Friday , October 20 2017
Home / مذہبی صفحہ / اور وقت کی قدر و قیمت گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں

اور وقت کی قدر و قیمت گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں

فقہاء و محدثین

حضرت یحییٰ بن معین ائمہ حدیث کے استاد و امام ہیں۔ آپ کی کنیت ابوزکریا ہے۔ آپ کی ولادت بغداد میں ۱۵۸ھ میں ہوئی۔ آپ کے والد نہایت شریف النفس، متمول اور کاتب تھے۔ انھوں نے اپنے انتقال پر اپنے صاحبزادے حضرت یحییٰ بن معین کے لئے دس لاکھ درہم چھوڑے تھے۔ حضرت یحییٰ بن معین نے والد کے متروکہ سے حاصل شدہ تمام رقم علم کے حصول میں صرف کردی، یہاں تک کہ ان کے پاس پہننے کے لئے نعلین تک باقی نہ رہے۔ آپ نے عراق، شام، جزیرۃ، مصر، حجاز اور دیگر بلاد اسلامیہ کا سفر کیا اور اپنے وقت کے اکابر محدثین مثلاً حضرت عبد اللہ بن مبارک، حضرت سفیان بن عینیہ، حضرت ھشیم بن بشیر، حضرت وکیع بن الجرح، حضرت یحییٰ بن سعید القطان وغیرہ سے اکتساب علم کیا۔ آپ سے استفادہ کرنے والوں میں حضرت امام احمد بن حنبل، حضرت امام بخاری، حضرت امام مسلم، حضرت ابوداؤد، حضرت عباس دوری بغدادی اور حضرت ابوزرعہ سرفہرست ہیں۔ حضرت یحییٰ بن معین کو حد درجہ علم حدیث شریف کا شغف تھا۔ حضرت علی بن مدینی بیان کرتے ہیں کہ ’’میں لوگوں میں ان کی طرح کسی کو نہیں پایا اور نہ میں حضرت آدم سے لے کر تاحال کسی کو جانتا ہوں، جنھوں نے اس کثرت سے حدیث شریف کو لکھا ہو، جس طرح یحییٰ بن معین نے لکھا ہے‘‘۔ حضرت یحییٰ بن معین خود بیان فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے ہاتھ سے دس لاکھ احادیث نقل کی ہیں اور آپ کا ارشاد ہے کہ ’’اگر ہم ایک حدیث شریف کو پچاس مرتبہ نہ لکھیں تو ہم کو اس کی معرفت نہیں ہوسکتی‘‘۔ حضرت امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں کہ ’’ہر وہ حدیث جس کو یحییٰ بن معین نہیں جانتے ہیں، وہ حدیث نہیں۔ یحییٰ بن معین وہ ذات گرامی ہے، جن کو اللہ سبحانہ و تعالی نے اسی کام کے لئے پیدا فرمایا تھا۔ وہ دروغ گو کے کذب کو ظاہر کرتے تھے‘‘۔

حضرت یحییٰ بن معین کی سیرت کے مختصر خاکہ کے بعد آپ کے کسب حدیث کے ایک واقعہ کو ملاحظہ فرمائیں، جو ان کے طلب علم میں وقت کی قدر و قیمت کو ظاہر کرتا ہے۔ حضرت یحییٰ بن معین نے اپنے استاد گرامی حضرت محمد بن فضیل سدوسی مصری سے ایک مخصوص حدیث شریف لکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ اس وقت اساتذۂ حدیث یا تو مساجد میں درس حدیث دیا کرتے اور اگر مسجد تنگ ہوتی تو کسی کشادہ مکان میں درس دیا کرتے تھے اور اگر طلبہ کی تعداد زیادہ نہ ہو تو گھر کے دروازے پر املا کرایا کرتے۔ حضرت یحییٰ بن معین اپنے استاد کے گھر کے دروازے پر تھے اور انھوں نے حدیث شریف بیان کرنا شروع کی۔ حضرت یحییٰ بن معین نے مزید اطمینان کی خاطر عرض کیا کہ کتاب سے دیکھ کر بیان کیا جائے تو مناسب ہے۔ استاد محترم اپنے گھر سے کتاب لانے کے لئے اٹھ ہی رہے تھے کہ حضرت یحییٰ بن معین نے عرض کیا: ’’پہلے زبانی ہی حدیث شریف بیان کردیں مبادا کہ کوئی عارضہ آپ کو لاحق ہو جائے اور میں آپ سے ملاقات نہ کرسکوں‘‘۔ تو حضرت محمد بن فضیل نے آپ کو وہ حدیث بیان کی کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ نے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (مرض الموت) میں اپنے گھر سے نکلے حضرت اسامہ بن زید کے سہارے سے اور آپ پر ایک قطر کی چادر تھی، جس کو آپﷺ نے زیب تن فرمایا تھا اور آپﷺ نے امامت فرمائی‘‘ (شمائل ترمذی، صفحہ۶۰) اس حدیث شریف کو بیان کرنے کے بعد حضرت محمد بن فضیل اپنے گھر میں داخل ہوئے، کتاب لائے اور پڑھ کر سنایا۔ اس طرح ائمہ حدیث نے حدیث شریف کو حاصل کیا اور کسی لمحہ کو وہ ضائع نہ کرتے۔ حضرت یحییٰ بن معین جب حج کا ارادہ کرتے تو مدینہ منورہ کے راستے سے جاتے اور واپسی بھی مدینہ منورہ کے راستے سے کرتے۔ جب وہ ۲۳۳ھ میں حج کے ارادہ سے مدینہ منورہ پہنچے تو بیمار ہو گئے اور مدینۃ الرسول میں وفات پائی اور آپ کو ایسا اعزاز نصیب ہوا کہ بنوہاشم نے آپ کے اکرام کے لئے وہ تخت نکالا، جس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دیا گیا تھا، آپ کو بھی اسی مبارک تخت پر غسل دیا گیا اور جنت البقیع میں تدفین عمل میں آئی۔
حضرت سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کا قول ہے: ’’مجھے کسی شے پر ایسی ندامت نہیں ہوئی، جس طرح اس دن پر ہوگی جس دن کا سورج غروب ہو، میری عمر کا ایک دن کم ہو جائے اور میرے عمل میں اضافہ نہ ہو‘‘۔ حضرت عمر بن عبد العزیز رضی اللہ تعالی عنہ کا قول ہے: ’’رات اور دن تجھ میں عمل کرتے ہیں تو ان میں کام کیا کر‘‘۔ حضرت حسن بصری رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: ’’اے ابن آدم! تو درحقیقت چند ایام ہے۔ جب ایک دن گزر جاتا ہے تو درحقیقت تیرا بعض حصہ چلا جاتا ہے‘‘۔ آپ نے فرمایا: ’’میں نے ایسے افراد کو دیکھا ہے، جس طرح تم دینار و درہم کے حریص ہو، وہ اس سے بڑھ کر اپنے اوقات کی حفاظت میں حریص تھے‘‘۔

علامہ ذہبی نے تذکرۃ الحفاظ جلد اول، صفحہ ۲۰۲ میں محدث و فقیہ حضرت حماد بن سلمہ کے ترجمہ میں آپ کے شاگرد عبد الرحمن بن مہدی کا قول نقل کیا ہے کہ ’’اگر حضرت حماد بن سلمہ کو کہا جائے کہ آپ کل پردہ فرمانے والے ہیں تو وہ اپنے عمل میں کچھ بھی اضافہ نہیں کرسکتے تھے، یعنی وہ روزانہ کوئی لمحہ ضائع نہیں کرتے۔ ہر لمحہ یا تو ذکر و تسبیح میں مشغول رہتے یا پھر درس و تدریس میں‘‘۔ موسی بن اسماعیل تبوذکی نے کہا: ’’اگر میں کہوں کہ میں نے حضرت حماد بن سلمہ کو ہنستا ہوا نہیں دیکھا تو بلاشبہ میں نے سچ کہا ہے، یا تو وہ حدیث شریف بیان کرتے یا پھر پڑھتے ہوتے، یا تسبیح و تہلیل کرتے یا نمازیں پڑھتے ہوتے اور دوران نماز ہی ان کا وصال ہوا‘‘۔
حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد خاص حضرت امام ابویوسف جن کا نام نامی یعقوب بن ابراہیم الانصاری ہے، تین عباسی خلفاء مہدی، ہادی اور ہارون رشید کے عہد میں قاضی القضاۃ (چیف جسٹس) رہے، جن کو ’’دنیا کے قاضیوں کے قاضی‘‘ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ آپ ۱۷ یا ۲۹ سال حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی صحبت بافیض میں رہے۔ بلاناغہ فجر کی نماز حضرت امام اعظم کے ساتھ ادا فرماتے۔ عید الفطر اور عید الاضحی میں بھی جدا نہ ہوتے۔ آپ کے صاحبزادے اس دنیا سے رخصت ہوئے تو آپ نے ان کی تجہیز و تکفین اور تدفین کے لئے اپنے عزیز و اقارب اور ہمسایوں کو ذمہ دار بناکر حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی مجلس میں حاضر ہوئے۔ خود شرکت نہ کی، اس اندیشہ سے کہ کوئی چیز امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے درس سے فوت نہ ہو جائے، جس کی حسرت کبھی ختم نہ ہوگی۔ جب آپ کے وصال کا وقت آیا تو آپ کے شاگرد حضرت ابراہیم بن الجراح الکوفی عیادت کے لئے حاضر ہوئے۔ انھوں نے کہا: ’’میں نے دیکھا کہ آپ پر غشی طاری تھی۔ جب افاقہ ہوا تو فرمانے لگے: ابراہیم! تم اس مسئلہ میں کیا کہتے ہو؟۔ میں نے کہا: اس حالت میں آپ علمی سوال دریافت کر رہے ہیں، تو آپ نے جواب دیا: کوئی بات نہیں شاید کہ اس سے کوئی نجات پانے والا نجات پالے۔ میں اس فقہی مسئلہ پر گفتگو سن کر ان کے گھر کے دروازے پر نہیں پہنچا تھا کہ رونے کی آوازیں آنے لگیں اور آپ اس دنیا سے رخصت ہو گئے‘‘۔

TOPPOPULARRECENT