Saturday , August 19 2017
Home / مضامین / اورماں کی دولت دنیا میں اولاد سے زیادہ کیا ہوگی

اورماں کی دولت دنیا میں اولاد سے زیادہ کیا ہوگی

سید جلیل ازہر
گاڑیوں کی تیز رفتار نے کئی زندگیوں کو ان کی آغوش میں لے لیا ہے کہیں بچے یتیم ہوگئے تو کسی ماں کا سیندور اجڑ گیا ، کہیں دلہنیں بیوہ ہوگئی تو کہیں ماں کی گود اجڑ گئی۔ جانے کتنے باپ ایسے ہیں جن کے کاندھے جوان بیٹوں کے جنازے کے بوجھ سے ٹوٹ گئے لیکن حادثات میں کمی نہیں ہورہی ہے ۔ جوانی کے جوش میں نوجوانوں میں تیز رفتار گاڑیاں چلانے کیلئے رجحان نے کئی گھر اجاڑے ہیں بلکہ نسل نو کے گاڑیوں کے شوق نے والدین کا سکون و چین چھین لیا ہے بلکہ اب گھر میں ماں جب تک نہیں سوتی تب تک اس کا لخت جگر گھر نہیں پہونچتا ۔ بقول منور رانا ؎
وہ تو لکھا کے لائی ہے قسمت میں جاگنا
ماں کیسے سو سکے گی بیٹا سفر میں ہے
دیہی علاقوں، قومی شاہ روں پر سڑ ک حادثات کے سبب کئی گھر اجڑ گئے اور اب بھی اجڑ رہے ہیں ۔ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے نوجوانوں میں گاڑی کو تیز رفتار چلانے کے سبب جو واقعات رونما ہورہے ہیں، اس کی روک تھام بے حد ضروری ہے ۔ نسل نو کو اس جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ پرندے ہواؤں میں اُڑتے ہیں لیکن ان میں کبھی تصادم نہیں ہوتا ۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ ؎

پرندوں کو نہیں دی جاتی تعلیم اڑانوںکی
وہ خود ہی طئے کرتے ہیں منزل آسمانوں کی
ضلع عادل آباد کی تار یخ میں پہلی مرتبہ ایک اعلیٰ افسر ضلع ایس پی مسٹر وکرم جیت دگل نے ڈھائی ماہ قبل اپنے عہدہ کا جائزہ حاصل کیا، جب سے انہوں نے اپنی ذمہ داری نبھالی ۔ سارے ضلع کی پولیس کو متحرک کرتے ہوئے ہر روز وہیکل چیکنگ کے لئے اپنے عملہ کو مصروف کردیا، ساتھ ہی ضلع کی عوام کو حیرت اس وقت ہوئی جب ہر کسی نے اس منظر کو بار بار دیکھا کہ وکرم جیت دگل سپرنٹنڈنٹ خود سڑک پر اپنے عملہ کے ہمراہ وہیکل چیکنگ ہی نہیں کی بلکہ کاغذات اور الائنس نہ ہونے کے سبب خود جرمانہ کی رسید چاک کی، ان کی منہ بولتی تصاویر سے ظاہر ہوتاہے کہ وہ عوام کی زندگیوں کیلئے کسی قدر فکرمند ہیں جبکہ دریں اثناء نمائندہ سیاست جلیل ازہر نے عادل آباد میں ان سے ملاقات کی تو انہوںنے بتایا کہ حادثات کے سبب ایک نوجوان کی موت ہوجاتی ہے تو اس ایک نوجوان کی موت سے منسلک کئی زندگیاں تباہ و برباد ہوجاتی ہے ۔ وہ گھر کے افراد کی کئی ایک کی امید ہوتا ہے وہ کسی کا سہاگ ہوسکتا ہے، وہ کسی کا لخت جگر ہوسکتا ہے ۔ ماں باپ کو خواہشات سہارے کے محروم ہوجانے سے گھٹ گھٹ کر دم توڑدیتی ہیں۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق جاریہ سال یکم جنوری سے اب تک اس ضلع میں 796 مختلف مقامات پر مختلف حادثات ہوئے جن میں 132 افراد کی موت ہوگئی ۔ 320 لوگ زخمی ہ وگئے ۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ایک اندازہ کے مطابق ستر نوجوان ایسے ہیں جن کی عمریں 30 کی تھیں، کچھ جنازہ ایسے بھی دیکھنے کو ملے کہ باپ اپنے کاندھوں پر جوان بیٹے کا جنازہ اٹھاتے ہوئے اپنے اشک کو سنبھال نہیں پارہا ہے تو دلہن کے دریچوں میں یہ شعر ہٹھکلیاں لے رہا تھا ؎
احسان زمانہ کا اٹھا بھی نہیں سکتا
خوددار ہوں سر اپنا جھکا بھی نہیں سکتا
اس عمر میں کیوں چھوڑ کے تو چل دیا بیٹے
کاندھوں پہ تیری نعش اٹھا بھی نہیں سکتا
ایسے حالات میں وکرم جیت دگل جو عوام کی ترقی اور قبائیلی علاقوں کی نسل نو کو تعلیم کی سمت لے جانے جو اقدامات کر رہے ہیں، اس کو بھلایا نہیں جاسکتا ۔ انتہائی کم عرصہ میں غریب عوام بلا لحاظ مذہب و ملت ان کے اس جذبہ کا ہر کوئی معترف ہے ۔ انہوں نے نمائندہ سیاست سے بات چیت کرتے ہوئے واضح انداز میں کہا کہ ہم بھی اپنے سینہ میں دھڑکتا ہوا دل رکھتے ہیں۔ شاندار مستقبل کی جستجو اور ماں باپ کی شفقت ہمارے بزرگوں کی دعاؤں نے مجھے آج اس مقام تک پہونچایا ہے ۔ظاہر ہے ، ہر ماں باپ اپنے آنگن میں خوشیاں رقص کرتی ہوئی دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس کے لئے میں جب تک اس ضلع میں ہوں نسل نو کو تعلیم کے میدان میں را غب کرنے کے لئے مسلسل کوشش کروں گا ۔ اس لئے کہ تعلیم یافتہ نسل ہی تہذیب یافتہ معاشرہ تکمیل دے سکتی ہے ، میں کسی نام نمود یا مقبولیت کیلئے یہ کام نہیں کر رہا ہوں بلکہ صرف اور صرف انسانیت کے فرائض کو بھی اپنی ڈیوٹی میں شامل کرتے ہوئے ملازمت کے سفر میں آگے بڑھ رہا ہوں، میں جانتا ہوں اور ہر ذمہ دار کو مشورہ بھی دوں گا کہ ’’اپنا فائدہ سوچے بنا سب کے ساتھ اچھائی کرو کیونکہ جو لوگ پھول بیجتے ہیں، ان کے ہاتھوں میں خوشبو ضرور رہ جاتی ہے ۔ اس لئے کہ انسان خود عظیم نہیں ہوتا بلکہ اس کا کردار اسے عظیم بنادیتا ہے ۔ یہاں یہ بتانا بے محل نہ ہوگا کہ آج سڑکوں کی کشادگی اور گا ڑیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے ساتھ ساتھ تیز رفتاری نے کئی گھر اجاڑ دیئے ہیں۔ بالخصوص ٹو وہیلرس کے حادثات جبکہ محکمہ پو لیس پوری طرح سے اس کی روک تھام کیلئے سمینار منعقد کرتے ہوئے ٹو وہیلرس کے مالکین کو بار بار ہیلمٹ کے استعمال کی ترغیب دے رہا ہے ، ایک ضلع میں اس سال کے حادثات کی تعداد سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ریاست تلنگانہ میں سڑک حادثات کی وجہ کتنے نوجوان موت کی آغوش میں چلے گئے ہوں گے ، کتنے گھروں کا شیرازہ بکھر گیا ہوگا، اس جانب توجہ دینا سرپرستوں کی بھی ذمہ داری ہے ۔

غم کی چوٹیں زخموں پہ فولاد سے زیادہ کیا ہوگی
اورماں کی دولت دنیا میں اولاد سے زیادہ کیا ہوگی
وکرم جیت دگل انتہائی گھنے جنگلات کے قبائیلوں کے علاقوں میں پہونچ کر ان کو احساس کمتری سے باہر لاتے ہوئے ان کے بچوں کو اسکولس کی راہ دکھا رہے ہیں اور ان کے ساتھ کھانا کھانا بلکہ رقص کرتے ہوئے ان قبائیلوں میں ایک نئے حوصلہ کی راہ ہموار کرنے لگے ۔ ان کا کہنا ہے کہ حوصلہ ہی آگ کو گلزار بنادیتا ہے ۔ وکرم جیت دگل کا تعلق ریاست پنجاب سے ہے ، قبل ازیں وہ پڑوسی ضلع نظام آباد کے علاوہ نلگنڈہ ایس پی کی حیثیت سے نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ عوام کے دکھ درد کا جذبہ ان میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے ۔ یہی سبب ہے کہ مسلسل حادثات کی روک تھام کیلئے ضلع کی ساری پولیس کو متحرک کرتے ہوئے خود بھی تنقیح کر رہے ہیں ۔ یقیناً نوجوانوںکو اس جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ وہ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے سڑکوں پر تیز رفتار گاڑیوں کو دوڑانے سے گریز کریں اور اس بات پر غور کریں کہ حادثہ کی موت کے بعد اس خاندان پر کیا گزرتی ہے مرنے والا تو چلا جاتا ہے ، وہ دیکھ تو نہیں سکتا کہ اس کے پسماندگان کا کیا ہوگا ۔ ہر شہری کو ہر اچھے کام کیلئے کوشش کرنی چاہئے اس لئے کہ نتیجہ کوششوں کا نکلتا ہے ، خواہشوں کا نہیں۔
Cell: 9849172877

TOPPOPULARRECENT