Thursday , June 22 2017
Home / مضامین / اوباما، ہلاری سے پوتین کی نفرت ٹرمپ کا بھلا ہوگیا

اوباما، ہلاری سے پوتین کی نفرت ٹرمپ کا بھلا ہوگیا

عرفان جابری

سال 1982ء اور 12 اپریل کو روسی جاسوس ایجنسی K.G.B کے چیئرمین یوری اندروپوف نے فارن انٹلیجنس سے وابستہ کارندوں کو صدر رونالڈ ریگن کی دوبارہ انتخاب کیلئے جاری مہم کے خلاف ’’پروپگنڈہ‘‘ چلانے کا حکم دیا۔ معروف نوعیت کی جاسوسی کے برخلاف جس میں بیرونی رازوں کو جمع کیا جاتا ہے، سرگرمی سے تدبیریں کرنے یا ’’پروپگنڈہ‘‘ چلانے کا مقصد حالات پر اثرانداز ہونا رہتا ہے جیسے حریف کی طاقت کو جعلسازیوں، محاذی گروپوں، اور بے شمار دیگر حربوں کے ذریعے نقصان پہنچانا جنھیں ’سرد جنگ‘ کے دوران استعمال کیا گیا۔ سویت قیادت نے ریگن کو سخت دل جنگ پسند باور کررکھا تھا۔ اعلیٰ رتبہ کے حامل کے جی بی آفیسر اور نگرانِ سرکاری دستاویزات ویزلی میتروخین جو بعد میں منحرف ہوکر برطانیہ چلا گیا، اس کے تیار کردہ جامع نوٹس کے مطابق سویت انٹلیجنس نے کوشش کی کہ ریپبلکن اور ڈیموکریٹس نیشنل کمیٹیوں کے ہیڈکوارٹرز میں دراندازی کی جائے، نعرہ ’’ریگن کا مطلب جنگ!‘‘ کو عام کریں، اور امریکی صدر کو ملٹری۔ انڈسٹریل کامپلکس کے بدعنوان خدمت گزار کے طور پر بدنام کردیا جائے۔ اس سعی کا کچھ بھی واضح اثر نہ ہوا۔ ریگن پچاس ریاستوں میں سے 49 جیت گئے۔
جدت پسندی سے تدبیریں تو پوری سرد جنگ میں دونوں طرف سے ہوئیں۔ دہا 1960ء میں سویت انٹلیجنس افسروں نے افواہ پھیلائی کہ امریکی حکومت مارٹر لوتھر کنگ جونیر کے قتل میں ملوث ہوئی۔ 80ء کے دہے میں انھوں نے افواہ پھیلا دی کہ امریکی انٹلیجنس نے ایڈز وائرس کو فورٹ ڈیٹرک، میریلینڈ میں ’’جنم‘‘ دیا ہے۔ وہ باقاعدگی سے بائیں بازو کی پارٹیوں اور شورش پسندیوں کی حمایت کرتے رہے۔ دوسری طرف سی آئی اے نے ایران، کیوبا، ہیتی، چلی اور پناما کی حکومتوں کا تختہ اُلٹنے کے جتن کئے۔ اس نے نقد ادائیگیوں، پروپگنڈہ، اور بعض مرتبہ پُرتشدد طریقوں کو استعمال کرتے ہوئے اٹلی، گواتمالا، انڈونیشیا، جنوبی ویتنام، اور نکارگوا میں انتخابات کو بائیں بازو کی پارٹیوں کیلئے کمزور کیا۔ اوائل دہا 90ء میں سویت یونین کے زوال کے بعد سی آئی اے نے روس سے کہا کہ مختلف چالوں کے ذریعے امریکہ کو نقصان پہنچانے والی غلط فہمی پھیلانے سے باز آجائے۔ روس نے اس پر حامی بھرلی۔ مگر جب نیویارک میں روسی انٹلیجنس کا اسٹیشن چیف سرجی ترتیاکوف 2000ء میں منحرف ہوگیا، اُس نے انکشاف کیا کہ ماسکو کی عیارانہ تدبیریں کبھی کم نہ ہوئیں۔ 2008ء میں اُس نے لکھا: ’’کچھ بھی نہیں بدلا ہے۔ روس آج بھی وہ سب کچھ کررہا ہے جو امریکہ کو اُلجھانے کیلئے کیا جاسکتا ہے۔‘‘

ولادمیر پوتین جو مغرب کو مکاری یا منافقت کا موردِالزام ٹھہرانے میں دیر نہیں کرتے، اکثروبیشتر اس کی تاریخ کی نشاندہی کرتے ہیں۔ انھیں مخالف ماسکو نوعیت والے ’’انقلابوں ‘‘ کو مغرب کی تائید واضح نظر آتی ہے جیسے جارجیا، کرغزستان اور یوکرین میں ہوا، جس نے بدعنوان، سویت دور کے قائدین کو تحریک دلائی کہ ’بہارِ عرب‘ کی بغاوتوں کو تسلیم کرتے ہوئے کچھ سیکھیں۔ پانچ سال قبل، انھوں نے سکریٹری آف اسٹیٹ ہلاری کلنٹن کو ماسکو کے بولوتنایا اسکوائر میں مخالف کریملن احتجاجوں کیلئے موردِ الزام ٹھہرایا تھا۔ پوتین نے کہا تھا: ’’انھوں (ہلاری) نے اس ملک میں ہمارے بعض عناصر کو ورغلایا اور اکسایا۔ ان لوگوں نے بات سن لی اور امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی تائید کے ساتھ سرگرمی سے کام شروع کیا۔‘‘ (الزام تراشی کا کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا)۔ پوتین کی دانست میں غیرسرکاری تنظیمیں اور سیول سوسائٹی گروپس جیسے نیشنل انڈومنٹ فار ڈیموکریسی، ہیومن رائٹس واچ، ایمنسٹی انٹرنیشنل، اور الیکشن پر نظر رکھنے والا گروپ گلوس بس تبدیلی اقتدار کیلئے بھیس بدل کر کام کرنے والے ادارے ہوتے ہیں۔
امریکی عہدے دار جو اُس نظم و نسق کو چلاتے ہیں جسے پوتین خود کیلئے حقیقی خطرہ مانتے ہیں، اُن کی لفاظی کو مسترد کرتے ہوئے اسے جھوٹی مماثلتوں کی حکمت عملی قرار دیتے ہیں۔ بنجامن روڈز جو صدر اوباما کے تحت ڈپٹی نیشنل سکیورٹی اڈوائزر رہے، پوتین کی منطق کو مسترد کرنے والوں میں سے ہیں، لیکن ان کا کہنا ہے، ’’پوتین پوری طرح غلط (بھی) نہیں ہے۔ ماضی میں ہم دنیا بھر میں حکومتوں کی تبدیلی میں ملوث ہوئے ۔ یہ بس اُن (پوتین) کیلئے جواز ہے کہ ہمیں پریشان کرے۔‘‘
امریکہ کا 2016ء کا صدارتی الیکشن پوتین کیلئے گہری دلچسپی والا رہا۔ وہ اوباما سے متنفر رہے، جنھوں نے کریمیا کے الحاق اور مشرقی یوکرین پر حملے کی پاداش میں پوتین زیرقیادت روس کے خلاف معاشی تحدیدات لگائے تھے۔ (روسی سرکاری ٹیلی ویژن نے اوباما کو ’کمزور‘ ، ’غیرمہذب‘اور ’ڈھیلا سیاستدان‘ کہتے ہوئے مذاق اُڑایا)۔ پوتین کی رائے میں ہلاری تو بدتر رہیں  …  امریکی خارجہ پالیسی کی آزادانہ مداخلت پسند خصلت کی مجسم، اوباما سے کہیں زیادہ تندخو، اور تحدیدات ختم کرتے ہوئے روسی جغرافیائی و سیاسی اثر کو بحال کرنے میں رکاوٹ۔ اس کے ساتھ ہی پوتین نے مشاقی سے ٹرمپ کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا، جنھوں نے پوتین کی طاقت اور لیڈر کے طور پر اثرپذیری کے تعلق سے اپنے بیانات میں خلاف معمول مثبت انداز اختیار کیا۔ 2007ء میں ہی ٹرمپ نے اعلانیہ کہہ دیا تھا کہ پوتین ’’روس کی ساکھ کو بحال کرنے اور روسی دَور کو بھی اَزسرنو اُبھارنے میں اچھا کام کررہے ہیں‘‘۔ 2013ء میں مس یونیورس ایونٹ کیلئے ماسکو کے دورے سے قبل ٹرمپ نے ایک ٹوئٹ میں سوالیہ جملہ تحریر کیا کہ آیا وہ پوتین سے ملاقات کرپائیں گے، اور اگر ایسا ہوتا ہے تو کیا وہ میرے نئے بہترین دوست بنیں گے؟ صدارتی مہم کے دوران ٹرمپ نے بڑی خوشی سے کہا کہ پوتین برتر لیڈر ہے جس نے اوباما اڈمنسٹریشن کو ’’ہدف تمسخر‘‘ میں تبدیل کردیا۔

پروپگنڈہ اور عیارانہ تدبیروں میں دلچسپی رکھنے والوں کیلئے آج کا ڈیجیٹل زمانہ اس سے کہیں زیادہ مواقع پیش کرتا ہے جو یوری اندروپوف کے دور میں دستیاب تھے۔ سائبرسکیورٹی ماہرین کے مطابق ڈیموکریٹک اور ریپبلکن نیشنل کمیٹیوں میں حملے کی گنجائش بہت ہے۔ اعلیٰ ترین سطح کی سیاست میں پھنسی یہ کمیٹیاں حساس حکومتی اداروں کو دستیاب حفاظتی و دفاعی نظام سے بہرحال عاری ہیں۔ ہلاری کی مہم کے چیئرمین اور بل کلنٹن کے سابق چیف آف اسٹاف جان پوڈیسٹا کا ماننا ہے کہ جدید مواصلات کی مخدوشی مسلمہ ہے۔ اوباما وائٹ ہاؤس میں سینئر کونسلر کی حیثیت سے وہ ڈیجیٹل پالیسی کا حصہ رہا۔ پھر بھی اُس نے زحمت نہیں کی کہ اپنے ای میل اکاؤنٹ کیلئے کم از کم بنیادی قسم کا ڈیفنس یعنی دو مرحلہ والی تصدیق کا استعمال کرے۔پوڈیسٹا نے کہا، ’’دیانت داری سے جواب یہ ہے کہ میری ٹیم اور میں اس بات پر بہت مطمئن ہوگئے کہ جو کچھ ہم کلک (انٹرنٹ کا استعمال) کررہے ہیں وہ بہت محفوظ ہے۔‘‘ اس ضمن میں، انھیں ایک مشکوک ای میل وصول ہوا جو بظاہر Gmail ٹیم کی طرف سے تھا، جس میں اُن پر زور دیا گیا کہ ’’فوری آپ کا پاس ورڈ تبدیل کرلیں‘‘۔ آئی ٹی سیکشن کے ایک شخص نے جسے اس کی جانچ و تصدیق کیلئے کہا گیا تھا، غلطی سے جواب دے دیا کہ یہ ’’درست ای میل‘‘ ہے۔
امریکی سیاسی منظر بھی خاص طور پر افواہوں کی مہم کیلئے آسان نشانہ بن گیا۔ چنانچہ جھوٹی معلومات پھیلائی گئیں تاکہ سرکاری باتوں کو بے وقعت کیا جائے، یا قابل بھروسہ سچائی کو ہی مشکوک بنادیں۔ ’پیو ریسرچ سنٹر‘ کے مطابق امریکی لوگ نظریاتی خطوط پر اس قدر منقسم ہوئے کہ دو دہوں میں کسی وقت ایسا نہ ہوا تھا۔ اصل دھارے والے میڈیا پر امریکی اعتماد گھٹ کر تاریخی پستی میں چلا گیا۔ میڈیا کے شکستہ ماحول نے لگ بھگ ہر چیز کے تعلق سے سازشی باتوں کو جنم دیا  …  براک اوباما کے مقام پیدائش ( غالباً کینیا )سے لے کر تبدیلی ٔ آب و ہوا کی ابتداء ( چینی افواہ)۔ ٹرمپ نے اپنی سیاسی شناخت بنانے میں اس طرح کی باتوں کو خوب اُچھالا۔

سابق کے جی بی جنرل اولیگ کلوگین جو 1995ء سے امریکہ میں مقیم ہے، اُن کا دعویٰ ہے کہ آزاد خیال سماجوں میں اکثر اختلاف رائے ہوتا ہے کیونکہ لوگوں کی اپنی اپنی رائے ہوتی ہے، اور اسی بات کا سابقہ سویت اور موجودہ روسی انٹلیجنس فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتی ہے۔ ’’مقصد یہی ہوتا ہے کہ اختلاف کو گہرا کیا جائے۔‘‘ اس طرح کی حکمت عملی خاص طور پر بہت مفید رہتی ہے جب کوئی ملک جیسے روس جو سویت دور کے عروج والے وقت کے مقابل قابل لحاظ حد تک کمزور ہے، زیادہ بڑی طاقت کے ساتھ جغرافیائی و سیاسی جدوجہد کررہا ہے۔
نئے امریکی صدر کی حلف برداری سے دو ہفتے قبل جنوری کے اوائل میں ڈائریکٹر آف نیشنل انٹلیجنس جیمز کلاپر نے راز کی رپورٹ کو عام کرتے ہوئے قطعیت سے کہا کہ پوتین نے اثراندازی کی مہم چلانے کا آرڈر دیا تھا تاکہ ہلاری کلنٹن کے انتخابی امکانات کو نقصان پہنچایا جائے، ڈونالڈ ٹرمپ کے امکانات مضبوط کئے جائیں، اور امریکی جمہوری عمل پر عوامی بھروسہ کو متزلزل کیا جائے۔ منظرعام پر لائی گئی رپورٹ ثبوت سے کہیں زیادہ دعویٰ فراہم کرتی ہے۔ انٹلیجنس آفیسروں کا کہنا ہے کہ اُن کے معلومات اکٹھا کرنے کے طریقوں کے تحفظ کیلئے ایسا کرنا ضروری ہوا۔
اس رپورٹ کے ناقدین نے بار بار نشاندہی کی کہ عراق جنگ سے قبل کی مدت میں بھی انٹلیجنس ایجنسیوں نے عام تباہی کے ہتھیاروں سے متعلق ناقص تجزیوں کی توثیق کردی تھی۔ لیکن عراق کی اسلحہ سازی کی حقیقی نوعیت کے بارے میں انٹلیجنس کمیونٹی میں گہرا اختلاف پایا گیا؛ 2016ء الیکشن میں سائبر حملوں کیلئے روس کی ذمہ داری کے سوال نے اس طرح کا ہنگامہ برپا نہیں کیا ہے۔ سترہ فیڈرل انٹلیجنس ایجنسیاں متفق ہیں کہ روس اس ہیکنگ کیلئے ذمہ دار ہے۔
سینیٹ کے روبرو حلفیہ بیان میں کلاپر نے امریکی انتخابی عمل میں مداخلت کیلئے عدیم النظیر روسی کوشش کو بیان کیا۔ اس آپریشن میں ڈیموکریٹس کے ای میلوں کی ہیکنگ، مسروقہ مشتملات کی وکی لیکس کے ذریعے تشہیر، اور ’’فرضی خبریں‘‘ و موافق ٹرمپ باتوں کو پھیلانے کیلئے سوشل میڈیا میں اُلٹ پھیر جیسے اقدامات شامل رہے۔
پہلے پہل ٹرمپ نے ہیکنگ کی جانچ پڑتال کو ’’مفروضہ پر مبنی عمل‘‘ قرار دیتے ہوئے مضحکہ اُڑایا اور کہا کہ یہ حملے کسی بھی گوشے سے ہوسکتے ہیں  …  روسی، چینی، یا کوئی عام شخص۔ آخرکار، انھوں نے نیم دلی سے رپورٹ قبول کرلی، لیکن زور دیا کہ روسی مداخلت کا ’’الیکشن کے نتیجے پر بالکلیہ اثر نہ ہوا‘‘۔ یفگینیا الباتس جو کے جی بی سے متعلق کتاب ’’مملکت اندرونِ مملکت‘‘ کی مصنفہ ہے، اُس کا تجزیہ ہے کہ پوتین کو ممکن ہے یقین نہیں تھا کہ وہ امریکی الیکشن کے نتائج تبدیل کرسکتے ہیں، لیکن اوباما اور ہلاری کے تئیں اپنی شدید نفرت کی وجہ سے انھوں نے وہ کچھ کیا جو وہ ٹرمپ کے کاز کو بڑھاوا دینے اور امریکہ کے اپنے سیاسی سسٹم پر اعتماد کو نقصان پہنچانے کیلئے کرسکتے تھے۔ پوتین کو یہ آپریشن پوشیدہ رکھنے میں دلچسپی نہ رہی۔ ’’انھوں نے  تو ممکنہ حد تک عوام پر ظاہر کردینا چاہا۔ انھوں نے اپنے وجود کا احساس دلانا اور بتانا چاہا کہ جیسا بھی ہو ہم تمہارے گھر میں گھس کر اپنا کام کرسکتے ہیں۔‘‘

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT