Tuesday , August 22 2017
Home / دنیا / اوباما 25 ستمبر کو صدر چین کا وائیٹ ہاؤس میں استقبال کریں گے

اوباما 25 ستمبر کو صدر چین کا وائیٹ ہاؤس میں استقبال کریں گے

سائبر اسپیس میں چینی مداخلت دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کا اہم موضوع، صدر اور خاتون اول کی جانب سے عشائیہ
واشنگٹن 16 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) سائبر سکیوریٹی کے معاملہ پر امریکہ اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران صدر امریکہ بارک اوباما اپنے چینی ہم منصب ژی جن پنگ کا 25 ستمبر کو امریکہ میں استقبال کریں گے۔ وائیٹ ہاؤز میں پریس سکریٹری جوش ارنیٹ نے کہاکہ اوباما ژی جن پنگ کے میزبانی کے فرائض انجام دیں گے اور وائیٹ ہاؤز میں اُن کے لئے استقبالیہ ترتیب دیا جائے گا۔ یاد رہے کہ صدر اوباما نے بھی نومبر 2014 ء میں چین کا دورہ کیا تھا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ جن پنگ کے دورہ کو انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جارہا ہے کیوں کہ اس طرح دونوں ممالک کے درمیان عالمی اور علاقائی سطح کے علاوہ دو رخی تعلقات کو وسیع تر کرنے کے مواقع حاصل ہوں گے۔ جبکہ بعض شعبوں میں جہاں دونوں ممالک کے درمیان اختلافات پائے جاتے ہیں۔ بات چیت کے ذریعہ اُن کی یکسوئی بھی کی جائے گی۔ 25 ستمبر کی شام کو ہی صدر اوباما اور خاتون اول مشیل اوباما ژی جن پنگ اور اُن کی اہلیہ میڈم پینگ لیان کے اعزاز میں عشائیہ ترتیب دیں گے۔ میڈیا میں یہ خبریں بھی گشت کررہی ہیں کہ چین کے ذریعہ امریکہ کی مبینہ سائبر جاسوسی اور سائبر سرقہ کے خلاف امریکہ چین پر تحدیدات عائد کرنا چاہتا ہے۔

 

حالانکہ چین نے امریکہ کے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ مسٹر ارنیٹ نے اپنی روز مرہ کی نیوز بریفنگ کے دوران امریکہ کی جانب سے چین پر تحدیدات عائد کرنے کے امکانات کو مسترد نہیں کیا لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہاکہ یہ انتہائی حساس قسم کا موضوع ہے جس پر عوامی سطح پر بحث نہیں کی جاسکتی۔ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انھوں نے کہاکہ فی الحال جو صورتحال ہے، ہم اُس پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں اور امریکہ نے اس سلسلہ میں کئی اقدامات بھی کئے ہیں جہاں سب سے اہم بات صدر سے صدر کے روابط پیدا کرنا ہے کیوں کہ امریکی صدر نے اپنے چینی ہم منصب کو سائبر شعبہ میں چینی سرگرمیوں کے بارے میں صاف صاف بتادیا تھا اور امریکہ کی ناراضگی سے واقف کروایا تھا۔ گزشتہ سال امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے سائبر اسپیس میں مداخلت کرنے پر امریکہ نے پانچ چینی فوجی عہدیداروں کو قصوروار ٹھہرایا تھا لہذا عوام بھی یہ بات جانتے ہیں کہ امریکی صدر اس معاملہ میں اپنے چینی ہم منصب کے ساتھ بات چیت کرنے انتہائی سنجیدہ ہیں اور یہ اس بات سے ظاہر ہوجاتا ہے کہ صدر چین نے اپنے دورہ امریکہ سے قبل اپنے سکریٹری نیگ کو امریکہ روانہ کیا تاکہ وہ مختلف امریکی عہدیداروں سے ملاقات کرتے ہوئے صورتحال کی سنگینی یا عدم سنگینی کا جائزہ لے سکیں۔ امریکہ نے چین کو شمالی کوریا سے لاحق خطرہ سے نمٹنے کے لئے بھی اپنے تعاون کا پیشکش کیا ہے اور اس بات کی کوشش بھی جاری ہے کہ جزیرہ نما کوریا کو نیوکلیر توانائی کے حصول سے باز رکھے۔

TOPPOPULARRECENT