Sunday , September 24 2017
Home / شہر کی خبریں / انوارالعلوم تعلیمی ادارے وقف ‘ بورڈ میں تمام دستاویزی ثبوت موجود

انوارالعلوم تعلیمی ادارے وقف ‘ بورڈ میں تمام دستاویزی ثبوت موجود

عدالت نے وقف ملکیت پر کوئی اعتراض نہیں کیا ۔ مقدمہ کی پیروی کیلئے ماہر وکلا کی خدمات ‘ صدر نشین محمد سلیم
حیدرآباد۔/15جولائی، ( سیاست نیوز) صدر نشین وقف بورڈ محمد سلیم نے کہا کہ انوارالعلوم تعلیمی اداروں کے وقف ہونے سے متعلق بورڈ میں مکمل دستاویزی ثبوت موجود ہے اور ہائی کورٹ نے حالیہ کارروائی پر عبوری حکم التواء جاری کرتے ہوئے تعلیمی اداروں کے وقف ہونے سے انکار نہیں کیا ہے۔ محمد سلیم نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نامور وکلاء کی خدمات حاصل کی جارہی ہیں تاکہ ہائی کورٹ میں انوارالعلوم تعلیمی اداروں کے مقدمے کی پیروی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت نے 45 دن کی مہلت کے بغیر راست انتظام پر 6 ہفتوں کا حکم التوا جاری کیا ہے اور عدالت کے احکامات کے بعد سے 45دن کی مہلت کا آغاز ہوچکا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ عدالت نے وقف ملکیت یا وقف بورڈ کی کارروائی پر کوئی اعتراض نہیں کیا اور مہلت گذرنے کے بعد بورڈ کی کارروائی از خود درست ثابت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ سکریٹری انوارالعلوم ایجوکیشنل سوسائٹی کی جانب سے عائد الزامات بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے چیلنج کیا کہ اگر ان کی کسی جائیداد کو وقف ثابت کردیا جائے تو وہ فوری اسے چھوڑنے تیار ہیں۔ اسی طرح سکریٹری انوارالعلوم ایجوکیشن سوسائٹی کو بھی اپنے تمام ادارے وقف بورڈ کے حوالے کرنے ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ سکریٹری نے اخبار میں جو وقف نامہ شائع کیا ہے وہ خود اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ تعلیمی ادارے وقف ہونے کا اعتراف کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ کو انوارالعلوم تعلیمی اداروں کو تحویل میں لینے میں دلچسپی نہیں ہے۔ اگر انوارالعلوم انتظامیہ ان اداروں کو وقف تسلیم کرلے اور سالانہ وقف فنڈ کی ادائیگی کا آغاز کرے تو وقف بورڈ کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سوسائٹی کو ادارے چلانے کی مکمل آزادی دی جائے گی تاہم آمدنی کے اعتبار سے وقف فنڈ جمع کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ انوارالعلوم سے متعلق عدالت میں 25 مقدمات ہیں جن میں سے صرف ایک مقدمہ وقف ملکیت سے متعلق ہے باقی غیر متعلقہ اُمور کے بارے میں ہیں۔ محمد سلیم نے کسی کے دباؤ میں کام کرنے کے الزام کو مسترد کردیا اور کہا کہ وہ کسی بھی طاقت کی کٹھ پتلی نہیں ہیں بلکہ خوف خداوندی کے ساتھ مخلصانہ طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ صدرنشین وقف بورڈ نے بتایا کہ اوقافی جائیدادوں کے مقدمات کی مؤثر پیروی کیلئے ماہرین قانون کا پیانل تشکیل دیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ وقف کونسلس پر مکمل انحصار نہیں کیا جاسکتا لہذا ہائی کورٹ کے نامور وکلاء سے بات چیت جاری ہے۔ ضرورت پڑنے پر دہلی، ممبئی یا بنگلور سے وکلاء کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اوقافی جائیدادوں کے مقدمات میں کونسلس کی لاپرواہی سے اکثر و بیشتر وقف بورڈ کو ناکامی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئے پیانل میں شفیق مہاجر کو شامل نہیں کیا جائے گا۔ صدرنشین کے مطابق انوارالعلوم تعلیمی اداروں کے مقدمے میں مناسب پیروی نہ کئے جانے سے وقف بورڈ کو شکست ہوئی ہے۔ شیفق الرحمن مہاجر اس مقدمہ میں وقف بورڈ کی نمائندگی کررہے تھے۔ محمد سلیم نے کہا کہ انوارالعلوم تعلیمی ادارے وقف ہیں اور وقف بورڈ ان سے ہرگز دستبردار نہیں ہوگا۔ ایک بار وقف کردہ ادارہ تاقیامت وقف ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ میں سابق میں کئی دھاندلیاں ہوئی ہیں لیکن آئندہ ان کا اعادہ نہیں ہوگا۔ عہدیداروں اور ملازمین نے اوقافی جائیدادوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ وہ موجودہ وقف بورڈ کو بے قاعدگیوں سے پاک کرنے کا عہد کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انوارالعلوم کے علاوہ ریاست کی دیگر بڑی اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے اقدامات کئے جائیں گے۔ اس موقع پر چیف ایکزیکیٹو آفسیر ایم اے منان فاروقی اور وقف بورڈکے رکن مرزا منور بیگ موجود تھے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT