Saturday , August 19 2017
Home / Top Stories / اوباما ، امریکہ کی تاریخ کے بدترین صدر ، ہلاری دھوکہ باز

اوباما ، امریکہ کی تاریخ کے بدترین صدر ، ہلاری دھوکہ باز

پاکستانی نژاد امریکی فوجی ہمایوں خان کی توہین کی تردید ، سنکلیر براڈ کاسٹ گروپ کو ڈونالڈ ٹرمپ کا انٹرویو
واشنگٹن۔3 اگست (سیاست ڈاٹ کام) ری پبلیکن صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ نے پرائمریز کے دور سے لے کر اپنی نامزدگی ہونے کے بعد تک متنازعہ بیانات دینے کا سلسلہ جاری رکھا ہے جس میں وقت گذرنے کے ساتھ کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ اب انہوں نے امریکی صدر بارک اوباما کو امریکہ کی تاریخ کا بدترین صدر قرار دیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ بارک اوباما ایک انتہائی ناکام صدر ہیں جن کا نام امریکہ کی تاریخ میں ’’سنہری’‘ الفاظ سے لکھا جائے گا۔ ٹرمپ نے فوری اپنا مدعابیان کرتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی جانب دیکھئے۔ شام میں انہیں یہی مغالطہ ہے کہ امریکہ جیتنے والا ہے۔ ٹرمپ سے جب اوباما کی جانب سے ان کے بارے میں (ٹرمپ) دیئے گئے بیان پر تبصرہ کرنے کے لئے کہا گیا تو ٹرمپ نے بھی اپنے دل کی بھڑاس نکالتے ہوئے کہا کہ اوباما نے کہا تھا کہ مجھے نامزد کیا ہی نہیں جائے گا اور اب موصوف کہہ رہے ہیں کہ میرا انتخاب مشکل ہے جبکہ صرف کچھ روز قبل ہی اوباما نے یہ کہہ دیا تھا کہ میں (ٹرمپ) انتخابات میں کامیابی حاصل کرسکتا ہوں۔ کیا کیجئے! حالات ہی کچھ ایسے ہیں جہاں اوباما ہر بار اپنا بیان بدلنے پر مجبور ہیں۔ سنگاپور کے وزیراعظم کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اوباما نے کہا تھا کہ ٹرمپ صدارتی عہدہ کیلئے ناموزوں ہیں۔ ٹرمپ نے انتہائی ڈھٹائی سے کہا کہ انہوں نے پاکستانی نژاد امریکی فوجی ہمایوں خاں کے بارے میں جو کچھ بھی کہا اس پر انہیں کوئی افسوس نہیں ہے۔

یاد رہے کہ ہمایوں خاں 2004ء میں عراق کے ایک خودکش حملے میں جاں بحق ہوگئے تھے۔ ٹرمپ نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے ہمایوں خاں کے بارے میں جو کچھ کہا، اچھا ہی کہا۔ انہوں نے کوئی توہین آمیز کلمات نہیں کہے۔ بہرحال یہ بات اب ہر کوئی جانتا ہے کہ پاکستانی نژاد امریکی فوجی کے خلاف توہین آمیز کلمات کا استعمال کرنے پر ری پبلیکن پارٹی کے متعدد قائدین ٹرمپ کے مخالف ہوگئے ہیں۔ یہاں تک کہ ٹرمپ نے ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار ہلاری کلنٹن کو ’’چڑیل‘‘ بھی کہہ دیا تھا اور اب بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ ایک ’’جھوٹی اور دھوکہ باز خاتون‘‘ ہیں۔ ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنے خدشہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صدارتی انتخابات میں دھاندلی ہوسکتی ہے۔ آزادانہ اور شفاف طور پر رائے دہی پر انہیں شبہ ہے کہ رائے دہی کے بوتھوں پر بھی دھاندلی ہوسکتی ہے جہاں ہم نے ماضی میں بھی دیکھا ہے کہ بغیر شناختی کارڈ کے بھی رائے دہندوں کو رائے دہی کا موقع دیا جارہا ہے۔ پرائمریز کے دوران بھی ایسا ہوا ہے کیونکہ جب جب وہ برنی سینڈرس کی جانب دیکھتے تھے، انہیں (ٹرمپ) یہی خیال آتا تھا کہ وہ (سینڈرس) ہرگز جیت نہیں پائیں گے۔ اس طرح ایسے کئی مسائل ہیں جن کی ہمیں یکسوئی کرنا ہے۔ انٹرویو کے دوران جب ان سے ان کے ٹیکس ریٹرنس کے بارے میں وارن بوفے کی جانب سے انکشاف کئے جانے کے سوال کو انہوں نے نظرانداز کردیا اور کہا کہ وہ وارن بوفے کو نہیں جانتے اور نہ ہی کبھی ان سے ملاقات کی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ٹرمپ کے متعدد تنازعات کے باوجود بھی ماہ نومبر ان کے لئے کیا پیغام لاتا ہے۔ امریکی عوام بھی بردبار ہیں۔ انہیں بھی سیاسی حکمت عملیوں کا اچھی طرح علم ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ ان کے لئے کیا بہتر ہے اور کیا نہیں۔

TOPPOPULARRECENT