Friday , September 22 2017
Home / Top Stories / اوباما ۔ شریف ملاقات پر اب تک کوئی قطعی فیصلہ نہیں ہوا : وائیٹ ہاؤس

اوباما ۔ شریف ملاقات پر اب تک کوئی قطعی فیصلہ نہیں ہوا : وائیٹ ہاؤس

حقانی نیٹ ورک کو تباہ نہ کرنے امریکہ کی پاکستان سے ناراضگی کی افواہیں، کولیشن سپورٹ فنڈ کی اگلی قسط روک دی گئی

واشنگٹن ۔ 21 اگست (سیاست ڈاٹ کام) گذشتہ کچھ دنوں سے یہ خبریں گشت کررہی تھیں کہ امریکی صدر بارک اوباما نے وزیراعظم پاکستان نواز شریف کو ماہ اکٹوبر میں ملاقات کیلئے وائیٹ ہاؤس میں مدعو کیا ہے جبکہ امریکی عہدیداروں نے ان خبروں کو بے بنیاد قرار دیا۔ یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں پاکستانی میڈیا میں یہ خبریں بھی گشت کررہی تھیں کہ امریکہ پاکستان کی جانب سے حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی نہ کرنے پر ناراض ہے جو افغانستان میں اہم امریکی تنصیبات پر حملے کا ذمہ دار ہے۔ ان ہی خبروں کے گشت کرنے کے دوران ہی وائیٹ ہاؤس کو اوباما ۔ شریف ملاقات کے بارے میں وضاحت کرنی پڑی۔ پاکستانی میڈیا نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ اوباما نے نواز شریف کو امریکہ طلب کیا ہے۔ دریں اثناء امریکی صدر کے خصوصی معاون اور سینئر ڈائرکٹر برائے جنوب ایشیائی امور پیٹر لیوائے نے کہا کہ یہ خود ان کے لئے ایک ’’خبر‘‘ ہے۔ یہ بات انہوں نے اس وقت کہی جب میڈیا میں گشت کررہی خبروں کی جانب ان کی توجہ مبذول کروائی گئی۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے ایسا کوئی اعلان نہیں کیا ہے کہ نواز شریف واشنگٹن آرہے ہیں البتہ اس بارے میں انہوں نے کچھ پریس رپورٹس ضرور دیکھی ہیں۔ میڈیا کے بارہا پوچھے جانے پر انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ ہم نے نہ ایسا کوئی اعلان جاری کیا ہے نہ بیان۔ اگر نواز شریف کا دورہ امریکہ پکا ہوا تو سب سے پہلے آپ (میڈیا) لوگوں کو مطلع کیا جائے گا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ دلچسپ ہوگا کہ لیوائے حال ہی میں پاکستان کے دورہ سے واپس آئے ہیں۔ انہوں نے دونوں ممالک کے تعلقات کو انتہائی مستحکم اور پائیدار قرار دیا۔ انہوں نے 9/11 کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو اب ایسا کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے اور نہ ہی دیگر ممالک میں امریکی تنصیبات کو کوئی خطرہ لاحق ہے۔ اس کیلئے پاکستان کی ان کوششوں کی ستائش کرنا چاہئے جو اس نے دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے جرای رکھی ہیں۔ پاکستان کی ان ہی کوششوں کی وجہ سے آج امریکہ بھی محفوظ ہے۔ مسٹر لیوائے  نے کہا کہ امریکہ افغانستان اور ہندوستان کی اس تشویش سے کماحقہ واقف ہے جو سرحد پار دہشت گردی کی وجہ سے انہیں لاحق ہے جو دراصل دہشت گردوں کا محفوظ ٹھکانہ بن چکا ہے اور یہ ایک ایسا حساس معاملہ ہے جس کیلئے پاکستان کے ساتھ سنجیدگی سے بات چیت کی ضرورت ہے۔ دریں اثناء پاکستان کے موقر اخبار ڈان میں شائع کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ نے پاکستان کیلئے کولیشن سپورٹ فنڈ (CSF) کی اجرائی فی الحال روک دی ہے کیونکہ امریکی حکومت کانگریس کو یہ باور کروانے میں ناکام ہوئی ہیکہ امریکہ نے وزیرستان میں دہشت گردی سے نمٹنے جو کارروائیاں کی ہیں، اس سے حقانی نیٹ ورک بھی تباہ ہوا ہے۔ بہرحال حالات ایک بار پھر ’’انتظار کرو اور دیکھو‘‘ جیسے ہوگئے ہیں۔ دوسری طرف امریکی وزیردفاع ایشٹن کارٹر نے غوروخوض کے لئے نہیں آیا ہے۔ 2002ء سے اب تک امریکہ نے کولیشن سپورٹ فنڈ کے تحت پاکستان کو 13 بلین ڈالرس جاری کئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT