Thursday , September 21 2017
Home / ہندوستان / ’’انگریز چلے گئے ، انگریزی ذہنیت چھوڑ گئے ‘‘

’’انگریز چلے گئے ، انگریزی ذہنیت چھوڑ گئے ‘‘

بچوں میں مادری زبان کی حوصلہ افزائی ضروری : وینکیا نائیڈو
احمدآباد۔ 8 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزیر وینکیا نائیڈو نے ’’انگریزی ذہنیت‘‘ پر نکتہ چینی کرتے ہوئے عوام پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں میں مادری زبان کے استعمال کی حوصلہ افزائی کریں۔ انہوں نے سوچھ بھارت مشن پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں چاہئے کہ اپنے بچوں کو مادری زبان سکھائیں، خواہ وہ ہندی، تمل، مراٹھی، ملیالی، آسامی، پنجابی یا بھوجپوری ہو۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کو وہ زبان سکھائی جانی چاہئے جو ان کی مادری زبان ہو۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کے بعد انگریز ملک چھوڑ کر چلے گئے لیکن انگریزی ذہنیت دے گئے، اسی کی وجہ سے ہم اپنے بچوں کو ممی، ڈیڈی کہنا سکھاتے ہیں۔ انہوں نے لفظ ’’ماں‘‘ کی صراحت کی اور بتایا کہ مختلف ہندوستانی زبانوں میں ماںکا کس طرح ادب و احترام کیا جاتا ہے اور اس لفظ میں کس قدر معنویت ہے جبکہ ممی اور ڈیڈی جیسے لفظ صرف دو ہونٹ کے ملانے سے ادا ہوجاتے ہیں۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT