Monday , March 27 2017
Home / شہر کی خبریں / اوقافی جائیدادوں پر ناجائز قبضوں کی اطلاع دینے پر انعام

اوقافی جائیدادوں پر ناجائز قبضوں کی اطلاع دینے پر انعام

تلنگانہ کی قیمتی اوقافی جائیدادوںسے اقلیتوں کی ترقی ممکن، عنقریب جائزہ اجلاس منعقد کرنے ڈپٹی چیف منسٹر محمود علی کا اعلان
حیدرآباد۔/4فبروری، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے لئے ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے منفرد اسکیم کا اعلان کیا ہے جس کے تحت اوقافی جائیدادوں پر ناجائز قبضوں کے سلسلہ میں حکام کو بروقت اطلاع دینے والوں کو مناسب انعام دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ حکومت وقف بورڈ کے ساتھ ایک مشاورتی کمیٹی کی تشکیل کا منصوبہ رکھتی ہے جس میں اوقافی جائیدادوں کے تحفظ میں دلچسپی رکھنے والی اہم شخصیتوں کو شامل کیا جائے گا۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے اوقافی جائیدادوں کے سلسلہ میں بہت جلد جائزہ اجلاس منعقد کرنے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر نے حال ہی میں سرکاری اراضیات پر غیر مجاز تعمیرات کی اطلاع دینے پر انعام کا اعلان کیا ہے ٹھیک اسی طرز پر اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے اس طرح کی منفرد اسکیم کی تجویز زیر غور ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں کئی ہزار کروڑ کی اوقافی جائیدادیں ہیں جن کا تحفظ کرتے ہوئے اقلیتوں کی ترقی پر اس کی آمدنی خرچ کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایسی جائیدادیں جو غیر متنازعہ ہیں ان پر اگر کوئی قبضہ کرنے کی کوشش کرے یا غیر مجاز تعمیر کا آغاز کرے تو اس کی اطلاع وقف بورڈ کو دی جائے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ صرف حکومت اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کو یقینی نہیں بناسکتی تاوقتیکہ اسے عوام کا تعاون حاصل نہ ہو۔ ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ میں اپنا حصہ ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اوقافی جائیدادوں کو بچانے کیلئے سخت گیر اقدامات کا فیصلہ کیا ہے اور قابضین چاہے کتنے ہی بااثر کیوں نہ ہوں ان کے خلاف کارروائی سے گریز نہیں کیا جائے گا۔ محمد محمود علی نے بتایا کہ وقف بورڈ کو جوڈیشیل پاور دیئے جانے کے سلسلہ میں ماہرین قانون سے مشاورت کی جارہی ہے اور ضرورت پڑنے پر اس کے لئے قانون سازی کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد سے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے وقف بورڈ کو مستحکم بنانے پر خصوصی توجہ مرکوز کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اوقافی جائیدادوں کو ڈیولپمنٹ پر دیتے ہوئے اس کی آمدنی مسلمانوں کی ہمہ جہتی ترقی پر خرچ کی جائے گی۔ محمود علی نے کہا کہ چیف منسٹر نے اسمبلی کے سرمائی اجلاس میں جو تیقنات دیئے تھے ان پر عمل آوری میں پیشرفت ہوئی ہے اور اسلامک سنٹر کی تعمیر کیلئے منصوبہ بندی کی گئی۔ ماہر آرکیٹکٹ کے ذریعہ پلان تیار کیا جارہا ہے جس کی منظوری چیف منسٹر سے حاصل کی جائے گی۔ 20کروڑ روپئے کی لاگت سے انیس الغرباء کیلئے ہمہ مقصدی کامپلکس تعمیر کیا جارہا ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ مکہ مسجد کی تزئین نو اور مرمتی کاموں کیلئے 8 کروڑ 48 لاکھ روپئے کی رقمی منظوری دی گئی ہے۔ انہوں نے اس رقم کی جلد اجرائی کیلئے عہدیداروں کو ہدایت دی۔ ڈپٹی چیف منسٹر کے مطابق وہ اقلیتی بہبود کے مسئلہ پر جلد ہی جائزہ اجلاس منعقد کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے بجٹ برائے مالیاتی سال 2017-18 میں اقلیتی بہبود کے بجٹ میں اضافہ کیا جائے گا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ بعض وجوہات کے سبب جاریہ سال اقلیتی بہبود کا بجٹ مکمل طور پر خرچ نہیں ہوسکا۔ خاص طور پر فیس بازادائیگی اسکیم پر عمل آوری میں تاخیر ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ کے موثر خرچ کو یقینی بنانے کیلئے حکومت نے ایک تجربہ کار ریٹائرڈ آئی پی ایس عہدیدار کو مشیر مقرر کیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اے کے خاں مشیر اقلیتی بہبود کی حیثیت سے اسکیمات پر موثر عمل آوری کو یقینی بنائیں گے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT