Thursday , August 17 2017
Home / شہر کی خبریں / اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے ضمن موثر قدم اٹھانے کا مشورہ

اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے ضمن موثر قدم اٹھانے کا مشورہ

وقف بورڈ کارکردگی کا جائزہ ، ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کا خطاب
حیدرآباد ۔ 18 ۔ مئی (سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے آج وقف بورڈ کی کارکردگی کا جائزہ لیا اور صدرنشین و ارکان کو مشورہ دیا کہ وہ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے سلسلہ میں موثر قدم اٹھائیں تاکہ حکومت کی نیک نامی ہو۔ محمود علی نے حکومت کے مشیر برائے اقلیتی امور اے کے خاں ، سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل ، صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم اور وقف بورڈ کے نامزد ارکان وحید احمد ایڈوکیٹ اور صوفیہ بیگم سے وقف بورڈ کی صورتحال پر بات چیت کی۔ انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ کے تحت کروڑہا روپئے مالیتی اوقافی اراضیات ہیں جن کے تحفظ کے ذریعہ بورڈ کو مستحکم کیا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے حکومت کے نامزد ارکان کو مشورہ دیا کہ وہ باہم مشاورت اور تال میل کے ساتھ کام کریں تاکہ حکومت کے مقصد کی تکمیل ہو۔ بورڈ کی جانب سے کوئی بھی فیصلہ ایسا نہ کیا جائے جس سے حکومت کی نیک نامی متاثر ہوتی ہے ۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے مشورہ دیا کہ اجلاس سے قبل حکومت کے نامزد ارکان کو ایجنڈہ پر باہم مشاورت کرنی چاہئے تاکہ بورڈ کے اجلاس میں اسی مسئلہ پر اختلاف رائے پیدا نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ کا کوئی بھی فیصلہ اوقافی جائیدادوں کی تباہی کا سبب نہیں بننا چاہئے ۔ سکریٹری اقلیتی بہبود عمر جلیل نے انہیں صبح میں حج ہاؤز کے دورہ اور جائزہ اجلاس کی تفصیلات سے واقف کرایا ۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ اوقافی جائیدادوں کی آمدنی میں اضافہ کے ذریعہ اقلیتوں کی بھلائی کے کئی قدم اٹھائے جاسکتے ہیں۔ مزید یہ کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر را ؤ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے سلسلہ میں سنجیدہ ہیں اور انہوں نے اسمبلی میں اعلان کیا تھا کہ جہاں بھی اوقافی جائیدادیں حکومت کے قبضہ میں رہیں گی ، انہیں وقف بورڈ کے حوالے کردیا جائے گا ۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ اگر اوقافی جائیدادوں کی آمدنی میں اضافہ ہوجائے تو وقف بورڈ کو حکومت کی گرانٹ کی ضرورت نہیں پڑ ے گی۔ کئی ہزار کروڑ مالیتی اوقافی جائیدادیں غیر مجاز قابضین کے قبضہ میں ہیں۔ انہوں نے عدالتوں میں زیر دوران مقدمات کا بھی جائزہ لیا ۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ تحت کی عدالتوں اور ہائیکورٹ میں مقدمات کی یکسوئی میں تاخیر ہورہی ہے۔ بورڈ کے اسٹانڈنگ کونسلس کی عدم نمائندگی کے نتیجہ میں فیصلے قابضین کے حق میں آرہے ہیں۔ انہوں نے اسٹانڈنگ کونسلس کے ساتھ اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ ان کی کارکردگی کا جائزہ لیا جاسکے۔ ضرورت پڑنے پر اسٹانڈنگ کونسلس کو تبدیل کیا جاسکتا ہے ۔ محمود علی نے عدالتوں میں زیر دوران مقدمات کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے ہر ماہ اجلاس طلب کرنے کی تجویز پیش کی ۔ انہوں نے صدرنشین وقف بورڈ اور ارکان کو مشورہ دیا کہ کسی بھی تنازعہ کی صورت میں حکومت کے مشیر اور سکریٹری اقلیتی بہبود سے رہنمائی حاصل کریں۔

TOPPOPULARRECENT