹولنا ضروری ہوگیا تھا ۔ ساتھ ہی قوم پرستی کے نام پر مذہبی منافرت پھیلانے والی تنظیموں اور جماعتوں کی تخریبی فطرت کی تاریخ کا جائزہ لینا بھی ناگزیر تھا تاہم پچھلے 17 ماہ کے دوران ملک کی جو صورتحال ہے اسے دیکھ کر یہ کہا جاسکتا ہے کہ موجودہ حالات ہمارے جنت نشان ملک اور اس کے عوام کے حق میں بہتر نہیں ہیں ۔ ہمارے وطن عزیز کے کونے کونے میں قوم پرستی کے نام پر جس طرح مذہبی منافرت پھیلائی جارہی ہے ، لوگوںکو مذہب کے نام پر تقسیم کیا جارہا ہے ، لو جہاد کی ہلاکت خیز مہم کے ذریعہ بھولے بھالے ہندوؤں کے ذہنوں میں عداوت کا زہر بھرا جارہا ہے  ، گھر واپسی کے عنوان پر غریب مسلمانوں اور عیسائیوں پر ہندومت قبول کرنے کیلئے دباؤ ڈالا جارہا ہے ، گاؤ کشی کے بہانے لاکھوں مسلمانوں کو روزگار سے محروم کیا جارہا ہے اور افواہیں پھیلا کر انھیں جس طرح سے قتل کیا جارہا ہے ، مساجد ، گرجا گھروں پر حملے کئے جارہے ہیں ، بلوائی مسلم اور عیسائی لڑکیوں و خواتین کی عصمت ریزی کررہے ہیں ، غرض اقلیتوں کے جان و مال اور آبرو کو لوٹا جارہا ہے ایسے میں وزیراعظم نریندر مودی کے بعض کابینی رفقاء ، ارکان پارلیمنٹ اور بی جے پی کے ارکان اسمبلی کے علاوہ سنگھ پریوار کی ذیلی تنظیموں جیسے وی ایچ پی ، بجرنگ دل وغیرہ کے قائدین  اقلیتوں کے خلاف زہر اگلتے ہوئے ہندوؤں کو ان پر حملوں کیلئے اکسارہے ہیں ۔ سب سے بڑھ کر فرقہ پرستوں کی ان ملک دشمن حرکتوں کے باوجود قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں بالخصوص پولیس نے جو مجرمانہ خاموشی اختیار کی ہے اسے دیکھ کر کوئی بھی ذی ہوش اور ذی حس ہندوستانی یہ کہہ سکتا ہے کہ ہندوستان کو ہندو راشٹرا بنانے کی پوری پوری کوششیں کی جارہی ہیں لیکن ملک میں نراج اور بے چینی کی کیفیت پیدا کرنے والی طاقتوں کویہ اچھی طرح جان لینا چاہئے کہ ان کی حرکتوں سے کسی کا بھلا ہونے والا نہیں ہے ۔ ہندوستان اپنی متنوع اور گنگا جمنی تہذیب و رواداری ، مذہبی و فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے باعث ساری دنیا میں اپنی ایک منفرد پہچان رکھتا ہے ۔ دنیا میں ہمارے ملک کو گاندھی جی کے نظریہ عدم تشدد کیلئے جانا جاتا ہے ۔ سارے عالم میں اس کی شناخت ہندو مسلم اتحاد کے ذریعہ کی جاتی ہے ۔ یہ سرزمین رام رحیم کی سرزمین ہے ۔ گوتم ، نانک اور چشتی کی زمین ہے ۔ دنیا کی یہ واحد سرزمین ہے جہاں مساجد کی بلند و بالا میناروں سے اذانیں گونجتی ہیں ۔ مندروں سے ناقوس (شنکھ) کی آوازیں بلند ہوتی ہیں ، وہاں بجنے والی گھنٹیاں کسی کیلئے ماحول میں ایک عجیب قسم کے سرور کا احساس دلاتی ہیں ۔ گرجا گھروں میں بجنے والی گھنٹے لوگوں میں محبت کا پیام دیتے ہیں اور گردواروں سے گرونانک کا پیام محبت عام ہوتا ہے ۔ اس جنت نشان ملک میں محبت اور امن و امان کے سوا کوئی اور نظریہ پنپ نہیں سکتا ۔ یہ وہی ملک ہے جس کی آزادی کیلئے جہاں ہندوؤں نے بے شمار قربانیاں دی ہیں وہیں مسلمانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے اس خوبصورت چمن کی اپنے لہو سے آبیاری کی ہے ۔ تب ہی تو سرزمین ہند پر لہلہاتے کھیتوں ، بہتی ندیوں ، سمندر کی ٹھاٹھیں مارتی موجوں ، دریاؤں کی بلند ہوتی لہروں ، اس کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے جنگلات ، پروقار انداز میں دعوت نظارہ بلکہ پھول اور پھل دینے والے درختوں ، ماحول پر رعب جمائے باادب کھڑے بلند و بالا پہاڑوں ، غرض اس کے ذرہ ذرہ سے قومی یکجہتی ، اتحاد و اتفاق ، باہمی محبت و مروت ، جذبہ رحمدلی  ، ایثار و خلوص اور ان سب کے مجموعہ ’’جذبہ انسانیت‘‘ کی خوشبو سارے ماحول کو معطر کرتی ہے ۔

اگر اس ماحول میں مٹھی بھر شرپسند فرقہ پرستی کی گندگی پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں تو اس سے سارے چمن پر زیادہ اثر نہیں پڑتا کیونکہ ہندوستان جیسے عظیم ملک کو اس طرح کے حالات کا ماضی میں بھی سامنا کرنا پڑا اور اُس وقت بھی فرقہ پرستوں کو منہ کی کھانی پڑی تھی ۔ اگرچہ ہندوستان اور ہندوستانیوں میں اتنی طاقت ہے کہ وہ ملک کو مذہب کے نام پر تباہ کرنے والی کوششیں ناکام بناسکتے ہیں لیکن یہ کوششیں اگر ملک میں موجود عناصر کریں تو یہ سب سے خطرناک بات ہوتی ہے بلکہ اسے ملک کیلئے ایک المیہ اور سانحہ کہا جاسکتا ہے ۔ ہندوستان ایک عظیم جمہوری اور سیکولر ملک ہے ، انسانیت ، محبت ، مروت ، رواداری اس کی بنیادیں ہیں ۔ سطور بالا میں جیسا کہ ہم نے لکھا کہ نریندر مودی حکومت کے اقتدار میں ان کے ساتھ ہی ملک و بیرون ملک محبان وطن نے ملک کے سیکولر اور جمہوری کردار کو نقصان پہنچائے جانے کے خدشات ظاہر کئے تھے ۔ موجودہ حالات میں وہ خدشات ایسا لگتا ہے کہ درست ثابت ہورہے ہیں لیکن ہمیں اب بھی یقین ہے کہ ہندوستان اورہندوستانی مذہب ، ذات پات ، رنگ و نسل اور علاقہ واریت کے نام پر نقصان پہنچانے کے خواہاں عناصر کے ناپاک عزائم کو کبھی کامیاب ہونے نہیں دیں گے  ۔ امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے ہر سال کی طرح اس سال بھی عالمی رپورٹ برائے مذہبی آزادی 2014 جاری کی ہے جس میں بی جے پی حکومت اور اس کی سرپرست آر ایس ایس کی جانب سے ہندوستان کو مذہبی بنیادوں اور فرقہ وارانہ خطوط پر تباہی و بربادی کی راہ پر ڈھکیلنے کے خدشات ظاہر کئے گئے ہیں ۔ رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ حالیہ عرصہ کے دوران ہندوستان میں مذہبی بنیادوں پر کئے جانے والے قتل لوٹ مار فسادات ، گرفتاریوں ، مظالم ، جبری مذہبی تبدیلی کے واقعات مسلسل پیش آرہے ہیں اور بعض واقعات میں پولیس فرقہ وارانہ تشدد پر موثر انداز میں قابو پانے میں ناکام رہی ۔

امریکی کانگریس کی سالانہ رپورٹ میں جس کی چہارشنبہ کو امریکی سکریٹری آف اسٹیٹ (وزیر خارجہ) جان کیری کے ہاتھوں اجرائی عمل میں آئی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے کہا کہ ہندوستان میں چند سرکاری عہدہ داروں (کابینی وزراء) نے مذہبی اقلیتوں کے خلاف مذہبی امتیاز پر مبنی بیانات جاری کئے۔ رپورٹ میں واضح انداز میں کہا گیا کہ بعض واقعات میں مقامی پولیس فرقہ وارانہ تشدد پر موثر طور پر قابو پانے میں ناکام رہی ۔ حالانکہ مقامی انتظامیہ نے مذہب پر مبنی تشدد کو پھیلنے سے روکنے پولیس اور سیکورٹی فورس کی تعنیاتی عمل میں لائی ۔ امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ مئی 2014 سے سال کے اواخر تک 800 سے زائد مذہبی منافرت پر مبنی حملوں کے واقعات پیش آچکے ہیں ۔ رپورٹ میں سادھوی نرنجن جیوتی کی جانب سے دہلی کی ایک انتخابی ریالی میں کئے گئے فحش تبصرہ کا بھی حوالہ دیا گیا ۔ امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے رپورٹ میں یہ بھی کہہ دیا کہ ہندوستان میں مذہب کی بنیاد پر اظہار خیال کی آزادی پر پابندی ہے ۔ رپورٹ میں اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے واضح طور پر یہ بھی کہا کہ 1984 مخالف سکھ فسادات اور 2002 گجرات فسادات کے متعدد مقدمات عدالتوں میں زیر التوا ہیں ۔ 2002 گجرات فسادات کے بارے میں ناناوتی ۔ مہتا کمیشن نے 18 نومبر کو اپنی قطعی رپورٹ جاری کی لیکن غیر سرکاری تنظیموں نے اسے جانبداری پر مبنی قرار دیا ۔ رپورٹ میں راہباؤں کی عصمت ریزی اور کشمیری پنڈتوں پر شورش پسندوں کے ناروا سلوک کا بھی تذکرہ کیا گیا ۔ اگر ہندوستان کے موجودہ حالات پر غور کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ نام نہاد ہندو قوم پرست چاہتے ہیں کہ مسلمان اور عیسائی ہندوستان کو ایک ہندو مملکت کے طور پر تسلیم کریں ۔ ہندو راشٹرا کے منصوبہ کو قطعیت دینے کی خاطر ہی آر ایس ایس اور اس کی ذیلی تنظیمیں اپنی سیاسی ونگ بی جے پی کو ہندوستان کی زیادہ سے زیادہ ریاستوں میں اقتدار دلانے کی خواہاں ہیں ۔ اس ضمن میں سنگھ پریوار کی نظریں ریاست مغربی بنگال پر مرکوز ہیں اور سنگھ پریوار کے کھیل کا اصل نشانہ فی الوقت ممتا بنرجی کی ریاست بنی ہوئی ہے ۔ فرقہ پرستوں کی یہ حکمت عملی ہیکہ زیادہ سے زیادہ ریاستوں میں بی جے پی کو اقتدار دلایا جائے ۔ سنگھ پریوار کا سوچنا ہے کہ مغربی بنگال جیسی ریاست پر اگرچہ بی جے پی کا قبضہ ہوتا ہے تو مودی حکومت کو ایوان بالا راجیہ سبھا میں اکثریت حاصل ہوجائے گی جس کے بعد وہ کلیدی پالیسیوں کے بارے میں بآسانی فیصلہ کرسکیں گے۔ راجیہ سبھا میں بی جے پی اقلیت میں ہے ۔ اسے اپنی من مانی کیلئے آئندہ چار برسوں میں 31 ریاستی اسمبلیوں میں سے کم از کم 20 اسمبلیوں میں اکثریت حاصل کرنی ہے ۔

ایک بات ہندوستان کے لئے بہت اہم ہے وہ یہ کہ ہمارا ملک کثرت میں وحدت کی بہترین مثال ہے ۔ اس ملک میں اقلیتوں پر مظالم ان کے ساتھ روا رکھی جانے والی ناانصافیوں پر کوئی آواز اٹھاتے ہیں تو ہمارے انصاف پسند ہندو بھائی اور بہنیں ہیں ۔ دادری سانحہ پر جہاں ایک مسلمان کو بیف کھانے کا الزام عائد کرتے ہوئے قتل کیا گیا اور مہاراشٹرا اور کرناٹک میں 3 معقولیت پسند ادیبوں کے بہیمانہ قتل پر احتجاج کرتے ہوئے مختلف زبانوں کے 20 سے زائد ادیبوں نے اپنے ساہتیہ اکیڈیمی ایوارڈس واپس کردئے ۔ ان میں پنڈت جواہر لال نہرو کی بھانجی نین تارا سہگل ، اشوک واجپائی ، سارہ جوزف ، گربچن بھلر ، اجمیر سنگھ الوک ، آتما جیت سنگھ ، راجش جوشی کے بشمول کئی غیر مسلم ادیب و شاعر شامل ہیں ۔ جبکہ گجرات فسادات میں خاطیوں کو بے نقاب کرنے کی تگ و دو کرنے والوں میں تیستا سیتلواد ، ہرش وردھن اور سنجیو کمار بھٹ سرفہرست ہیں ۔ جن کی انصاف پسندی ، حق گوئی اور حب الوطنی کیلئے ہم انھیں سیلوٹ کرتے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT