Friday , September 22 2017
Home / مضامین / اور اب کاپو طبقہ ریزرویشن کیلئے تشدد پر آمادہ

اور اب کاپو طبقہ ریزرویشن کیلئے تشدد پر آمادہ

نوید علی خان
آندھرا پردیش میں کاپو طبقہ کے لوگ اپنے لئے ریزرویشن کی مانگ کو لے کر پوری ریاست میں آتشزنی اور مظاہرے کررہے ہیں ۔ ابھی کچھ مہینے پہلے ہی پٹیل طبقہ کے لوگوں نے ریزرویشن کی مانگ کے پیش نظر پورے ملک میں ماحول خراب کردیا تھا ۔ لیکن ایک بار پھر سے کاپو طبقہ کی شکل میں ریزرویشن کا جن بوتل سے باہر نکل آیا ہے ۔ لیکن اس بار ریزرویشن کو لے کر منظر نامہ پوری طرح سے بدلا ہوا ہے ، جس ذات کے لئے ریزرویشن کی مانگ کی جارہی ہے وہ سوچنے پر مجبور کررہی ہے ۔ سب کو معلوم ہے کہ آندھرا پردیش کا کاپو طبقہ اتنا گیا گزرا نہیں ہے جس کے لئے ریزرویشن کی ضرورت پڑے ۔ کاپو کا مطلب ہوتا ہے کسان ۔ کھیتی باڑی کرنے والے کاپو ذات کے لوگ، خوشحال ہیں ۔ بزنس اور کاروبار بھی کررہے ہیں ۔ ان کے لوگ حکومت کے اعلی عہدوں پر بھی فائز ہیں ۔ بچے غیر ملکوں میں تعلیم حاصل کررہے ہیں ۔ کئی لوگ خاندان سمیت بیرون ملک رہتے بھی ہیں ۔ ریزرویشن کو لے کر دہائیوں قبل لکھے گئے دستور میں صاف ذکر ہے کہ ریزرویشن صرف کمزور ، غریب اور بے سہارا لوگوں کی فلاح و بہبود کے لئے دیا جانا چاہئے ۔ لیکن اب ریزرویشن کو لے کر اصطلاح پوری طرح بدل گئی ہے ۔ ریزرویشن کے نام پر سبھی سیاسی جماعتیں جم کر سیاست کرتی ہیں ۔ مزے کی بات یہ ہے کہ جب سیاسی جماعتیں اقتدار میں ہوتی ہیں ، تب ریزرویشن نہیں دینے کی بات کرتی ہیں ، لیکن جب اپوزیشن میں ہوتی ہیں تو اس کی وکالت کرتی ہیں ۔ سوال اس بات کا ہے کہ ہمارے سیاستدان ذات پات کو ختم کرنے کی سمت میں پہل کیوں نہیں کرتے ؟ یکساں تعلیم اور یکساں مواقع کی بات کیوں نہیں کرتے ۔ اگر ذات ہے تو ریزرویشن کی مانگ اسی طرح اٹھتی رہے گی ۔ ریزرویشن کی زمینی حقیقت تو یہ ہے کہ اپنے مقصد سے یہ بھٹک چکا ہے ۔
پچھلے کچھ دنوں سے سیاسی طور پر بااثر کاپو طبقہ کی جانب سے آندھرا پردیش کے کچھ حصوں میں تشدد کئے جانے کے ایک دن بعد مظاہرہ کی قیادت کررہے ہیں ۔ مدرلگا پدمنابھن نے اب دھمکی  دی ہے کہ وہ اپنی ذات کے دیگر پچھڑا طبقہ یعنی او بی سی زمرے میں شامل کرانے کو لے کر 5 فروری سے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کریں گے ۔ دوسری جانب ریزرویشن کے مسئلے پر کاپو طبقہ کے ایک شخص نے مبینہ طور پر خودکشی بھی کرلی ہے ۔ کاپو مظاہرہ کنندگان نے آندھرا پردیش کے کئی حصوں میں آتشزنی اور سنگ باری بھی کی ۔

 

ریل گاڑی کے ڈبے آگ کے حوالے کردئے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ریزرویشن کی آگ میں اس طرح کا نقصان کب تک ہوتا رہے گا ۔ کاپو طبقہ ہمیشہ سے سیاسی ، سماجی اور تعلیمی نقطہ نظر سے آگے اور دولت مند رہا ہے ۔ اس احتجاج کی جو لوگ قیادت کررہے ہیں وہ اپنی سیاسی زمین تلاش کررہے ہیں ۔ کاپو طبقہ آندھرا پردیش کے بااثر طبقات میں سے ایک ہے  ۔ ان کا اثر خاص کر ساحلی اضلاع میں زیادہ ہے ۔ جب تلنگانہ ریاست کی مانگ کی جارہی تھی اس وقت کاپو طبقہ سے وعدہ کیا گیا تھا کہ آندھرا پردیش کے سبھی کاپو ذات کے لوگوں کو ریزرویشن کی خاص فہرست میں رکھا جائے گا ۔ اس کے بعد آندھرا الگ ریاست بھی بن گئی لیکن مانگ ادھوری ہی رہ گئی ۔ یہ سب دیکھتے ہوئے ایک بات کہتے ہوئے جھجک نہیں ہونی چاہئے کہ ریزرویشن کی ہوا سیاستداں ہی دیتے ہیں ۔ کاپو طبقہ کی یہ قیادت پدمنابھن کررہے ہیں  ۔انھوں نے سرکار سے مانگ کی ہے کہ اگر ان کی مانگ نہیں مانی گئی تو ان کی بیوی 5 فروری کو غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع  کریں گی ۔ انھوں نے یہ بھی دھمکی دی کہ اگر ان کے مظاہرے کو روکنے کی کوشش کی گئی اور اگر جیل میں بھی ڈالا جاتا ہے تو جیل میں بھی وہ اپنی بھوک ہڑتال کریں گے ۔ کاپو طبقہ کا مظاہرہ لگاتار اشتعال انگیز ہوتا جارہا ہے ۔ ایک مظاہرہ کرنے والے شخص نے تو گزشتہ دنوں کاکی ناڈا شہر میں خودکشی بھی کرلی ۔ کاپو طبقہ کو ریزرویشن نہ دیئے جانے اور آندھرا پردیش کو خصوصی ریاست کا درجہ نہ دینے کی مخالفت میں اس شخص نے خودکشی کی ہے ۔ ذات پات کے نام پر ریزرویشن کو لے کر ملک کئی سالوں سے ٹھگا گیا ہے ۔ کسی ریزرویشن پر حکومت اگر غور کربھی لیتی ہے تو فوراً دوسرے طبقہ کے لوگ ریزرویشن کے لئے کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ جاٹ ریزرویشن ، گرجر ریزرویشن ، علاقائی ریزرویشن وغیرہ طبقات کے لئے ریزرویشن کی آوازیں پچھلے کچھ برسوں سے زور پکڑ رہی ہیں ۔ سوال اس بات کا ہے کہ آندھرا کے کاپو طبقہ کی ریزرویشن کی مانگ کتنی جائز ہے ، اس بات کی سماجی اور معاشی جانچ ضروری ہے ۔ ان ریزرویشنس کی مانگ کو دیکھ کر انگریزی حکمرانی کی یاد آتی ہے ۔ برٹش پالیسی ’’پھوٹ ڈالو ، حکومت کرو‘‘ پر آج موجودہ وقت میں عمل کیا جارہا ہے ۔ دکھ اس بات کا ہے کہ سات دہائی کی آزادی کے بعد بھی ہم ذات اور مذہب کی سیاست سے اوپر نہیں اٹھ پارہے ہیں ۔ دیکھا جائے تو اب ریزرویشن کی مانگ کی آڑ میں ووٹ کی سیاست نیتا گیری کا شارٹ کٹ راستہ بن گیا ہے ۔ زمینی سطح پر ذات کا سچ کچھ اور ہی ہے ۔ دیہی ہندوستان میں آج بھی محروم اور استحصال زدہ طبقات کے ساتھ استحصال ہوتا ہے  ۔ساتھ میں یہ بھی سچ ہے کہ پچھڑوں کے ریزرویشن کے نام پر ایسی ذاتیں ریزرویشن کا فائدہ لے رہی ہیں ، جو سماجی اور معاشی طور پر عام ذات والوں کی طرح ہیں ۔ ووٹ بینک کے لئے ریزرویشن کی سیاست جدید ہندوستان کے لئے ناسور بن چکی ہے ۔ اس مسئلہ کا قابل قبول اور قابل قدر حل نکالنا ہوگا ۔

TOPPOPULARRECENT