Thursday , October 19 2017
Home / شہر کی خبریں / اوبر اور اولا ٹیکسی ڈرائیورس کی ہڑتال میں کل سے شدت

اوبر اور اولا ٹیکسی ڈرائیورس کی ہڑتال میں کل سے شدت

جنوبی ہند کے دیگر ریاستوں میں بھی احتجاج ، ڈرائیورس تنظیموں کا فیصلہ
حیدرآباد۔13فروری(سیاست نیوز) اوبر اور اولا ٹیکسی ڈرائیورس کی ہڑتال میں 15فروری سے شدت پیدا ہوگی۔ اوبر و اولا ڈرائیورس کی تنظیموں نے فیصلہ کیا ہے کہ ملک کے دارالحکومت میں جاری ہڑتال میں شدت پیدا کرنے کیلئے کئے جانے والے اقدامات کے تحت 15فروری کو جنوبی ہند کی ریاستوں میں بھی ہڑتال کرتے ہوئے انتظامیہ کے خلاف مظاہرے کئے جائیںگے۔ اولا اور اوبر ڈرائیورس کی تنظیموں نے الزام عائد کیا کہ انہیں کمپنی نے ابتداء میں ماہانہ ایک لاکھ تک کی آمدنی کا پیشکش کیا تھا لیکن اب تک بھی ان کمپنیوں کی جانب سے ایک لاکھ تک آمدنی نہیں کی گئی ہے بلکہ انہیں ماہانہ 30تا35ہزار روپئے مل رہے ہیں جن میں 16تا18ہزار روپئے کار کے اقساط کی ادائیگی میں چلے جاتے ہیں لیکن اس کے باوجود اب تک ڈرائیورس نے اس امید پر خاموشی اختیار کی ہے کہ کمپنی کے امور میں تبدیلی آئے گی لیکن موجودہ حالات میں کمپنی کی جانب سے اختیار کردہ موقف کو دیکھتے ہوئے کمپنی کی پالیسیوں کے خلاف جدوجہد ناگزیر ہوچکی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بنگلور‘ حیدرآباد‘ چینائی کے علاوہ جنوبی ریاستوں کے دیگر شہروں میں بھی اولا اور اوبر ڈرائیورس نے ہڑتال میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے اور 15فروری کی اس ہڑتال کے ذریعہ دہلی میں جاری ہڑتالی ڈرائیورس کے مطالبات کی تائید اور ان سے اظہار یگانگت کیا جائے گا۔ڈرائیورس کے بموجب کمپنی کی جانب سے اختیار کردہ پالیسی میں متعدد تبدیلیوں کے سبب پیدا شدہ اس صورتحال میں ڈرائیورس کی آمدنی پر کافی گہرا اثر پڑا ہے اور اس صورتحال سے نکلنے کیلئے یہ ضروری ہے کہ کمپنی پر دباؤ ڈالتے ہوئے ڈرائیورس کے مفادات کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔اولا اور اوبر کے درمیان جاری مسابقت کے سبب اس صورتحال کے پیدا ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے ڈرائیورس کا الزام ہے کہ ملک کے بڑے شہروں میں ٹیکسی خدمات عام ہونے اور معاہدے کئے جانے کے بعد کمپنی کی پالیسیوں میں لائی جانے والی تبدیلیوں کے سبب اقساط پر کاریں لیتے ہوئے خدمات انجام دینے والے ڈرائیورس کو مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ ڈرائیورس کی تنظیموں کے قائدین کا کہنا ہے کہ ڈرائیورس اپنی مالی حالت کے سبب طویل مدتی ہڑتال یا احتجاج کا حصہ بنے نہیں رہ سکتے اسی لئے ملک گیر سطح پر جب تک احتجاج میں شدت پیدا نہیں کی جاتی اس وقت تک مطالبات حل ہونے کی توقع نہیں کی جاسکتی۔

TOPPOPULARRECENT