Friday , September 22 2017
Home / ہندوستان / اوقافی جائیدادوں سے سالانہ 12000 کروڑ روپئے کی آمدنی ممکن : نجمہ ہپت اللہ

اوقافی جائیدادوں سے سالانہ 12000 کروڑ روپئے کی آمدنی ممکن : نجمہ ہپت اللہ

سرینگر ۔ 12 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزیراقلیتی امور نجمہ ہپت اللہ نے آج کہا کہ ملک کی اوقافی جائیدادوں کے مؤثر استعمال سے سالانہ 12000 کروڑ روپئے کی آمدنی ہوسکتی ہے جو مسلم برادری کی تعلیم اور ترقی کے دیگر پراجکٹوں کیلئے استعمال کی جاسکتی ہے۔ نجمہ ہپت اللہ نے ملک کی سات شمالی ریاستوں سے تعلق رکھنے والے اقلیتی امور کے عہدیداروں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی وزارت مسلم اوقافی جائیدادوں کو عوامی و خانگی ساجھیداری کے طریقہ کار کے تحت فروغ دینا چاہتی ہے ۔ اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے نجمہ ہپت اللہ نے کہا کہ ’’ملک کی اوقافی جائیدادوں سے سالانہ 12000 کروڑ روپئے کی آمدنی ہوسکتی ہے جو مسلم برادری کی تعلیمی و دیگر شعبوں میں ترقی کیلئے استعمال کی جاسکتی ہے‘‘۔ اوقافی جائیدادوں پر بڑے پیمانے پر قبضوں کے بارے میں ایک سوال پر وزیراقلیتی امور نے جواب دیا کہ پارلیمانی اسٹینڈنگ کمیٹی نے بل کو واپس کردیا ہے اور پارلیمنٹ میں اس بل کی منظوری کے بعد مؤثر کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ’’پارلیمنٹ میں قانون سازی کے بعد ہمارا موقف مستحکم ہوجائے گا اور تمام اوقافی جائیدوں سے ہم غیرقانونی قبضے برخاست کردیں گے‘‘۔ انہوں نے آج منعقدہ اجلاس کے تناظر میں کہا کہ اس قسم کے اجلاسوں سے ہمیں ایک دوسرے کے تجربات سے کچھ سیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔ ہم بہت جلد جنوبی اور مشرقی ریاستوں کے اوقافی و اقلیتی امور کے عہدیداروں کے سمینار منعقد کریں گے جس سے ہمیں دوردراز رہنے والے افراد کے مسائل کو سمجھنے اور انہیں حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ نجمہ ہپت اللہ نے کہا کہ ’’ان کوششوں کا مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ مودی حکومت آپ (اقلیتوں) کی دہلیز پر ہے اور آپ کے تمام مسائل حل کرنا چاہتی ہے‘‘۔ بعدازاں مرکزی وزیر نے جموں و کشمیر کے چیف منسٹر مفتی محمد سعید سے ملاقات کے دوران اپنی وزارت کے مختلف پروگراموں پر تبادلہ خیال کیا۔ مفتی سعید نے مرکزی وزیر اقلیتی امور پر زور دیا کہ وہ اپنی وزارت کی طرف سے شروع کردہ مختلف فلاحی پروگراموں پر عوامی شعور بیدار کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد ان پروگراموں سے استفادہ کرسکیں۔ نجمہ ہپت اللہ نے کہا کہ مرکزی حکومت صداقتنامہ آمدنی کی درخواست گذاروں کی طرف سے ازخود توثیق کی حوصلہ افزائی کررہی ہے تاکہ طلبہ کسی رکاوٹ کے بغیر اسکالر شپس حاصل کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں تاحال 86 لاکھ اقلیتی طلبہ پری میٹرک اسکالر شپس سے استفادہ کرچکے ہیں۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT