Tuesday , September 26 2017
Home / Top Stories / اوباما ،مخالف داعش عرب تعاون حاصل کرنے کوشاں

اوباما ،مخالف داعش عرب تعاون حاصل کرنے کوشاں

ریاض میں چوٹی کانفرنس ۔ چھ خلیجی حکمرانوں ۔ صدر امریکہ بات چیت
ریاض 21 اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) امریکی صدر بارک اوباما نے آج سعودی عرب میں خلیجی قائدین سے ملاقات کی تاکہ داعش گروپ کے خلاف مہم میں شدت پیدا کی جاسکے حالانکہ خلیج کے بعض ممالک کے امریکہ سے تعلقات میں سرد مہری پیدا ہوگئی ہے ۔ بارک اوباما کا یہ امریکہ کے اہم ترین حلیف ملک کا عملا آخری دورہ بھی ہوسکتا ہے ۔ اوباما نے اس موقع پر چھ علاقائی قائدین بشمول سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان کے ہمراہ تصویر کشی میں بھی حصہ لیا ۔ شاہی محل میں اس کانفرنس میں چار گھنٹوں تک تبادلہ خیال ہوا ۔ اپنے اس دورہ کے موقع پر صدر اوباما ‘ جن کی معیاد کے اب صرف نو ماہ باقی رہ گئے ہیں ‘ عرب کے سنی ممالک کی ناراضگی بھی دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یہ ممالک امریکہ کے ایران کی سمت جھکاؤ پر قدرے ناراض ہیں۔ یہ چوٹی کانفرنس ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب امریکہ نے یہ اطلاع دی ہے کہ داعش کے عسکریت پسندوں کے خلاف حالیہ وقتوں میں پیشرفت ہوئی ہے ۔ اس گروپ نے عراق و شام میں وسیع علاقہ پر قبضہ کرلیاہے ۔ داعش کے خلاف امریکہ کی قیادت میں ہونے والی کارروائیوں میں سعودی عرب اور دوسرے علاقہ کے عرب ممالک بھی شامل ہیں۔ داعش گروپ کے خلاف حملوں میں شدت کو جاری رکھنے کے مقصد سے ڈیفنس سکریٹری ایشٹن کارٹرنے جو بارک اوباما کے ساتھ ریاض میں ہیں اعلان کیا کہ ان کا ملک عراق کو مزید افواج اور اپاچی ہیلی کاپٹرس روانہ کریگا تاکہ داعش کے خلافح ملوں کا سلسلہ جاری رہ سکے ۔ امریکہ چاہتا ہے کہ جن شہروں کو داعش کے قبضہ سے واپس لیا جاچکا ہے وہاں بھی از سر نو تعمیرات کی جائیں۔ ایشٹن کارٹر نے کل کہا تھا کہ خلیجی ممالک کو عراق میں معاشی اور سیاسی طور پر مزید موثر رول ادا کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ عراق شدید مالی اور تخریب کاری بحران کا شکار ہے ۔ ایشٹن کارٹر نے خلیجی تعاون کونسل کے اپنے ہم منصب وزرائے دفاع سے ملاقات کے بعد اس رائے کا اظہار کیا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT