Friday , May 26 2017
Home / شہر کی خبریں / اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے لیے عصری ٹکنالوجی کا استعمال

اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے لیے عصری ٹکنالوجی کا استعمال

وقف بورڈ عہدیدار ، آفس سے ہی جائیداد کی نگرانی کرسکیں گے
حیدرآباد۔ 14 فروری (سیاست نیوز) تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے عصری ٹیکنالوجی کے استعمال کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے استعمال سے وقف بورڈ کے عہدیدار اپنے آفس میں بیٹھ کر روزانہ اوقافی جائیدادوں کے محل و قوع اور ان کی صورتحال کا جائزہ لے سکتے ہیں۔ کسی بھی جائیداد پر ناجائز قبضہ کی صورت میں فوری کارروائی کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ مرکزی وزارتِ اقلیتی اُمور کے تعاون سے تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں پائیلٹ پراجیکٹ کے طور پر اس کا آغاز کیا جارہا ہے۔ جیوگرافیکل انفارمیشن سسٹم (جی آئی ایس) کے تحت دونوں ریاستوں میں اوقافی جائیدادوں کی میاپنگ کی جائے گی۔ اس اسکیم کیلئے گوبل پوزیشننگ سسٹم (جی پی ایس) کا استعمال کیا جائے گا۔ نیشنل ریموٹ سنسنگ سنٹر جو انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اِسرو) کے تحت کام کرتا ہے، وہ اسکیم کیلئے تیکنیکی تعاون کرے گا۔ چیف ایگزیکٹیو آفیسر تلنگانہ وقف بورڈ محمد اسدالدین نے بتایا کہ مرکزی وزارت اقلیتی اُمور نے اپنے خرچ پر اس پراجیکٹ کو منظوری دی ہے، اور اس سلسلے میں دونوں ریاستوں کے عہدیداروں کو ٹریننگ دی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ نیشنل ریموٹ سنسنگ سنٹر نے موبائیل ایپ تیار کیا ہے جس کا نام “Bhuvan Waqf Map” رکھا گیا ہے جس کے ذریعہ جیوگرافیکل انفارمیشن سسٹم اوقافی جائیدادوں کی تفصیلات اور ان کی میاپنگ میں معاون ثابت ہوگا۔ اگر دونوں ریاستوں میں یہ پراجیکٹ کامیاب ہوتا ہے تو اسے ملک کی دیگر ریاستوں میں توسیع دی جائے گی۔ نیشنل ریموٹ سنسنگ سنٹر کے عہدیداروں نے اپنے موبائیل ایپ کا دونوں ریاستوں کے وقف بورڈ عہدیداروں کے سامنے مظاہرہ کیا۔ چیف ایگزیکٹیو آفیسر نے بتایا کہ یہ پراجیکٹ ابھی ابتدائی مرحلہ میں ہے تاہم اس پر عمل آوری سے روزانہ کی اساس پر اوقافی جائیدادوں پر نگرانی میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ جی پی ایس کے ذریعہ سیٹیلائیٹ تصاویر حاصل کئے جائیں گے جس کے ذریعہ جائیدادوں کی باؤنڈریز کا تعین کیا جاسکتا ہے۔ جی پی ایس کے تحت عدالتوں میں تنازعات کی یکسوئی میں بھی وقف بورڈ کو مدد ملے گی۔ سیٹیلائیٹ سے حاصل کردہ تصاویر غیرمجاز قابضین کے خلاف مدلل ثبوت ہوسکتی ہیں۔ وقف بورڈ میں جی آئی ایس سیل قائم کیا جائے گا جس کے ذریعہ تمام اوقافی جائیدادوں کی تفصیلات اکٹھا کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل ریموٹ سنسنگ کے عہدیدار اس پراجیکٹ کے سلسلے میں وقف بورڈ عہدیداروں کو تربیت دیں گے۔ دونوں ریاستوں میں اوقافی جائیدادوں کی تعداد 38,529 ہے جس کے تحت ایک لاکھ 45 ہزار اراضی ہے۔ 33,929 جائیدادیں تلنگانہ میں ہیں جبکہ آندھرا پردیش میں 4,600 جائیدادیں ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ 75% جائیدادیں اور اراضیات غیرمجاز قبضوں کے تحت اور وقف بورڈ انہیں حاصل کرنے کیلئے برسوں سے مختلف سطح پر جدوجہد کررہا ہے۔ چیف ایگزیکٹیو آفیسر کے مطابق تلنگانہ میں ابھی تک 32,150 جائیدادوں کے ریکارڈ کو ڈیجیٹلائز کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ کے تمام انسپکٹرس اور دو سرویئرس کو جی پی ایس مشینس فراہم کئے جائیں گے تاکہ جائیدادوں سے متعلق تفصیلات اکٹھا کرنے میں مدد ملے۔ انہوں نے بتایا کہ وقف بورڈ کے عہدیداروں کو 5 دن کیلئے ٹریننگ کا اہتمام کیا جارہا ہے۔ اگر یہ پراجیکٹ کامیاب ہوتا ہے تو وقف بورڈ کو اپنی جائیدادیں بچانے میں اہم کامیابی حاصل ہوگی اور عدالتوں میں بھی مقدمات اس کے حق میں آسکتے ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT