Tuesday , October 17 2017
Home / کھیل کی خبریں / انگلینڈ کو آج جنوبی افریقہ کے خلاف کرو یا مرو صورتحال

انگلینڈ کو آج جنوبی افریقہ کے خلاف کرو یا مرو صورتحال

آملہ اور ڈی ویلئرس کے خلاف انگلش بولروں کا ایک اور امتحان
ممبئی ۔17مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) کریس گیل کی بے رحمانہ سنچری کی وجہ سے انگلینڈ کیلئے حالات مشکل ترین ہوچکے ہیں کیونکہ کل یہاں کھیلے جانے والے ورلڈ کپ کے دوسرے مقابلہ میں انگلش ٹیم کو جنوبی افریقہ کے خلاف کامیابی اشد ضروری ہے ۔ گذشتہ رات گیل جنہوں نے  47گیندوں میں سنچری اسکور کرتے ہوئے انگلینڈ کو شکست برداشت کرنے پر مجبور کیا ہے اور کل کھیلے جانے والے مقابلہ میں جنوبی افریقہ کے خلاف شکست کی صورت میں گروپ ایک سیمی فائنل میں اس کی رسائی مشکل ترین ہوجائے گی ۔ 2010ء کی چمپئن انگلش ٹیم کے فیلڈر اور بولروں پر تنقید کی جارہی ہے نیز کل جنوبی افریقہ کے مضبوط بیٹنگ شعبہ جس میں خاص کر اے بی ڈی ویلیئرس جن کے نام دنیا کی تیز ترین نصف سنچری ‘ سنچری اور 150رنز کی اننگز درج ہیں ۔ اُن کے ساتھ ڈیوڈ ملر‘ فاف ڈپلیسی ‘ ہاشم آملہ ‘ کوئنٹن ڈیکاک ‘ جے پی ڈمینی  بولروں کیلئے مسائل پیدا کرسکتے ہیں ۔

انگلش ٹیم کو اپنے اسپنرس عادل رشید اورمعین علی سے بہتر مظاہرہ کی اُمید ہے جنہیں وانکھڈے اسٹیڈیم کی وکٹ سے مدد ملے گی ۔ گذشتہ مقابلہ میں مذکورہ اسپنرس کی جوڑی گیل کے خلاف بے بس دکھائی دی ۔ 21فبروری کو جوہانسبرگ میں انگلینڈ اور جنوبی افریقہ کے درمیان کھیلے گئے مقابلہ میں ڈیل اسٹین کی زیرقیادت فاسٹ بولنگ کے خلاف این مرگن کی ٹیم نے 171رنز اسکور کئے تھے ۔ جنوبی افریقہ کا بولنگ شعبہ بھی متوازن ہے جس میں کاگیسو رباڑا ‘ کائیل ابیٹ ‘ کریس مورس اور عمران طاہر موجود ہیں ۔ دونوں ٹیموں کے درمیان منعقدہ گذشتہ مقابلہ میںجہاں انگلش ٹیم نے ایک بہتر اسکور کھڑاکیا تھا لیکن اے بی ڈی ویلئرس اور ہاشم آملہ نے نصف سنچریاں مکمل کرتے ہوئے ٹیم کو 2-0 کی کامیابی دلوائی تھی ۔ سیریز کے ابتدائی مقابلہ میں عمران طاہر انگلش بیٹسمینوں کیلئے اصل خطرہ ثابت ہوئے تھے ۔ ورلڈ کپ کے ابتدائی مقابلہ میں انگلینڈ نے ویسٹ انڈیز کے خلاف 182رنز اسکور کئے ‘ حالانکہ وہ  200رنز کا نشانہ عبور کرسکتے تھے لیکن بولروں نے اس ہمالیائی اسکور کا کامیاب دفاع نہیں کیا ‘ خاص کر گیل اور مارلون سیموئلس نے بین اسٹروک کے علاوہ ڈیوڈ ویلے کے خلاف بھی چھکے مارے ۔ امید کی جارہی ہے کہ زخمی اسٹیفن کے مقام پر ٹیم میں شامل کئے گئے لیام پلنکٹ کو زائد فاسٹ بولر کے طور پر ٹیم میں شامل کیا جائے گا ۔ علاوہ ازیں عادل رشید کے مقام پر بائیں ہاتھ کے اسپنر لیام ڈاؤسن کی شمولیت کا بھی امکان ہے ۔ معین علی کو قطعی 11کھلاڑیوں میں شامل کرنے کا فیصلہ اس لئے بھی کیا جاسکتا ہے کیونکہ ان کی موجودگی ٹیم کو مزید گہرائی فراہم کرتی ہے ۔ انگلینڈ کیلئے ٹسٹ کی درجہ بندی میں دوسرے مقام پر فائز جیوروٹ جنہوں نے گذشتہ مقابلہ میں ٹوئنٹی 20طرز سے مطابقت رکھنے والی اننگز کھیلی اور اگر وہ کچھ دیر وکٹ پر ہوتے تو یقیناً ٹیم 200رنز کا نشانہ عبور کرپاتی ۔روٹ نے 48رنز کی اننگز کھیلتے ہوئے انگلینڈ کو ایک بہتر شروعات فراہم کی تھی۔ مرگن کیلئے جنوبی افریقہ کے خلاف کامیابی آسان نہیںہوگی کیونکہ ریکارڈ بھی 3-1کا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT