Monday , August 21 2017
Home / ہندوستان / انکاؤنٹر میں ملوث پولیس ملازمین کو نقد انعامات روک دیئے گئے

انکاؤنٹر میں ملوث پولیس ملازمین کو نقد انعامات روک دیئے گئے

عدالتی تحقیقات کے اعلان کے بعد فیصلہ ، سماجی جہدکاروں کے احتجاج پر حکومت مدھیہ پردیش کا اعلان
بھوپال ۔ /5 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) حکومت مدھیہ پردیش نے بالآخر آج ان نقد انعامات کو روک دیا جس کا قبل ازیں سیمی کے کارکنوں کو مبینہ انکاؤنٹر میں ہلاک کرنے والے ملازمین پولیس کو دینے کا اعلان کیا گیا تھا ۔ مدھیہ پردیش کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے پی ٹی آئی سے کہا کہ ’’اس واقعہ کی عدالتی تحقیقات کے اعلان کے بعد حکومت کسی کو بھی تحقیقات کی تکمیل تک نقد انعامات نہیں دے سکتی ‘‘ ۔ اس عہدیدار نے کہا کہ ’’عدالتی تحقیقات کے اعلان سے قبل ان نقد انعامات کا اعلان کیا گیا تھا چنانچہ یہ بات منطقی ہے کہ تحقیقات کی تکمیل تک وہ کسی کو بھی یہ انعامات نہیں دے سکتی ‘‘ ۔ سیمی کے کارکنوں کو گولی مارنے والے پولیس اہلکاروں کو چیف منسٹر شیوراج سنگھ چوہان نے فی کس دو لاکھ روپئے نقد انعامات دینے کا اعلان کیا تھا ۔ سیمی کے کارکنوں کے مبینہ انکاؤنٹر کے دوسرے دن یکم / نومبر کو یوم تاسیس مدھیہ پردیش کے موقع پر چوہان نے ان انعامات کا اعلان کیا تھا ۔ تاہم انسانی حقوق کے کارکنوں نے ان نقد انعامات کو روک دینے کا مطالبہ کیا تھا ۔

بھوپال گیس سانحہ کے متاثرین کیلئے جدوجہد کرنے والے ایک سماجی جہد کار عبدالجبار نے کہا کہ ’’حکومت کو چاہئیے کہ وہ ان انعامات کو حق بجانب ظاہر کرنے کیلئے کم سے کم مبینہ انکاؤنٹر کی تحقیقات کی تکمیل تک روک دینا چاہئیے ‘‘انہوں نے کہا کہ ’’حکومت کو اس کی صداقت پر جانا جاتا ہے اور اگر اس پر ہی کوئی مفاہمت ہوجاتی ہے تو پھر اس (انعام) کا کوئی جواز نہیں رہتا ‘‘ ۔ عبدالجبار نے کہا کہ ریاستی حکومت اس انکاؤنٹر کی مختلف اداروں کے ذریعہ تحقیقات کروارہی ہے ۔ دوسری طرف اس (انکاؤنٹر) میں ملوث افراد کو نقد انعامات دے رہی ہے ۔ تاہم اس مسئلہ پر اٹھائے گئے تمام سوالات کا واضح جواب اور تحقیقات کی تکمیل تک ان (انعامات) کو جائز و حق بجانب قرار نہیں دیا سکتا‘‘۔ ٹرانسپیرنس انٹرنیشنل کے اجئے دوبے نے بھی ان انعامات کی معقولیت پر سوال اٹھایا ہے ۔ دوبے نے کہا کہ ایک ایسے وقت جب انکاؤنٹر کی صداقت کے سوال پر ریاستی حکومت ہی شک کے دائرہ میں ہے تو پھر انعامات کے اعلان کا جواز بھی کیا ہوسکتا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT