Wednesday , September 20 2017
Home / ہندوستان / اورنگ زیب روڈ کے نام کی تبدیلی فاش غلطی و خطرناک رجحان

اورنگ زیب روڈ کے نام کی تبدیلی فاش غلطی و خطرناک رجحان

سنگین مضمرات کے اندیشے، ماضی کو حال کے آئینہ میں دیکھنا تنگ نظری،مورخین کا خطاب

نئی دہلی۔6 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) دہلی میں اورنگ زیب روڈ کے نام کی تبدیلی کی کوششوں پر مورخین اور اہل علم دانشوروں نے آج سخت تنقید کی اور ایسی کوششوں کو دراصل ’’تاریخ پر غلط نظر‘‘ کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ تاریخی یادگاروں کے ناموں کی تبدیلی کے عمل سے غلط مثال قائم ہوگی اور سنگین مسائل پیدا ہوں گے۔ قلب دہلی میں واقع تاریخی اورنگ زیب روڈ کے نام کی تبدیلی اور اس کو سابق صدر اے پی جے عبدالکلام سے موسوم کرنے کی ایک تجویز کو نئی دہلی میونسپل کونسل نے 28 اگست کو منظوری دی تھی۔ یہ ایک ایسا اقدام ہے جس کے بارے میں کئی مورخین کا احساس ہے کہ یہ اقدام عالمی شہرت یافتہ سائنس داں کے رتبہ کو گھٹا سکتا ہے۔ نامور مورخ نارائنی گپتا نے کہا کہ اس قسم کے مسائل اس لئے اُٹھتے ہیں کیونکہ بعض لوگوں کو تاریخی حقائق پر شعور و احساس نہیں رہتا۔

گپتا نے کہا کہ ’’اَشوکا روڈ، فیروز شاہ روڈ کے علاوہ شہنشاہ چارج پنجم اور ملکہ میری، ہارڈنگ اور ولیسلی روڈس کے نام ممتاز مورخ پر سیول اسپئر نے تجویز کئے تھے جو اس وقت سینٹ اسٹیفن کالج میں تاریخ کے استاذ تھے چنانچہ محض تاریخی ناموں کو مٹا دینا ٹھیک نہیں۔ مزید برآں کسی یادگاری نام سے کوئی تاریخ بھی وابستہ رہتی ہے اور عبدالکلام کو صحیح خراج عقیدت ادا کرنے کیلئے بچوں کے کسی سائنس میوزیم کو ان سے موسوم کیا جانا چاہئے، نہ کہ کسی معروف مقام کا نام تبدیل کرتے ہوئے ان سے موسوم کیا جائے‘‘۔ برطانوی آرکیٹیکٹ سرایڈوین لینڈ سیئر لوئٹنس نے 1911-1931ء کے دوران سرہربرٹ بیکر کے ساتھ نئی دہلی کی ترتیب و تزئین کی تھی۔ تاہم مابعد آزادی بالخصوص مہاتما گاندھی کے قتل اور پنڈت جواہر لعل نہرو کے انتقال کے بعد بشمول قومی دارالحکومت، ملک بھر میں اہم مقامات کے ناموں کی تبدیلی کا سلسلہ شروع ہوگیا جہاں برطانوی ناموں کو مٹاتے ہوئے ان یادگاروں کو ہندوستانی قائدین سے موسوم کیا گیا۔ دہلی کے معروف مورخ اور مصنف آر وی اسمتھ نے جو آگرہ میں پلے اور بڑھے ہیں، کہا کہ ’’آگرہ کی ایک طویل پٹی ’’ون ڈامنڈ روڈ‘‘ جو آگرہ کے انگریز مجسٹریٹ سے موسوم تھی، آزادی کے فوری بعد اس کا نام بدلتے ہوئے مہاتما گاندھی روڈ سے موسوم کردی گئی۔ دہلی میں بھی کئی تاریخی یادگاروں کے نام تبدیل کردیئے گئے۔ ’’کنگس وے‘‘ کو ’’راج پتھ‘‘ اور ’’کوئنس وے‘‘ کو ’’جن پتھ‘‘ بنادیا گیا۔ ہارڈنگ ایوینیو کو ’’تلک مارک‘‘ بنادیا گیا حالانکہ تاریخ کوئی ایسی چیز نہیں ہوتی

جس کی تصحیح یا اصلاح کی جاسکتی ہے۔ آر وی اسمتھ نے کہا کہ ’’ہمیں تاریخ کا احترام سیکھنا چاہئے اور اورنگ زیب روڈ کے نام کی تبدیلی کے ذریعہ ہم ایک خطرناک رجحان کی شروعات کی اجازت دے رہے ہیں جو لوگ اُن (اورنگ زیب) کا نام مٹانا چاہتے ہیں، وہ یا تو تاریخ کو نہیں سمجھتے یا پھر غلط سمجھتے ہیں۔ مشہور ، معروف و مستند تاریخی کتاب ’’دہلی جو کوئی نہیں جانتا‘‘ کے مصنف آر وی اسمتھ نے کہا کہ ’’انہوں (اورنگ زیب) نے تقریباً 50 سال تک وسط ایشیا سے رنگون تک حکمرانی کی ہے اور ہر شہنشاہ میں چند اچھے اور چند برے صفات ہوتے ہیں، لیکن عصر حاضر کے آئینہ میں ماضی کے واقعات اور تاریخ کو دیکھنا غلط ہے۔ماضی میں تاریخی ولنگڈن کریسنٹ اور ولنگڈن ہاسپٹل کے نام بدل دیئے گئے اور تو اور پرانی دہلی کے ’’وکٹوریہ میمورئیل زنانہ ہاسپٹل‘‘ کا نام بدلتے ہوئے اس کو کستوربا میموریل ہاسپٹل بنادیا گیا۔ انہوں نے استفسار کیا کہ ’’آیا ہم ایسی نئی سڑکیں اور ادارہ جات کیوں نہیں بناسکتے جنہیں اپنے قائدین سے موسوم کیا جاسکتا ہے۔ قدیم مقامات کے ناموں کی تبدیلی نہ صرف تاریخ بلکہ خود ان شخصیات کی بھی توہین کے مترادف ہوتی ہے

جن سے ان مقامات کو موسوم کیا جاتا ہے‘‘۔ آثار قدیمہ کے تحفظ کے ماہر آرکیٹیکٹ اور انٹاک دہلی یونٹ کے سربراہ اے جی کے مینن نے کہا کہ اورنگ زیب روڈ کے نام کی تبدیلی کو بدبختانہ قرار دیا اور کہا کہ اس سے ایک ایسا رجحان شروع ہوگا جس پر قابو پانا ملک کے لئے دشوار ہوجائے گا۔ مینن نے کہا کہ ’’پہلے ہم اپنے شہروں سے انگریز حکمرانوں کے نام ہٹا دیئے اور اب مغلوں کے نام ہٹا رہے ہیں۔ میرے کہنے کا مطلب ہے کہ آیا ہم کس حد تک پیچھے جائیں گے اور پھر ناموں کی تبدیلی کی آخر ضرورت ہی کیا ہے۔ مہاراشٹرا میں اب یہ آوازیں اُٹھ رہی ہیں کہ اورنگ آباد جیسے سارے شہر کا نام ہی بدل دیا جائے ۔ یہ ایک بہت بُرا رجحان ہے جس کے سنگین اثرات و مضمرات ہوں گے‘‘۔ برطانوی ماہر تعلیم و دانشور سلیم خاں جنہوں نے لندن یونیورسٹی میں ’’جدید تاریخ کی تحریر میں اورنگ زیب کی صورت گری‘‘ کے موضوع پر ایم اے کیلئے اپنا مقالہ لکھا ہے، کہا کہ اورنگ زیب کے کردار کو ان کی حیات اور حالات کو غیرجانبدارانہ انداز میں سمجھے بغیر حالیہ عرصہ کے دوران ان (اورنگ زیب) کی شخصیت کو کافی مسخ کرکے پیش کیا گیا۔ سلیم خاں نے کہا کہ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اورنگ زیب ایک عظیم بادشاہ تھا اور ان انگریزوں نے جن کے خلاف انہوں (اورنگ زیب) نے لڑائی لڑی تھی، خود ان کے نام سے سڑک کو موسوم کیا تھا۔ ’’بالعموم یہ کہا جاتا ہے کہ وہ (اورنگ زیب) ایک ظالم اور مخالف ہندو بادشاہ تھا لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ دیگر کسی بھی بادشاہ کے مقابلے اورنگ زیب نے سب سے زیادہ ہندوؤں کو اپنے پاس ملازمت دی تھی‘‘۔

TOPPOPULARRECENT