Saturday , October 21 2017
Home / Top Stories / انفرادی حقوق پر مذہب کو مسلط نہیں کیا جاسکتا

انفرادی حقوق پر مذہب کو مسلط نہیں کیا جاسکتا

حکومت کا سیکولر موقف ، مسلم پرسنل لا میں تبدیلی کی حمایت : ارون جیٹلی
نئی دہلی ۔ /13 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزیر ارون جیٹلی نے آج کہا کہ کسی انفرادی شخص کے حقوق پر مذہب کو مسلط نہیں کیا جاسکتا ۔ انہوں نے یکساں سیول کوڈ پر کانگریس کے موقف کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ۔ انہوں نے کہا کہ تمام ہندوستانی شہریوں کیلئے یکساں سیول قوانین کی تجویز جس وقت پیش کی گئی تھی اس وقت کانگریس بھی اس کا حصہ تھی ۔ انہوں نے کہا کہ دستور میں ہر انفرادی شخص کو مساویانہ حقوق کی ضمانت دی گئی ہے اور وہ پورے وقار کے ساتھ اپنی زندگی گزارنے کا حق رکھتا ہے ۔ چنانچہ جہاں تک پرسنل لا کا تعلق ہے وہ سمجھتے ہیں کہ اسے دستور کے ذریعہ باقاعدہ بنانا چاہئیے ۔ وزیر فینانس نے کہا کہ پرسنل لا پر عمل نہیں کیا جاسکتا ۔ سب سے الگ آپ کی پہچان نہیں ہوسکتی اور انسانی وقار کے ساتھ سمجھوتہ کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔ پرسنل لا اور اس کے قوانین کا تعلق یقیناً مذہب سے ہے لیکن مذہب کو کسی انفرادی شخص کے حقوق پر مسلط نہیں کیا جاسکتا ۔ انہوں نے کہا کہ طلاق ثلاثہ کے بارے میں حکومت کا حلف نامہ سیکولر پیشرفت ہے اور مذہبی خطوط سے بالاتر ہوکر یہ موقف اختیار کیا گیا ہے ۔ انہوں نے مختلف مذہبی جماعتوں کی حکومت پر نکتہ چینی کو مسترد کردیا ۔

پرسنل لا بورڈ کا موقف شرمناک :وی ایچ پی
٭٭ وشواہندو پریشد نے طلاق ثلاثہ کے مسئلہ پر مسلم پرسنل لا بورڈ اور دیگر اداروں کے اختیار کردہ موقف کو ’’شرمناک‘‘ اور مسلم خواتین کے علاوہ دستور کے خلاف قرار دیا ۔ جوائنٹ جنرل سکریٹری سریندر جین نے ایک بیان میں کہا کہ مسلم پرسنل لا بورڈ نے سپریم کورٹ میں زیرتصفیہ اس معاملے کو سیاسی رنگ دیدیا ہے ۔ انہوں نے اس موقف کی تائید کرنے والی سیکولر جماعتوں پر بھی تنقید کی اور کہا کہ اس سے ان کے مخالف خواتین اور مخالف دستور موقف کا اظہار ہوتا ہے ۔

٭٭ شیوسینانے یکساں سیول کوڈ پر جاری بحث میں شامل ہوتے ہوئے کہا کہ مسلم تنظیمیں لا کمیشن کے سوالنامہ کی محض اس لئے مخالفت کرپارہی ہیں کیونکہ ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے ۔ اگر وہ اسلامی ملک میں ہوتے تو انہیں ایسا کرنے کی ’’جرأت ‘‘ نہ ہوتی ۔ شیوسینا کے ترجمان نیلم گوربے نے کہا کہ ہمارے ملک میں قوانین مذہب کی بنیاد پر بنائے گئے ۔ ماضی میں ہندو اور کیتھولک فرقے سے متعلق قوانین کی جب بھی ضرورت محسوس ہوئی ترمیم کی گئی ۔ مسلم طبقہ کے قوانین میں بھی ترکی ، عراق اور ملیشیا کی طرح ترمیم کی جانی چاہئیے کیونکہ وہاں بھی اسلامی قوانین پر عمل ہوتا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT