Saturday , June 24 2017
Home / شہر کی خبریں / اواخر جولائی ایل آر ایس درخواستوں کی یکسوئی ممکن بنانے کی کوشش

اواخر جولائی ایل آر ایس درخواستوں کی یکسوئی ممکن بنانے کی کوشش

درخواستوں کی یکسوئی میں کامیابی ، ایچ ایم ڈی اے میں ریکارڈس محفوظ ، کمشنر ٹی چرنجیولو
حیدرآباد۔3مئی(سیاست نیوز) حیدرآباد میٹرو پولیٹین ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کی جانب سے جولائی کے اواخر تک تمام ایل آر ایس درخواستوں کی یکسوئی کو ممکن بنایا جائے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت کی جانب سے وصول کی گئی درخواستوں کی یکسوئی کے سلسلہ میں جاری کاروائی بڑی حد تک مکمل کرلی گئی ہے اور ایچ ایم ڈی اے کی جانب سے کی جانے والی اس کاروائی کے دوران تمام جائیدادوں کے دستاویزات کو ڈیجیٹلائز کرتے ہوئے ان کے ریکارڈس محفوظ کئے جا رہے ہیں اور ریکارڈس یکجا کئے جانے کے فوری بعد ایل آر ایس کی درخواستوں کی یکسوئی عمل میں لائی جائے گی۔کمشنر حیدرآباد میٹروپولیٹین ڈیولپمنٹ اتھاریٹی مسٹر ٹی چرنجیولو نے بتایا کہ ایل آر ایس کی درخواستوں کی یکسوئی کے لئے 100سے زائد تکنیکی عملہ کا تقرر عمل میں لایا گیا ہے اور 20مؤظف تحصیلداروں کی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں تاکہ ایل آر ایس کی درخواستو ںکی عاجلانہ یکسوئی کو ممکن بنایا جاسکے۔ انہوں نے بتایا کہ ایل آر ایس کی جو درخواستیں داخل کی گئی ہیں ان درخواستوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور اس بات کی طمانیت حاصل کرنے کے بعد ہی ریکارڈ س کو آن لائن کیا جا رہا ہے کہ ان جائیدادوں پر کوئی اور تنازعات نہ ہوں۔ ریکارڈس کو ڈیجیٹل کرنے اور تمام دستاویزات کا جائزہ لینے کے لئے خدمات انجام دے رہے عملہ کو اس بات کی بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ختم جولائی سے قبل تمام امور کی تکمیل کو ممکن بنائیں اور ان امور کو مکمل کئے جانے کے فوری بعد ایل آر ایس کی اجرائی کا عمل شروع ہوگا اور حیدرآباد میٹروپولیٹین اتھاریٹی کے حدود میں موجود اراضیات و جائیدادوں کے ایل آر ایس کی اجرائی کے ساتھ ہی اندرون دو ماہ ایل آر ایس درخواستوں کی مکمل یکسوئی ہو جائے گی۔حکومت کی جانب سے اراضیات پر موجود قبضہ جات کو باقاعدہ بنانے کے لئے معلنہ اسکیم کے تحت موصولہ ان درخواستوں کی یکسوئی کے سلسلہ میں کئے جانے والے اقدامات کے متعلق بتایا جارہا ہے کہ ریاستی حکومت نے اس کے ذریعہ آمدنی کے حصول کے علاوہ شہر میں کی اراضیات کو باقاعدہ بنانے کے لئے درخواستیں وصول کی تھیں اور حکومت کو اس مقصد میں بہتر کامیابی حاصل ہوئی ہے اور جن لوگوں کے قبضہ میں اراضیات ہیں ان لوگوں نے اسے باقاعدہ بنانے اور نقشہ جات کے ساتھ درخواستیں داخل کی ہیں اور اب ان درخواستوں کی یکسوئی عمل میں لائی جانے لگی ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT