Thursday , September 21 2017
Home / پاکستان / انکاؤنٹر میں لشکر جھانگوی کا سربراہ اور اس کے بیٹے ہلاک

انکاؤنٹر میں لشکر جھانگوی کا سربراہ اور اس کے بیٹے ہلاک

RAHIM YAR KHAN, JULY 29 :- Leader of the Lashkar-e-Jhangvi (LeJ) Malik Ishaq (R) sits on a bed with his son Malik Usman as he shows a book during an interview with Reuters at his home in Rahim Yar Khan in southern Punjab province in this October 9, 2012 file photo. Pakistani police killed the leader of the sectarian militant group Lashkar-e-Jhangvi, his two sons and 11 others on July 29, 2015 in a shootout after gunmen attacked a police convoy and freed him as he was being moved, police said. It is uncertain if Usman was one of the two sons who were killed. REUTERS/UNI PHOTO-9R

اسلام آباد۔ 29 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کے صوبہ پنجاب میں پولیس نے ایک انکاؤنٹر میں ممنوعہ مسلکی تنظیم لشکر جھانگوی (LeJ) ے سربراہ ملک اسحق ، اس کے دو بیٹوں اور القاعدہ سے مربوط اس تنظیم کے دیگر 11 ارکان کو ہلاک کردیا۔ ملک اسحق پر یہ الزام عائد ہیہ کہ اس نے شیعہ فرقہ کے خلاف متعدد حملوں کی سازش رچی جس میں اس کے ساتھ اس کے دونوں بیٹے عثمان اور حق نواز بھی شامل رہے۔ پنجاب پولیس کے ساتھ مظفرگڑھ ڈسٹرکٹ میں ہوئے۔ انکاؤنٹر میں ان سب کے علاوہ 11 دیگر ارکان بھی مارے گئے جبکہ کارروائی کے دوران 6 پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔ انکاؤنٹر کے دوران دونوں جانب سے تقریباً 2 گھنٹوں تک فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہا۔ اسحق اور اس کے دو بیٹوں کو انسداد دہشت گردی محکمہ نے ایک ہفتہ قبل گرفتار کیا تھا۔ اس دوران ایک اعلیٰ سطحی پولیس آفیسر نے بتایا کہ اسحق، اس کے بیٹوں اور دیگر تین شورش پسندوں انسداد دہشت گردی محکمہ کی جانب سے مظفر گڑھ لے جایا گیا تھا تاکہ ہتھیاروں کی ضبطی عمل میں لائی جاسکے۔ وہ کام انجام دینے کے بعد واپسی میں شورش پسندوں نے ان پر حملہ کردیا اور اسحق، اس کے بیٹوں اور دیگر کو ان کے چنگل سے آزاد کروالیا جو وہاں سے ایک موٹر سائیکل کے ذریعہ بھاگ نکلے لیکن ایک جرأت مند آفیسر نے ان کو چیلنج کیا اور فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوگیا۔

TOPPOPULARRECENT