Friday , October 20 2017
Home / شہر کی خبریں / اوقافی جائیدادوں کے تحفظ اور ترقی کے لیے چیف منسٹر سنجیدہ

اوقافی جائیدادوں کے تحفظ اور ترقی کے لیے چیف منسٹر سنجیدہ

چیف منسٹر کے سکریٹری و انچارج اقلیتی امور کا جائزہ اجلاس ، گرانٹ ان ایڈ و دیگر امور پر بات چیت
حیدرآباد۔27 جولائی (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو تلنگانہ میں اوقافی جائیدادوں کے تحفظ اور ان کی ترقی کے بارے میں سنجیدہ ہیں۔ چیف منسٹر کے سکریٹری اور اقلیتی بہبود کے انچارج نے مختلف عہدیداروں کے ساتھ جائزہ اجلاس میں وقف بورڈ کی کارکردگی اور اضلاع میں اوقافی جائیدادوں کی ترقی کے لیے جاری کردہ گرانٹ ان ایڈ کے خرچ کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر بہت جلد جائزہ اجلاس منعقد کرتے ہوئے وقف بورڈ کی کارکردگی کا جائزہ لینا چاہتے ہیں۔ وقف بورڈ کی جانب سے اوقافی جائیدادوں کی تعمیر و مرمت اور ترقی کے لیے ہر سال گرانٹ ان ایڈ جاری کی جاتی ہے۔ یہ رقم ضلع کلکٹرس کے اکائونٹس میں جمع کی جاتی ہیں اور اسے ضرورت کے مطابق اوقافی اداروں کو جاری کرتے ہیں۔ حکومت کو اس بات کی شکایت ملی ہے کہ وقف بورڈ کی جانب سے روانہ کردہ گرانٹ ان ایڈ ضلع کلکٹرس جاری نہیں کررہے ہیں اور یہ ضلع کی ٹریژری میں استعمال کے بغیر جمع ہے۔ چیف منسٹر نے اس سلسلہ میں تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔ جائزہ اجلاس کے بعد صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے اوقافی جائیدادوں کی صورتحال کا جائزہ لینے اضلاع کے دورے کا منصوبہ بنایا ہے۔ وہ ضلع کلکٹرس کے ساتھ جائزہ اجلاس منعقد کریں گے جس میں گرانٹ ان ایڈ کی جاری کردہ رقم اور اس کی منظوری کا جائزہ لیا جائے گا۔ وقف بورڈ نے مختلف ضلع کلکٹرس کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے گرانٹ ان ایڈ کے خرچ کے بارے میں تفصیلات طلب کی تھیں لیکن بتایا جاتا ہے کہ کسی بھی ضلع کلکٹر نے گرانٹ ان ایڈ کے بارے میں اطمینان بخش جواب نہیں دیا۔ صدرنشین وقف بورڈ نے بتایا کہ مساجد، قبرستان اور عیدگاہوں کو ہر سال وقف بورڈ کی جانب سے گرانٹ جاری کی جاتی ہے اور طریقہ کار کے مطابق یہ رقم متعلقہ ضلع کلکٹر کے ذریعہ تقسیم کی جاتی ہے۔ تاہم اضلاع میں اکثر یہ شکایات ملی ہیں کہ قبرستان، مساجد اور عیدگاہوں کی کمیٹیوں کی جانب سے داخل کردہ درخواستوں پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ کی جانب سے جاری کردہ رقم اور ضلع کلکٹرس کی منظورہ رقم کا تقابل کرتے ہوئے چیف منسٹر کو رپورٹ پیش کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اضلاع کے دورے کے موقع پر وہاں کی اہم اوقافی جائیدادوں کے کرایوں میں اضافے کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ بعض اضلاع میں وقف بورڈ کی جانب سے تعمیر کردہ کامپلکس کا کرایہ انتہائی کم ہے اور کرایہ دار اضافی رقم ادا کرنے سے انکار کررہے ہیں۔ اس طرح کے تنازعات کی یکسوئی کے ذریعہ بورڈ کی آمدنی میں اضافہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے لیے ضلع کلکٹرس کی قیادت میں اعلی اختیاری کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں جن کا اجلاس مہینے میں کم از ایک بار ہونا چاہئے۔ حکومت کے احکامات کے باوجود کسی بھی ضلع میں اوقافی جائیدادوں کے اجلاس منعقد نہیں ہورہے ہیں۔ محمد سلیم نے کہا کہ اس صورتحال سے چیف منسٹر کو واقف کرایا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT