Tuesday , August 22 2017
Home / شہر کی خبریں / اوقافی جائیدادوں کے غیر مجاز رجسٹریشن کی منسوخی کا آغاز

اوقافی جائیدادوں کے غیر مجاز رجسٹریشن کی منسوخی کا آغاز

محکمہ رجسٹریشن کو 38000 جائیدادوں کی تفصیلات روانہ، اسد اللہ کی مساعی کو احمد ندیم کا تعاون
حیدرآباد۔/11اگسٹ، ( سیاست نیوز) اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے چیف ایکزیکیٹو آفیسر محمد اسد اللہ نے غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے غیر مجاز طور پر فروخت کے بعد رجسٹریشن کو منسوخ کرانے کا عمل شروع کیا ہے۔ اس سلسلہ میں محکمہ رجسٹریشن اینڈ اسٹامپس کے انسپکٹر جنرل و کمشنر احمد ندیم ( آئی اے ایس ) کا مکمل تعاون حاصل ہورہا ہے۔ وقف بورڈ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اوقافی جائیدادوں کو بچانے کیلئے اٹھائے گئے اس قدم سے نہ صرف غیر مجاز طور پر کئے گئے رجسٹریشن منسوخ ہوں گے بلکہ کئی قیمتی اراضیات وقف بورڈ کے قبضہ میں واپس آئیں گی۔ چیف ایکزیکیٹو آفیسر اسد اللہ جنہوں نے گذشتہ ایک سال کے دوران کئی اصلاحات پر عمل کیا ان کی اس نئی کوشش سے اوقافی جائیدادوں اور اراضیات کے رجسٹریشن پر بھی روک لگے گی۔ وقف بورڈ کی جانب سے 38529 اوقافی جائیدادوں کی تفصیلات محکمہ رجسٹریشن اینڈ اسٹامپس کو روانہ کی گئی ہیں اور کمشنر احمد ندیم نے وقف بورڈ کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے اطلاع دی ہے کہ ان تمام جائیدادوں کی تفصیلات کو محکمہ کے ریکارڈ میں شامل کرلیا جائے گا۔ اس سلسلہ میں محکمہ رجسٹریشن نے کارروائی کا آغاز کردیا ہے۔ محکمہ کے ریکارڈ میں اوقافی جائیدادوں کی تفصیلات میں گزٹ نمبر، وقف نامہ اور اراضی کا رقبہ اور دیگر تفصیلات شامل رہیں گی۔ کوئی بھی غیر مجاز شخص ان جائیدادوں کی فروخت اور رجسٹریشن نہیں کرواسکے گا۔ کسی بھی درخواست کے موصول ہوتے ہی محکمہ رجسٹریشن اسے مسترد کردے گا۔ محمد اسد اللہ نے تمام اوقافی جائیدادوںکی تفصیلات کو محکمہ رجسٹریشن میں شامل کرنے میں اہم کامیابی حاصل کی جس میں احمد ندیم کا تعاون حاصل رہا۔ اس کے علاوہ وقف بورڈ نے رجسٹریشن کی منسوخی کی فیس سے استثنیٰ دینے کی درخواست کی ہے۔ ایک رجسٹریشن کی منسوخی پر 1200تا 1500 روپئے کے چارجس ہوتے ہیں اور وقف بورڈ نے اس سے استثنیٰ کی خواہش کی ہے۔ احمد ندیم نے مقررہ طریقہ کار کے مطابق ریاستی حکومت کو اس کے لئے مجاز قرار دیتے ہوئے وقف بورڈ کو مشورہ دیا کہ وہ اس سلسلہ میں ریاستی حکومت سے نمائندگی کریں۔            (سلسلہ صفحہ 7 پر)

TOPPOPULARRECENT