Saturday , July 22 2017
Home / شہر کی خبریں / انوارالعلوم کالج و ملحقہ تمام تعلیمی ادارے و اثاثے وقف بورڈ کی تحویل میں

انوارالعلوم کالج و ملحقہ تمام تعلیمی ادارے و اثاثے وقف بورڈ کی تحویل میں

27ڈسمبر 2014کو حیدرآباد ہائیکورٹ کے احکام کے پس منظر میں بورڈ کا فیصلہ ‘ تعلیم متاثر نہیں ہوگی ‘ الجھن کا شکار نہ ہونے طلبا سے عہدیداروں کی اپیل
حیدرآباد۔10 جولائی (سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ نے آج ایک اہم کارروائی کرتے ہوئے انوارالعلوم کالج ملے پلی اور اس سے ملحقہ تعلیمی اداروں اور اثاثہ جات کو اپنی راست نگرانی میں لے لیا ہے۔ 27 ڈسمبر 2014ء کو حیدرآباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے پس منظر میں وقف بورڈ نے یہ کارروائی کی۔ 5 جولائی کو منعقدہ وقف بورڈ کے اجلاس میں جس کی صدارت محمد سلیم نے کی تھی عدالتی احکامات کے مطابق انوارالعلوم کے تحت تعلیمی اداروں کو راست تحویل میں لینے کا فیصلہ کیا تھا۔ چیف ایگزیکٹیو آفیسر ایم اے منان فاروقی نے اسی دن اس سلسلہ میں احکامات جاری کیئے جس میں انوارالعلوم ایجوکیشنل اسوسی ایشن کو جاری کردہ وجہ نمائی نوٹس، ان کی وضاحت اور دیگر تفصیلات کے علاوہ 5 جولائی کو وقف بورڈ کے اجلاس میں منظورہ قرارداد کی تفصیلات کو شامل کیا۔ وقف بورڈ کا دعوی ہے کہ انوارالعلوم تعلیمی ادارے وقف ہیں۔ چیف ایگزیکٹیو آفیسر کے احکامات میں سکریٹری انوارالعلوم ایجوکیشنل اسوسی ایشن کو ادارے اور ملحقہ جائیدادیں اور ان کا ریکارڈ بورڈ کے حوالے کرنے کی ہدایت دی گئی۔ اس کارروائی کی تکمیل کے لیے شریمتی اوما مہیشوری تحصیلدار، اسسٹنٹ سکریٹری وقف بورڈ کی قیادت میں ٹیم روانہ کی گئی تھی۔ وقف بورڈ کی ٹیم جب انوارالعلوم کالج ملے پلی پہنچی تو کالج کے حکام نے کسی قدر مزاحمت کی تاہم بعد میں وقف بورڈ کے عہدیداروں نے پنچنامے کی تکمیل کرتے ہوئے مختلف کمروں کو مہربند کردیا اور ادارے کو اپنی تحویل میں لینے کے احکامات چسپاں کردیئے۔ اس ٹیم میں مسز ممتاز بیگم تحصیلدار و اکائونٹس آفیسر، ایم اے غفار او ایس ڈی، احمد محی الدین او ایس ڈی، محمد ضیاء الدین غوری ایگزیکٹیو آفیسر، سید عقیل حسن سپرنٹنڈنٹ اور عبدالشکور انصاری شامل تھے۔ تعلیمی اداروں کو چلانے کے لیے وقف بورڈ نے 8 رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ راست تحویل میں لینے کی کارروائی کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے اوما مہیشوری اور ممتاز بیگم نے بتایا کہ 2014ء کے عدالتی احکامات کے مطابق بورڈ نے اداروں کو اپنی تحویل میں لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ تعلیمی ادارے کل سے معمول کی طرح کام کریں گی اور تعلیم متاثر نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ لیکچررس اور اسٹاف بھی برقرار رہے گا۔ انہوں نے طلبہ اور اولیائے طلبہ سے اپیل کی کہ وہ الجھن کا شکار نہ ہوں اور تعلیم کو جاری رکھیں۔ ایک سوال کے جواب میں ان عہدیداروں نے کہا کہ فیس میں کمی سے متعلق کوئی بھی فیصلہ بورڈ کے اجلاس میں کیا جائے گا۔ عہدیداروں نے چیف ایگزیکٹیو آفیسر کی جانب سے جاری کردہ 11 صفحات پر مشتمل احکامات کو کالج کے احاطہ میں چسپاں کردیا۔ بعد میں وقف بورڈ میں اعلی سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں تعلیمی اداروں کو چلانے کے طریقہ کار کا جائزہ لیا گیا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT