Saturday , August 19 2017
Home / Top Stories / اننت ناگ میں امرناتھ یاترا پر دہشت گرد حملہ ،7 یاتری ہلاک

اننت ناگ میں امرناتھ یاترا پر دہشت گرد حملہ ،7 یاتری ہلاک

بزدلانہ حملے سے ہندوستان خوف زدہ نہیں ہوگا ، وزیراعظم نریندر مودی کا حملے پر ردعمل ، جیٹلی اور سونیا گاندھی نے مذمت کی
سرینگر ۔10جولائی ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) اننت ناگ میں آج 8:30 بجے شب دہشت گرد حملے سے 7 یاتری ہلاک ہوگئے جبکہ دیگر 32 افراد زخمی ہیں۔ یہ ریاست جموںو کشمیر میں بدترین دہشت گرد حملوں میں سے ایک ہے ۔ دہشت گردوں نے یاتریوں کی ایک بس پر جو امرناتھ کے درشن کرنے کے بعد واپس ہورہی تھی پہلگام سے تقریباً 50 کیلومیٹر دور ایک تنگ وادی میں اندھا دھند فائرنگ کردی ۔ پانچ خواتین برسرموقع ہلاک ہوگئیں۔ چیف منسٹر محبوبہ مفتی نے اپنے بیان میں کہاکہ یہ ہمارے اقدار اور روایات پر حملہ ہے جو ہمیں بہت عزیز ہیں ، ہم کوئی دقیقہ اُٹھا نہ رکھیں گے تاکہ اس گھناؤنے جرم کے خاطیوں کو انصاف کے کٹھہرے میں کھڑا کریں۔ وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے ٹوئٹر پر پیام تعزیت شائع کرتے ہوئے کہاکہ پرامن امرناتھ یاترا پر جموں و کشمیر میں اس ہولناک حملے سے مجھے ناقابل بیان صدمہ پہونچا ہے ۔انھوں نے کہاکہ اس حملے کی سخت ترین لب و لہجہ میں ہر ایک کی جانب سے مذمت کی جانی چاہئے ۔ ہندوستان ایسے بزدلانہ حملوں سے اور بدی کے نفرت انگیز عزائم سے کبھی حوفزدہ نہیں ہوگا ۔ انھوں نے کہا کہ یہ بس جس پر فائرنگ کی گئی گجرات میں رجسٹرڈ ہے۔ پولیس ذرائع کے بموجب اس نے یاتریوں کے مقررہ قواعد کی خلاف ورزی کی تھی اور صیانتی وجوہات کی بناء پر 7 بجے شام کے بعد بسوں کی نقل و حرکت پر جو امتناع عائد کیا گیا تھا اُس کے بعد بھی سفر جاری رکھا تھا ۔ مبینہ طورپر یہ بس یاترا کے مقررہ اوقات کی خلاف ورزی کی مرتکب تھی جو یاتریوں کے تحفظ کے لئے مقرر کئے گئے ہیں۔ پی ٹی آئی نے کہا کہ دہشت گرد کتنے تھے یہ واضح نہیں ہوسکا ۔ سب سے پہلے تو پولیس کی ایک بکتر بند کار پر فائرنگ کی گئی ۔ گاڑی میں سوار ارکان عملہ نے جوابی فائرنگ کی ، اس کے بعد دہشت گردوں نے یاتریوں پر اندھا دھند فائرنگ کردی۔ بعض دہشت گرد مبینہ طورپر فوجی چوکی پر بھی جو 600 میٹر کی دوری پر واقع ہے حملہ آور ہوئے تھے ۔ سفر کا آغاز عام طورپر جموں سے ہوتا ہے جو امرناتھ سے 200 کیلومیٹر کے فاصلے پر ہے ۔ چالیس دن طویل یاترا جنوبی کشمیر کے پہاڑوں میں امرناتھ کے غار پر اختتام پذیر ہوتی ہے ۔ اس یاترا کا آغاز 28 جون کو جموں سے ہوا تھا ۔ عدیم المثال صیانتی انتظامات کئے گئے تھے ۔ پورے راستے پر تقریباً چالیس ہزار فوجی یاتریوں کی حفاظت کیلئے تعینات کئے گئے تھے ۔ پی ٹی آئی کے بموجب ایک اعلیٰ سطحی پولیس عہدیدار اور دیگر صیانتی عہدیدار سراغ رسانی اطلاعات کی بناء پر چوکسی اختیار کرنے کا انتباہ دے چکے تھے ۔ دہشت گرد 100 تا 150 یاتریوں اور 200 پولیس ملازمین کے قتل کا منصوبہ رکھتے تھے ۔ پولیس عہدیدار اور دیگر متعلقہ عہدیدار ضروری سراغ حاصل کرچکے تھے ۔ یاترا کی حفاظت کیلئے فوج کے علاوہ نیم فوجی فورسز اور پولیس تعینات کی گئی تھی ۔ ان حملوں کی وزیر دفاع ارون جیٹلی اور صدر کانگریس سونیا گاندھی نے بھی مذمت کی ۔

TOPPOPULARRECENT