Sunday , May 28 2017
Home / Top Stories / انکم ٹیکس دھاؤں کی افواہیں ، تاجرین میں خوف و ہراس

انکم ٹیکس دھاؤں کی افواہیں ، تاجرین میں خوف و ہراس

بازار بند ، بیگم بازار میں سناٹا ، دوکانات اچانک بند کرنے سے عوام ضروری اشیاء کی خریدی سے محروم
حیدرآباد۔12نومبر (سیاست نیوز) شہر میں انکم ٹیکس و سیلس ٹیکس کے دھاؤوں کی اطلاعات نے تاجرین میں خوف و ہراس پیدا کردیا ہے۔دونوں شہروں کے مختلف علاقوں میں تاجرین نے آج دوپہر کے بعد ہی بازار بند کرنے شروع کردیئے ہیں جس کے سبب عوام میں بھی بے چینی پیدا ہو گئی۔ ملک کے مختلف ریاستوں میں انکم ٹیکس دھاؤوں کی اطلاع کے بعد آج دوپہر جب بیگم بازار کے دکانوں میں انکم ٹیکس و سیل ٹیکس عہدیداروں کے دھاؤوں کی اطلاع موصول ہوئی تو یکایک بیگم بازار میں سناٹا چھا گیا اور اس اطلاع کے تیزی سے گشت کرنے کے سبب اس کا اثر شہر کے دیگر بازاروں پر بھی دیکھا گیا۔ ان اطلاعات کے دوران نوٹوں کی تنسیخ کے خلاف بھارت بند کی افواہیں گشت کرنے لگی جس کے سبب عوام کے خوف و ہراس میں مزید اضافہ ہوگیا۔ دونوں شہروں کے اشیائے ضروریہ کی دکانات میں گاہکوں کا ہجوم دیکھا جانے لگا ۔ ملک پیٹ میں واقع محبوب گنج مارکٹ بھی 5بجے کے قریب اچانک بند کردیا گیا کیونکہ اس بازار میں بھی انکم ٹیکس ‘ ویجلنس اور کمرشیل ٹیکس کے عہدیداروں کے دھاوے کی اطلاعات موصول ہوئیں جس پر دکانداروں نے اپنی دکانیں بند کرتے ہوئے حکومت کی ان کاروائیوں پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ عام گاہک جن کے پاس پیسے موجود ہونے کے باوجود وہ خریداری سے قاصر ہیں ان گاہکوں کوتبدیل شدہ نوٹ حاصل نہیں ہو رہے ہیں اور وہ ان افواہوں کے دوران اشیائے ضروریہ کے حصول کی کوشش میں دکانات کے چکر کاٹ رہے ہیں۔ اسی طرح دکانداروں کی شکایت ہے کہ ٹھوک بیوپاری 1000اور 500کے نوٹ نہیں لے رہے ہیں جس کے سبب وہ ہول سیل خریداری سے قاصر ہیں۔ تاجرین اور گاہکوں کے درمیان اس تذبذب کے سبب عوام میں خوف و ہراس پیدا ہو رہا ہے ۔شام 7بجے کے قریب اچانک پرانے شہر کی معروف کپڑے کی مارکٹ مدینہ مارکٹ بھی ان افواہوں کا اثر ہونے لگا اور دکانات تیزی سے بند کردی گئیں اس اہم بازار کے بند ہونے کی اطلاع تیزی سے پھیلنے کے سبب شہر کے کئی تاجرین نے خود کو محفوظ رکھنے کیلئے دکانات سے اشیاء کی منتقلی شروع کردی ۔ دونوں شہروں میں اس صورتحال کا منفی اثر شہر کی تجارت کے ساتھ ساتھ عوام پر مرتب ہونے لگا ہے اور عوام خوف کے عالم میں اپنی جمع پونجی ایسی جگہ خرچ کرنے لگی ہیں جسے غیر اہم سمجھا جاتا رہا ہے۔ تاجرین میں خوف کی وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن عوام کو خوف میں مبتلاء ہوتے ہوئے اپنی 1000اور500کی نوٹوں کو تبدیل کروانے یا ڈپازٹ کروانے میں جھجھک نہیں ہونی چاہئے ۔ بینکوں کے سامنے آج کافی طویل قطاریں دیکھی گئیں۔ اس کے علاوہ دونوں شہروں کے مختلف بینکوں کے اے ٹی ایم کے سامنے بھی طویل قطاریں دیکھی گئیں۔ اتوار کو تعطیل کے باوجود بینک میں نوٹوں کی تبدیلی اور کھاتوں میں رقومات جمع کروانے کا عمل جاری رہے گا اور بینک کاری خدمات سے عوام استفادہ کر سکتے ہیں۔ سوشل میڈیا کے ذریعہ دوشنبہ سے بھارت بند کی اطلاعات اور غیر معینہ مدت کی ہڑتال کے اعلانات کے متعلق بتایا جاتا ہے کہ تجارتی برادری کی جانب سے کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے لیکن چیف منسٹر دہلی مسٹر اروند کجریوال کے مختلف بازاروں کا دورہ اور عوام سے ملاقات کے دوران کئے گئے ریمارکس اور دیگر سیاسی جماعتوں کی اس مسئلہ پر حکومت سے ناراضگی کے اظہار کے سبب یہ اطلاعات گشت کر رہی ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT