Monday , September 25 2017
Home / شہر کی خبریں / اوقافی جائیدادوں کے تحفظ پر سوالیہ نشان لگ گیا!!ا

اوقافی جائیدادوں کے تحفظ پر سوالیہ نشان لگ گیا!!ا

عہدیدار مجاز کی حیثیت جلال الدین اکبر کی خدمات ختم ، سید عمر جلیل کو ذمہ داری
حیدرآباد ۔ 16۔ نومبر (سیاست نیوز) وقف بورڈ کی کارکردگی میں حکومت کی بڑھتی مداخلت کے باعث کئی اہم اوقافی جائیدادوں کے تحفظ پر سوالیہ نشان لگ چکا ہے ۔ حکومت نے حال ہی میں وقف بورڈ کے عہدیدار مجاز کی حیثیت سے جلال الدین اکبر کی خدمات کو ختم کرتے ہوئے ان کی جگہ  سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل کو اس عہدہ کی زائد ذمہ داری دی ۔ حکومت کے اس فیصلہ سے وقف بورڈ کے عہدیدار اور ملازمین بھی حیرت میں تھے کیونکہ عہدیدار مجاز کی حیثیت سے کئے گئے فیصلوں کا جائزہ لینا سکریٹری کی ذمہ داری ہے اور دونوں عہدوں پر ایک ہی شخصیت فائز ہے۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ شہر میں کئی قیمتی اوقافی اراضیات کو حکومت نے سڑک کی توسیع اور دیگر کاموں کیلئے حاصل کرلیا لیکن جب وقف بورڈ نے اس اراضی کے معاوضہ کے حصول کی مساعی کی ، تو حکومت کی جانب سے دباؤ ڈالا جارہا ہے کہ معاوضہ کیلئے اصرار نہ کریں۔ حال ہی میں اسطرح کے تقریباً 40 سے زائد اراضیات کی وقف بورڈ نے نشاندہی کی جس کے معاوضہ کے طور پر 400 کروڑ روپئے وقف بورڈ کو ادا کئے جانے چاہئیں ۔ پہلے مرحلہ میں وقف بورڈ نے 105 کروڑ روپئے کی ادائیگی کے سلسلہ میں گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کو مکتوب روانہ کیا لیکن بلدی عہدیدار معاوضہ کی ادائیگی کے سلسلہ میں سنجیدہ نہیں ہیں۔ ان دنوں پنجہ گٹہ کی ایک قیمتی اراضی کے معاوضہ کا مسئلہ تنازعہ کا سبب بن چکا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ میٹرو ریل پراجکٹ کے سلسلہ میں پنجہ گٹہ کی ایک اوقافی جائیداد کی اراضی حاصل کی گئی جس کا معاوضہ وقف بورڈ کو ادا کیا جانا چاہئے لیکن اس جائیداد کی نگرانی کرنے والے ٹرسٹ کی جانب سے معاوضہ کا دعویٰ پیش کیا جارہا ہے۔ اس سلسلہ میں حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں کے ذریعہ وقف بورڈ پر دباؤ بنایا جارہا ہے کہ وہ معاوضہ کے اپنے حق سے دستبرداری اختیار کرلے جبکہ وقف ایکٹ کے تحت وقف بورڈ ہی معاوضہ کا حقدار ہے۔ حکومت کے بعض عہدیدار چاہتے ہیں کہ وقف بورڈ اپنے دعوے سے دستبردار ہوجائے اور مذکورہ ٹرسٹ کو معاوضہ حاصل کرنے کی اجازت دیدی جائے۔ وقف بورڈ حکام نے وقف ایکٹ اور بورڈ میں موجودہ اوقافی جائیداد سے متعلق ریکارڈ کی بنیاد پر دعویٰ سے دستبرداری سے انکار کردیا۔ یہ معاملہ اب چیف سکریٹری اور چیف منسٹر کے دفتر تک پہنچ چکا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اس اوقافی جائیداد کے معاؤضہ کے سلسلہ میں کس کے حق میں فیصلہ کرے گی۔

TOPPOPULARRECENT