Thursday , October 19 2017
Home / مضامین / اور فراز چاہئے کتنی محبتیں تجھے

اور فراز چاہئے کتنی محبتیں تجھے

کے این واصف
جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کے کان میں اذان دی جاتی ہے ۔ یہ طریقۂ سنت ہے ۔ 3 اکتوبر 1982 ء کو پٹنہ میں ایک بچہ پیدا ہوا حسب  طریقے سنت بچے کے کان میں اذان تو دے دی گئی مگر بچے کے والد نے ایک جدت یہ کی کہ اذان کے بعد بچے کے کان میں اردو کے معروف شاعر احمد فرازؔ کے کچھ اشعار بھی پڑھ دیئے ۔یہ جدت اردو ادب سے گہرا لگاؤ رکھنے والے سابق مرکزی وزیر اعلیٰ اشرف فاطمی صاحب نے کی تھی ۔ فاطمی صاحب احمد فرازؔ کے مداح ہیں اور فراز سے ان کے شخصی مراسم بھی تھے ۔ احمد فرازؔ سے عقیدت مندی میں انہوں نے اپنے فرزند اکبر کا نام بھی فرازؔ فاطمی رکھا۔ فراز فاطمی کے کان میں شعر و ادب روز اول ہی ڈال گیا تھا ۔ مگر فراز نے خود شاعری تو نہیں شروع کی لیکن وہ شعر و ادب کا اچھا ذوق ضرور رکھتے ہیں۔ احمد فرازؔ نے اپنے مداح کی عقیدت مندی اور چاہتوں کا جواب اپنے ایک شعر میں یوں دیا ہے۔
اور فرازؔ چاہئے کتنی محبتیں تجھے
ماؤں نے ترے نام پہ بچوں کا نام رکھ دیا
واقعی احمد فرازؔ نے دنیائے ادب میں بڑا نام کمایا ، بہت محبتیں لوٹیں، دنیا میں اپنے لاکھوں چاہنے والے بنائے اور جو ادبی سرمایہ انہوں نے چھوڑا ہے ، اس سے دلداگانِ ادب برسوں مسرور و مخصوص ہوتے رہیں گے۔

حضرات ! آج کی محفل کے نوشہ جن کا نامِ نامی احمد فرازؔ کے نام پر فراز فاطمی رکھا گیا نے بھی کچھ کم محبتیں نہیں لوٹیں ہیں۔ وہ ابھی کم عمر ہیں اور عوامی زندگی میں ابھی ابھی قدم رکھا ہے۔ عوام نے انہیں اپنی محبتوں سے نوازا ہے۔ انہیں حالیہ الیکشن میں بھاری اکثریت سے کامیابی دلائی۔ فراز فاطمی کی ہر دالعزیزی اور مقبولیت کا ثبوت خود آج کی یہ محفل ہے جس کا اہتمام بہار فاؤنڈیشن نے کیا ہے ۔ وطن سے ہزاروں میل دور بھی لوگ ان کے تئیں اپنے خلوص و محبت کے اظہار کیلئے یہ پر وقار تقریب کا انعقاد عمل میں لایا اپنی محبتوں سے نوازا۔ ایک جواں سال عوامی شاعر کیلئے یہ ایک قابل رشک بات ہے۔ بہار کے ضلع در بھنگا جہاں سے فراز کے والد اے اے فاطمی صاحب رکن پارلیمنٹ رہ چکے اسی ضلع کے حلقہ اسمبلی کییوٹی (KEOTI) سے 2015 ء کے الیکشن میں فراز فاطمی رکن اسمبلی منتخب ہوئے ہیں۔
فراز فاطمی کی ابتدائی تعلیم پٹنہ میں ہوئی اور انہوں نے حیدرآباد کے میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کیا ۔ فراز نے اپنی میڈیکل کی تعلیم کے سلسلے میں حیدرآباد میں 5 سال گزارے ۔انہیں اس شہر سے کافی اُنس بھی ہے۔ فراز نے حیدرآباد میں اپنا ایک بڑا حلقہ احباب بھی بنایا ہوا ہے اور وہ اکثر حیدرآباد جاتے رہتے ہیں۔ ویسے آج کل بہاری باشندے بڑی تعداد میں حیدرآباد میں آباد ہورہے ہیں ۔ ہم یہ کہاوت تو عرصہ سے سنتے آئے ہیں’’ایک بہاری سو پہ بھاری‘‘ اگر واقعی سچ ہے تو پھر بہت جلد حیدرآباد میں بہاریوں کی آبادی حیدرآبادیوں سے تجاوز کرجائے گی اور پھر حیدرآباد کو بہار بنتے دیر نہیں لگے گی۔ ہم نے عرصہ پہلے ایک لطیفہ بھی سنا تھا کہ ایک مرتبہ لالو پرساد یادو جاپان کے دورہ پر گئے ۔ وہاں کے وزیراعظم سے ملاقات کی ۔ دوران گفتگو ریاستی ترقی کی پر بھی بات ہوئی ۔ جاپانی وزیراعظم نے لالو جی سے کہا کہ آپ 5 سال کیلئے بہار ہمارے حوالے کردیں۔ ہم اسے جاپان بنادیں گے۔ اس پر لالو جی نے کہا آپ مجھے ایک سال کیلئے جاپان دے دیں میں اسے بہار بنادوں گا ۔ حضرات بہار اور لالو پرساد یادو ’’ایک دوجے کیلئے ‘‘ یا (Made for each other) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ بہار کے بغیر لالو پرساد اور لالو پرساد کے بغیر بہار کا تصور ادھورا ہے۔ لالو پرساد یادو کی ریاست بہار اور بحیثیت مرکزی وزیر ملک کیلئے بڑی خدمات ہیں لیکن کہا یہ بھی جاتا ہے کہ لالو پرساد نے ملک سے زیادہ ممکری آرٹسٹوں کو فائدہ پہنچایا ہے کیونکہ ہندوستان میں ہر ممکری آرٹسٹ لالو جی کی نقل اتار کر پیسہ کما رہا ہے۔
لالو پرساد کی سب سے قابل تحسین بات یہ ہے کہ وہ ہمیشہ ملک دشمن طاقتوں اور فرقہ پرستوںکے آگے سینہ سپر رہے ہیں اور لالو پرساد کی پارٹی راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) سے فراز فاطمی کا بھی تعلق ہے۔ سیاسی میدان میں نشیب و فراز آتے رہتے ہیں۔ اس وقت آر جے ڈی بادشاہ نہیں بادشاہ گر کی حیثیت میں ہے۔ امید ہے کہ فراز فاطمی اور ان جیسے جواں سال ، توانا، پڑھے لکھے ، سنجیدہ اور عوامی خدمت کا جذبہ رکھنے والے آر جے ڈی کو طاقت بخشیں گے اور بادشاہ گر کو پھر سے بادشاہ بنائیں گے ۔

یہ بڑی خوش آئند بات ہے کہ فراز فاطمی اور ان جیسے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ اسمبلیوں اور پارلیمنٹ کے اراکین بن رہے ہیں جن سے ہم امید کرسکتے ہیں کہ وہ کسی بھی وزارت پر فائز ہوں تو اپنی قابلیت ، اعلیٰ تعلیم اور فکر و فراست سے کسی بھی محکمہ کو ترقی دے سکتے ہیں۔ بشرطیکہ اعلیٰ کرسیوں پر بیٹھے سینئر سیاستداں نئی نسل کے اعلیٰ تعلیم یافتہ جواں سال اراکین اسمبلی اور پارلیمنٹ کو موقع دیں تو ہمارے سرکاری محکمہ ترقی کریں گے اور عوام کو بہتر سے بہتر سہولتیں مہیا ہوں گی ۔ ویسے فراز فاطمی کو وزارت و سیاست کا تجربہ کچھ ورثہ میں بھی ملا ہے ۔ نیز وہ ایک تعلیمی یافتہ گھرانے کے چشم و چراغ ہیں اور خود بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ فراز فاطمی نے ایم بی بی ایس کی تکمیل کے بعد لندن سے ہاسپٹل مینجمنٹ میں ایم بی اے کیا۔ وہ نہ صرف مریضوں کاعلاج کرسکتے ہیں بلکہ اسپتال چلانے کی مہارت بھی رکھتے ہیں۔ گو کہ فراز فاطمی میڈیکل ڈاکٹر ہیں مگر ایک انجنیئر کے فرزند ہیں اس لئے انہوں نے حال ہی میں ایک بڑے اسپتال بلڈنگ کے پراجکٹ کو بحسن و خوبی پائے تکمیل کو پہنچایا ہے۔
سامعین کرام ! جس شخص میں احساس ذمہ داری ہو وہ ہر کام بہتر اور بروقت انجام دیتا ہے ۔ ہم عام طور سے اپنا کوئی کام کسی دوسرے شخص کو دیتے ہیں ، مگر اس کام کو مکمل کروانے کیلئے ہمیں بار بار یاد دہانی کرانی پڑتی ہے لیکن فراز فاطمی کا معاملہ مختلف ہے ۔انہیں آپ کوئی کام یا ذمہ داری دیں تو وہ اسے اس قدر سنجیدگی اور مستعدی سے کرتے ہیں کہ انہیں دوبارہ یاد دہانی کرانے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی بلکہ ان کو کوئی کام یا ذمہ داری دی جائے تو ’’مداعی سست گواہ چست ‘‘ والا معاملہ درپیش ہوجاتا ہے ۔ یعنی ادھر آپ نے انہیں کوئی ذمہ داری سونپی تو وہ دوسرے دن سے  ذمہ داری دینے والے کو فون پر update دینے لگتے ہیں۔ ’’میں نے یہ کردیا ہے، اب آپ کو یہ کرنا ہے، یہ چیز یہاں تک تکمیل پاچکی ہے ، اب آپ کو یہ کرنا ہے ، وغیرہ وغیرہ اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک پراجکٹ مکمل نہیں ہوجاتا اور اگر فراز فاطمی کو ذمہ داری دینے والا مزاجاً سست رفتار ہے تو وہ دوسری مرتبہ فراز کو کوئی ذمہ داری دینے سے قبل دس بار سوچے گا۔
فراز فاطمی ایک اچھے کرکٹ کھلاڑی بھی ہیں لیکن انہوں نے کھیل پر اپنی تعلیم کو فوقیت دی۔ لہذا وہ کرکٹ کے میدان میں زیادہ زینے نہیں چڑھ پائے ۔ اگر فراز ڈاکٹر نہ ہوتے تو ایک بڑے کرکٹ کھلاڑی ہوتے ۔ فراز چونکہ بچپن سے اسپورٹس مین رہے ہیں اس لئے اب سڈول ہیں بے ڈھب نہیں ہوئے کیونکہ ان کی طرح کے متمول گھرانوں کے نوجوان کو 200 ایم ایل کوکاکولا بوتل سے 2 لیٹر کی بوتل ہونے میں دیر نہیں لگتی۔

حضرات ! جو تارکین وطن سعودی عرب میں اپنی فیملی کے ساتھ رہتے ہیں ان کے بچوں کا تعلق بھی سعودی عرب سے جڑ جاتا ہے ۔ علی اشرف فاطمی صاحب بھی سعودی عرب میں رہے لیکن ان کے بچے یہاں نہیں رہے لہذا دیگر این آر آئیز کی طرح ان کے بچوں کا تعلق سعودی عرب سے نہیں جڑا لیکن فاطمی صاحب نے سن 2008 ء میں سعودی عرب کے معروف بزنس مین انجنیئر راشد علی شیخ کی دختر سے فراز فاطمی کا رشتہ طئے کیا اور اس طرح فراز کا تعلق سعودی عرب سے بن گیا یا یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ فراز فاطمی سعودی عرب کے داماد ہیں۔ فراز فاطمی خاصے دیندار آدمی ہیں۔ صوم و صلوۃ کے پابند ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ ظاہری طور پر وہ ایسے نہیں لگتے مگر وہ خدا پرست و خدا ترس واقع ہوئے ہیں ۔ ادا ہو کہ قضا نمازوں کی پابندی کرتے ہیں ۔ فکری یا نظریاتی طور پر انتہا پسندی ان کے مزاج میں نہیں ہے۔ فراز فاطمی کے مزاج کی نذر بشیر بدر کا ایک شعر ہے ۔
بت بھی رکھتے ہیں، نمازیں بھی ادا ہوتی ہیں
دل مرا دل نہیں اللہ کا گھر لگتا ہے
فراز فاطمی خوش شکل ، خوش لباس ، خوش خصال ، خوش گفتگار، خوش مزاج اور خوش اخلاق نوجوان ہیں۔ وہ ایک ازحد منظم اور ڈسپلن آدمی ہیں۔ انہیں غیر منظم اور ڈسپلن شکنی افراد شدید ناپسند ہیں۔ وہ اہل سیاست ہونے کے باوجود ’’میرا پیام محبت ہے جہاں تک پہنچے ‘‘ میں یقین رکھتے ہیں۔ رنجشیں بڑھانے اور نفرتیں پھیلانے والوں سے دور رہتے ہیں۔
پیشہ طب ایک خدمت خلق ہے ۔ فراز فاطمی حالیہ عرصہ تک میڈیکل پراکٹس میں تھے ۔ شائد وہ خدمت خلق کے کینوس کو مزید وسیع کرنے کی خاطر عوامی زندگی میں آئے ہیں۔ اللہ رب العزت انہیں ان کے مقصد میں کامیابی اور ترقیاں عطا فرمائے۔ حضرات آج نہ صرف ہمارے ملک میں بلکہ عالمی سطح پر ایک بے چینی افرا تفری ، لڑائی جھگڑے ، دنگے فساد ، خون خرابے کا سلسلہ ہر طرف جاری ہے۔ مٹھی بھر بیمار ذہن سیاست داں اپنے مفاد کی خاطر دنیا کو جہنم بنائے ہوئے ہیں۔ ہم ڈاکٹر فراز فاطمی اور ان جیسے ملک کے دیگر نوجوانوں سے امید کرتے ہیں کہ وہ ان بیمار ذہن سیاست دانوں کو پیچھے ڈھکیل کر آگے آئیں گے اور ملک کو ایک پرسکون اور پرامن جگہ بنائیں گے ۔
حضرات ! میں آخر میں آج کے حالات کی سچی منظر کشی کرنے والا پروینے شاکر کا ایک شعر آپ کی نذر کر کے آپ سے رخصت چاہوں گا۔
اے مری گل زمین تجھے چاہ تھی ایک کتاب کی
اہل کتاب نے مگر گیا تیرا حال کردیا

TOPPOPULARRECENT