Thursday , August 17 2017
Home / کھیل کی خبریں / انضمام کا افغانستان کی کوچنگ کیلئے ایک سالہ معاہدہ

انضمام کا افغانستان کی کوچنگ کیلئے ایک سالہ معاہدہ

سابق پاکستانی کپتان کا آج دورۂ کابل ۔ مقامی ٹی ٹوئنٹی ٹورنمنٹ کے مشاہدہ اور بطور افغان ہیڈکوچ پریس کانفرنس کا پروگرام
کراچی ، 11 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان انضمام الحق نے افغانستان کی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ کی حیثیت سے ایک سالہ معاہدہ کر لیا ہے۔ یاد رہے کہ افغانستان نے انضمام الحق کی خدمات زمبابوے کے حالیہ دورے میں بطور ہیڈ کوچ حاصل کی تھیں۔ اس دورے میں افغانستان نے زمبابوے کے خلاف ونڈے اور ٹی ٹوئنٹی سیریز جیتی تھی۔ یہ پہلا موقع رہا کہ افغانستان نے کسی ٹسٹ ٹیم کے خلاف ونڈے اور ٹی ٹوئنٹی سیریز میں کامیابی حاصل کی۔ انضمام نے برطانوی نشریاتی ادارہ کو انٹرویو میں کہا کہ انھوں نے دو روز قبل ہی افغانستان کے ساتھ ایک سالہ معاہدے پر دستخط کردیئے ہیں۔ ’’افغان کرکٹ حکام تین سالہ معاہدے میں دلچسپی رکھتے تھے لیکن میں نے فی الحال ایک سالہ معاہدے کیلئے حامی بھری ہے تاکہ میں بھی بحیثیت کوچ اپنی کارکردگی کو اچھی طرح جانچ سکوں کیونکہ کوچنگ میرے لئے نیا تجربہ ہے۔ اگر وہ میری کارکردگی سے مطمئن ہوئے تو اس معاہدے میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے۔‘‘ انضمام الحق کا کہنا ہے کہ افغانستان کی ٹیم کی اصل کوچنگ اسی وقت ہوگی جب وہ میچز نہیں کھیل رہی ہوگی۔ ’’افغانستان کی ٹیم اِن دنوں بہت مصروف ہے۔ اسے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں عمان، ہانگ کانگ اور پاپوا نیوگنی کے خلاف میچز کھیلنے ہیں اور پھر زمبابوے سے بھی اس کی سیریز مقرر ہے۔

ابھی میں کھلاڑیوں کو گیم پلان اور میچز کے بارے میں ہی بتا سکتا ہوں جبکہ ٹیکنیکل کوچنگ اس وقت ہوگی جب ٹیم کو فارغ وقت ملے گا اور یو اے ای میں کیمپ لگایا جائے گا۔‘‘ انضمام الحق کا کہنا ہے کہ چونکہ افغانستان کے بیشتر کھلاڑی اردو سمجھ لیتے ہیں، لہٰذا انھیں بھی کوچنگ کرنے میں آسانی ہو رہی ہے اور رابطے میں کوئی چیز رکاوٹ نہیں بن رہی ہے۔ سابق پاکستانی کپتان انضمام کے مطابق کرکٹ سے جنون افغانستان کی کرکٹ ٹیم کو آگے بڑھا رہا ہے۔ ’’اسے آپ جنگجویانہ صفت کہہ لیں یا فائٹنگ اسپرٹ، افغانستان کی ٹیم مقابلہ کرنا اور آگے بڑھنا چاہتی ہے۔ کھلاڑی سیکھنا چاہتے ہیں اور مجھے ان کے ساتھ کام کرکے مزا آیا ہے۔‘‘ انضمام الحق 12 نومبر کو ایک دن کیلئے کابل جا رہے ہیں جہاں وہ مقامی ٹی ٹوئنٹی ٹورنمنٹ کا فائنل دیکھنے کے علاوہ ہیڈ کوچ کی حیثیت سے باقاعدہ پریس کانفرنس بھی منعقد کریں گے۔ تاہم خانہ جنگی کا شکار ملک جاتے ہوئے وہ کسی قسم کے خوف میں مبتلا نہیں۔ ’’میری فیملی کو اگرچہ اس بارے میں تشویش ہے لیکن میری سوچ واضح ہے۔ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ کابل میں افغانستان کی نیشنل اکیڈمی ہے۔ لہٰذا اگر وہ مجھے وہاں بلاتے ہیں تو مجھے ہیڈ کوچ کی حیثیت سے کسی نہ کسی مرحلے پر وہاں جانا پڑے گا اور میں ذہنی طور پر اس کیلئے تیار ہوں۔‘‘

TOPPOPULARRECENT