Wednesday , August 16 2017
Home / Top Stories / انوارالعلوم کالجس کو تحویل میں لینے کے فیصلہ پر حکم التواء

انوارالعلوم کالجس کو تحویل میں لینے کے فیصلہ پر حکم التواء

مقررہ قواعد کی تکمیل نہیں کی گئی: ہائیکورٹ ۔ ڈیویژن بنچ میں اپیل دائر کرنے تلنگانہ وقف بورڈ کا اعلان

حیدرآباد ۔ 11۔ جولائی (سیاست نیوز) حیدرآباد ہائیکورٹ نے انوارالعلوم کالج اور اس سے ملحقہ اداروں کو راست نگرانی میں لینے سے متعلق تلنگانہ وقف بورڈ کے احکامات کو 6 ہفتوں کیلئے عبوری طور پر معطل کرتے ہوئے حکم التواء جاری کیا ۔ جسٹس بی شیوشنکر راؤ نے آج اس سلسلہ میں انوارالعلوم ایجوکیشنل اسوسی ایشن کی جانب سے پیش کردہ درخواست کی سماعت کی ۔ فریقین کی سماعت کے بعد عدالت نے 6 ہفتوں کیلئے وقف بورڈ کے احکامات کو معطل کرنے اور وقف بورڈ کو نوٹس جاری کرنے کی ہدایت دی۔ عدالت نے انوارالعلوم ایجوکیشنل اسوسی ایشن کے وکلاء کی اس دلیل کو قبول کرلیا کہ وقف بورڈ نے اداروں کو راست تحویل میں لینے کے احکامات کے سلسلہ میں مقررہ قواعد کی تکمیل نہیں کی ہے ۔ وقف بورڈ کو احکامات پر عمل آوری سے قبل 45 دن کی نوٹس دینی چاہئے تھی۔ تلنگانہ وقف بورڈ نے ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف ڈیویژن بنچ پر اپیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ صدرنشین محمد سلیم نے اس سلسلہ میں چیف اگزیکیٹیو آفیسر منان فاروقی اور دیگر ماہرین قانون سے مشاورت کی۔ انوارالعلوم کالجس کی جانب سے ممتاز اور نامور وکلاء پرکاش ریڈی ، سیتارام مورتی ، کشور آنند کمار ، محفوظ نازکی اور ویدولا وینکٹ رمنا جیسے وکلاء نے دلائل پیش کئے جبکہ وقف بورڈ کی جانب سے شفیق الرحمن مہاجر کو ذمہ داری دی گئی تھی لیکن وہ فریق ثانی کے وکلاء کے دلائل کے آگے ٹک نہ سکے۔ ان کی اعانت کے لئے فرحان اعظم خاں کو مقرر کیا گیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ سماعت کے دوران ابتداء ہی سے انوارالعلوم کالجس کے وکلاء اپنے دلائل کے ذریعہ حاوی رہے اور وقف بورڈ کے وکلاء بورڈ کے فیصلوں کو درست ثابت کرنے میں ناکام ہوگئے ۔ بتایا جاتا ہے کہ 27 ڈسمبر 2014 ء کو وقف بورڈ نے انوارالعلوم تعلیمی اداروں کو اپنی تحویل میں لینے کیلئے احکامات جاری کرتے ہوئے ان میں صراحت کی تھی کہ عمل آوری 45 دن کے بعد ہوگی۔ بعد میں 13 فروری 2015 ء کو انوارالعلوم سوسائٹی کی جانب سے وضاحت داخل کی گئی۔ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلہ میں وقف بورڈ کو ہدایت دی تھی کہ وہ اس وضاحت پر غور کرتے ہوئے کارروائی کرے۔ وقف بورڈ کے مطابق 45 دن کی مہلت دی گئی اور تازہ ترین کارروائی دیڑھ سال کے وقفہ کے بعد کی گئی ہے۔ اس نکتہ کو عدالت کو سمجھانے میں وقف بورڈ کے وکلاء ناکام ثابت ہوئے۔ انوارالعلوم سوسائٹی کے وکلاء نے عدالت کو بتایا کہ وقف بورڈ کے عہدیداروں نے دیواروں پر احکامات چسپاں کرتے ہوئے کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ تعلیمی سال کا آغاز ہورہا ہے اور اداروں میں داخلے جاری ہیں، ایسے میں وقف بورڈ کے اقدام سے طلبہ کے مستقبل کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ وکلاء نے بتایا کہ طریقہ کار کے مطابق احکامات کی اجرائی کے بعد اسے گزٹ نوٹیفکیشن کی شکل میں شائع کیا جاتا ہے۔ لہذا بورڈ نے قواعد کی خلاف ورزی کی ہے۔ عدالت کے فیصلہ کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے چیف اگزیکیٹیو آفیسر منان فاروقی نے کہا کہ فیصلہ کی نقل ملنے کے بعد ماہرین قانون سے مشاورت کی جائے گی اور اپیل دائر کی جائے گی ۔ انہوں نے وضاحت کی کہ وقف بورڈ نے انوارالعلوم ایجوکیشنل اسوسی ایشن کو 45 دن کی مہلت پہلے ہی دیدی ہے اور اب دیڑھ سال کا وقت گزر چکا ہے ۔ اسی دوران آج صبح وقف بورڈ کے عہدیدار جب انوارالعلوم کالج پہنچے تو گیٹ کو اندرونی حصہ سے مقفل کرتے ہوئے انہیں داخلہ کی اجازت نہیں دی گئی ۔ کافی انتظار کے بعد پولیس کی آمد کو دیکھتے ہوئے گیٹ کھول دیئے گئے اور وقف بورڈ کے عہدیدار دفتر میں بیٹھ گئے۔ طلبہ کی کثیر تعداد جمع تھی لیکن اسٹاف کے ارکان ڈیوٹی سے غیر حاضر تھے۔ اسٹاف کو کالج کے احاطہ میں دیکھا گیا لیکن وہ فرائض انجام دینے کے سلسلہ میں انتظامیہ سے خوفزدہ دکھائی دے رہے تھے ۔ عدالتی احکامات کے بعد جب کالج انتظامیہ نے وقف بورڈ کے نگرانکار عہدیدار شریمتی اوما مہیشوری کو فیصلہ سے واقف کرایا تو انہوں نے کہا کہ فیصلہ کی نقل ملنے کے بعد ہی وہ جائزہ حوالے کریں گی۔ اس طرح وقف بورڈ کے عہدیدار دفتر کو دوبارہ مقفل کر کے شام میں واپس ہوئے ۔

TOPPOPULARRECENT