Sunday , September 24 2017
Home / شہر کی خبریں / انچارج سی ای او کے خلاف ایف آئی آر کی تیاری۔ضیا الدین غوری نے اپنے طور پر جائزہ حاصل کرلیا ، حکومت کی ہدایت نظر انداز ، وقف مافیا دوبارہ سرگرم

انچارج سی ای او کے خلاف ایف آئی آر کی تیاری۔ضیا الدین غوری نے اپنے طور پر جائزہ حاصل کرلیا ، حکومت کی ہدایت نظر انداز ، وقف مافیا دوبارہ سرگرم

حیدرآباد ۔ 13۔ مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ کا تنازعہ آج اس وقت نیا رخ اختیار کر گیا جب محکمہ اقلیتی بہبود کے احکامات کو نظرانداز کرتے ہوئے صدرنشین وقف بورڈ کی ہدایت پر انچارج چیف اگزیکیٹیو آفیسر کی حیثیت سے بورڈ کے ایک ملازم نے جائزہ حاصل کرلیا ۔ محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے مذکورہ ملازم کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی تیاری کی جارہی ہے جس میں سرکاری قواعد کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے طور پر چیف اگزیکیٹیو آفیسر کے عہدہ کا نہ صرف جائزہ حاصل کرلیا بلکہ اپنے نام کے ساتھ بعض احکامات بھی جاری کئے ۔ واضح رہے کہ وقف بورڈ نے ہفتہ کو اپنے پہلے اجلاس میں ایجنڈہ کے بغیر ہی چیف اگزیکیٹیو آفیسر محمد اسد اللہ کی خدمات ان کے متعلقہ محکمہ واپس کرنے کی قرارداد منظور کی اور بورڈ کے اسسٹنٹ سکریٹری ضیاء الدین غوری کو انچارج چیف اگزیکیٹیو آفیسر مقرر کردیا۔ وقف ایکٹ کے مطابق ڈپٹی کلکٹر رتبہ کا عہدیدار سی ای او مقرر کیا جاسکتا ہے جبکہ غوری کو حال ہی میں بورڈ کے سپرنٹنڈنٹ سے اسسٹنٹ سکریٹری کے عہدہ پر ترقی دی گئی اور وہ گزیٹیڈ رینک کے عہدیدار بھی نہیں ہیں۔ قواعد کے مطابق سرکاری ملازم یا پھر گزیٹیڈ عہدیدار اپنے طور پر جائزہ حاصل کرسکتا ہے جبکہ ضیاء الدین غوری ان دونوں شرائط پر پورے نہیں اترتے۔ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم کی ہدایت پر انہوں نے اپنے طور پر جائزہ حاصل کرنے کا میڈیا کے روبرو اعتراف کیا۔ انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ کے ملازم کی حیثیت سے صدرنشین کے احکامات کی پابندی کر رہے ہیں۔ وقف بورڈ سے اس سلسلہ میں سکریٹری اقلیتی بہبود کو جب جائزہ حاصل کرنے کی اطلاع دی گئی تو انہوں نے سخت برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ حکومت کی منظوری کے بغیر اس طرح جائزہ حاصل کرنے پر سخت کارروائی کی جائے گی۔ سکریٹری اقلیتی بہبود نے کہا کہ جب تک حکومت تقرر کے احکامات جاری نہ کرے ، اس وقت تک جائزہ حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ بتایا جاتا ہے کہ وقف بورڈ کے عہدیداروں نے چیف اگزیکیٹیو آفیسر محمد اسد اللہ سے ربط قائم کرتے ہوئے جائزہ حوالہ کرنے سے متعلق سی ٹی سی پر دستخط کرنے کی خواہش کی ۔ سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل نے اسد اللہ کو سی ٹی سی پر دستخط سے روک دیا۔ اس کے باوجود ضیاء الدین غوری نے اپنے طور پر عہدہ کا جائزہ حاصل کرتے ہوئے حکومت کے احکامات کی نہ صرف خلاف ورزی کی ہے بلکہ محکمہ اقلیتی بہبود کو چیلنج کیا ہے ، جس پر ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی تیاری کی جارہی ہے ۔ انچارج چیف اگزیکیٹیو آفیسر کے عہدہ کا جائزہ حاصل کرنے کے بعد انہوں نے مختلف فائلوں کا مشاہدہ کیا اور صدرنشین کو اختیارات سے متعلق پروسیڈنگ اپنے نام سے جاری کی۔ وقف بورڈ میں موجود وقف مافیا کے ایجنٹ عہدیدار و ملازمین کافی خوش نظر آئے اور انہوں نے انچارج چیف اگزیکیٹیو آفیسر کو نئی ذمہ داری پر مبارکباد پیش کی۔ بتایا جاتا ہے کہ محمد اسد اللہ کی خدمات واپس کرنے کی قرارداد کے بعد بعض عہدیدار وملازمین نے آپس میں مٹھائی تقسیم کی۔ اسد اللہ کے خلاف کارروائی کا اشارہ ملتے ہی وقف بورڈ میں کئی ایسے افراد نظر آنے لگے ہیں جن پر اوقافی جائیدادوں کی تباہی کے الزامات ہیں۔ وقف بورڈ کے اجلاس میں ایک ایسا ملازم بھی شریک تھا جسے حال ہی میں معطل کیا گیا۔ اس طرح بورڈ کے بعض ارکان کی جانب سے بدعنوانیوں میں ملوث افراد کی سرپرستی کی جارہی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT