Wednesday , June 28 2017
Home / شہر کی خبریں / اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے لیے صدر نشین وقف بورڈ کی مساعی

اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے لیے صدر نشین وقف بورڈ کی مساعی

غیر مجاز قبضوں کی برخاستگی کے لیے پولیس اور محکمہ مال سے عدم تعاون اہم رکاوٹ
حیدرآباد ۔ 11۔ اپریل (سیاست نیوز) تلنگانہ میں اوقافی جائیدادوں کے تحفظ اور غیر مجاز قبضوں کی برخواستگی کیلئے حکومت سے تعاون حاصل کرنے کیلئے صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے مساعی کا آغاز کیا ہے ۔ وہ ہر ضلع ایس پی اور کلکٹر کو پابند کرنے کیلئے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ سے خواہش کریں گے تاکہ ہر ضلع میں اوقافی جائیدادوں کا تحفظ ہوسکے۔ شہر اور اضلاع میں اوقافی جائیدادوں پر غیر مجاز قبضوں کی برخواستگی میں پولیس اور محکمہ مال کی جانب سے عدم تعاون اہم رکاوٹ ہے ۔ کئی جائیدادوں کے سلسلہ میں ضلع کلکٹرس اور ایس پی بارہا نمائندگی کی گئی لیکن پولیس کی جانب سے کوئی کارروائی نہیں کی جارہی ہے ، لہذا صدرنشین وقف بورڈ نے اس مسئلہ کو چیف منسٹر کے سی آر سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ چیف منسٹر کی جانب سے اگر تمام کلکٹرس اور ایس پیز کو ہدایت جاری کی جائے تو وقف بورڈ کو جائیدادوں کے تحفظ میں مدد ملے گی۔ محمد سلیم نے بتایا کہ مسجد نانا باغ بشیر باغ اور ہائی ٹیک سٹی کے قریب واقع اوقافی اراضیات کے سلسلہ میں وہ ڈائرکٹر جنرل پولیس سے ملاقات کریں گے۔ ہائی ٹیک سٹی کے قریب ایک آئی اے ایس عہدیدار کی جانب سے غیر مجاز تعمیرات کا سلسلہ جاری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پولیس میں شکایت کے ذریعہ ان تعمیرات کو بہرصورت روکا جائے گا ۔ انہوں نے بتایا کہ مسجد نانا باغ کی اراضی پر تعمیرات کو روکنے کیلئے پولیس میں دوبارہ ایف آئی آر درج کیا جائے گا ۔ اگر غیر مجاز قابض نے تعمیر کا کام مکمل کرلیا تب بھی مجلس بلدیہ کے ذریعہ انہدامی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ میں ان جائیدادوں سے متعلق ریکارڈ محفوظ ہے ۔ صدرنشین وقف بورڈ آئندہ ہفتہ سے مختلف اہم اوقافی جائیدادوں کے دورہ کا منصوبہ رکھتے ہیں تاکہ ان جائیدادوں کی حقیقی صورتحال اور غیر مجاز قبضوں کا جائزہ لیا جاسکے۔ انہوں نے بتایا کہ آئندہ ہفتہ سے وہ اپنے دورہ کے پروگرام کو قطعیت دیں گے۔ جہاں کہیں بھی غیر مجاز قبضے کی اطلاع ملے وہ خود وقف بورڈ کی ٹاسک فورس کے ذریعہ پہنچ جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ کے عہدیداروں و ملازمین پر مشتمل دو خصوصی ٹاسک فورس ٹیمیں تشکیل دی جائیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ عدالتوں میں زیر دوران مقدمات کی عاجلانہ یکسوئی کیلئے نامور وکلاء کی خدمات حاصل کی جائیں گی ۔ وہ مختلف عدالتوں میں وقف بورڈ کے اسٹانڈنگ کونسل کی کارکردگی کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ضرورت پڑنے پر اسٹانڈنگ کونسل کو تبدیل کیا جائے گا ۔ صدرنشین وقف بورڈ نے بتایا کہ بورڈ کے تمام شعبہ جات کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے وہ اچانک ہر شعبہ کا دورہ کریں گے ۔ ملازمین کے تبادلوں کے ذریعہ ان میں ورک کلچر اور ڈسپلن پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ کا دفتر کسی کارپوریٹ دفتر کے ڈسپلن سے کم نہیں ہونا چاہئے ۔ محمد سلیم نے بتایا کہ وقف بورڈ میں عارضی ملازمین کے تقررات کے سلسلہ میں حکومت سے منظوری حاصل کی جائے گی ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT