Thursday , October 19 2017
Home / شہر کی خبریں / اوقافی اراضی پر مندر کی تعمیر، چیف منسٹر کے سی آر کی خصوصی پوجا

اوقافی اراضی پر مندر کی تعمیر، چیف منسٹر کے سی آر کی خصوصی پوجا

تحفظ وقف اراضیات پر اسمبلی و بیرون اسمبلی بلندبانگ دعوے، جھوٹ کا پلندہ
حیدرآباد۔/9اپریل، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے اسمبلی اور اس کے باہر بلند بانگ دعوے کئے لیکن نظام آباد میں اوقافی اراضی پر نہ صرف مندر تعمیر کی گئی بلکہ گزشتہ دنوں چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اس مندر کا دورہ کرتے ہوئے خصوصی پوجا کی۔ اس مسئلہ پر ضلع نظام آباد کے تما پور موضع کے مسلمانوں میں کافی بے چینی پائی جاتی ہے اور یہ علاقہ حلقہ اسمبلی بانسواڑہ کے تحت آتا ہے جس کی نمائندگی وزیر زراعت پوچارم سرینواس ریڈی کرتے ہیں۔ مقامی عوام کی شکایت پر چیف ایکزیکیٹو آفیسر وقف بورڈ محمد اسد اللہ نے ضلع نظام آباد کے وقف انسپکٹر کو اس اراضی کے معائنہ اور فوری رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مقامی ٹی آر ایس قائدین کی جانب سے وقف انسپکٹر اور دیگر اقلیتی قائدین پر دباؤ بنایا جارہا ہے کہ وہ اس معاملہ میں خاموشی اختیار کرلیں۔ چیف ایکزیکیٹو آفیسر کی ہدایت کے باوجود وقف انسپکٹر کی جانب سے رپورٹ کی پیشکشی میں تاخیر سے مزید سوال کھڑے ہورہے ہیں۔ مقامی افراد نے وقف بورڈ میں شکایت کی کہ بانسواڑہ کے بیرکور منڈل کے موضع تما پور میں درگاہ حضرت مولا علیؒ کی وقف اراضی سروے نمبر 228/1 کے تحت موجود ہے اور وقف بورڈ میں اس کا ریکارڈ بھی ہے۔ تاہم اس اراضی پر تلنگانہ تروملا دیواستھانم کے نام سے نئی مندر تعمیر کردی گئی اور اس کام کی سرپرستی بتایا جاتا ہے کہ ریاستی وزیر نے کی ہے۔ اونچی پہاڑی پر درگاہ شریف موجود ہے جس کے اطراف وقف اراضی ہے۔ یہ درگاہ تقریباً200 سال قدیم بتائی جاتی ہے۔ اس وقف اراضی پر مندر کی تعمیر سے مسلمانوں میں کافی بے چینی پائی جاتی ہے۔ وزیر زراعت پوچارم سرینواس ریڈی نے اس مندر میں خصوصی پوجا کیلئے چیف منسٹر کو مدعو کیا تھا اور 2اپریل کو چندر شیکھر راؤ نے مندر میں خصوصی پوجا کی۔ انہوں نے تلنگانہ میں تروملا تروپتی دیواستھانم طرز کی مندر کی تعمیر کیلئے 390ایکر اراضی اور 10کروڑ روپئے کی فراہمی کا اعلان کیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ چیف منسٹر نے جس اراضی کا اعلان کیا ہے وہ وقف تو نہیں۔ مقامی عوام کا کہنا ہے کہ جب مندر کی اراضی وقف ہے تو پھر ظاہر ہے کہ اطراف کی اراضی بھی وقف ہی ہوگی۔ حکام نے اراضی کے بارے میں سروے کئے بغیر ہی اسے مندر کیلئے الاٹ کردیا ہوگا یا پھر دیگر علاقوں کی طرح یہاں بھی وقف اراضی پر ناجائز قبضہ کرلیا گیا۔ چیف ایکزیکیٹو آفیسر وقف بورڈ نے مقامی افراد کو تیقن دیا کہ وقف انسپکٹر کی رپورٹ کی بنیاد پر مزید کارروائی کی جائے گی۔ اگر یہ اراضی وقف ہے تو اس کے تحفظ کیلئے حکومت کو توجہ دلائی جائے گی۔

TOPPOPULARRECENT