Saturday , September 23 2017
Home / شہر کی خبریں / اوقافی جائیدادوں کے لٹیروں کو بچانے کی سازش

اوقافی جائیدادوں کے لٹیروں کو بچانے کی سازش

سی بی آئی تحقیقات کیلئے درخواست کے جواز کو چیلنج کرنے پر جناب عابد رسول خاں کا تاثر
حیدرآباد۔ 18اپریل (سیاست نیوز) اوقافی جائیدادوں کی گزشتہ 30برسوں کے دوران ہوئی تباہی کی سی بی آئی تحقیقات کی درخواست کرتے ہوئے ریاستی اقلیتی کمیشن کی جانب سے حیدرآباد ہائی کورٹ میں داخل کردہ رٹ درخواست پر مباحث کے بعد آج ہائی کورٹ نے تمام فریقین کو نوٹس جاری کرنے کا حکم دیتے ہوئی اگلی سماعت کے لئے 8جون کی تاریخ مقرر کی ہے۔صدرنشین ریاستی اقلیتی کمیشن جناب عابد رسول خان نے آج پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران یہ بات بتائی ۔ انہوں نے بتایا کہ کمیشن کی تشکیل کے ساتھ ہی اوقافی جائیدادوں کی تباہی کی شکایات موصول ہورہی تھی لیکن کمیشن کی جانب سے متعدد مرتبہ نوٹس جاری کرنے کے بعد بھی وقف بورڈ کی جانب سے بے اعتنائی کو دیکھتے ہوئے کمیشن نے اپنے طور پر تحقیقات کا آغاز کیا اور 1000سے زائد صفحات پر مشتمل رپورٹ تیار کرتے ہوئے حکومت کو تمام معاملات کی سی بی آئی تحقیقات کروانے کی سفارش کی۔ حکومت تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے وزرائے اعلی نے اس سفارش پر سنجیدگی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ محکمہ اور وقف بورڈ کے ذمہ دار عہدیداروں سے رائے حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن ایسا لگتا ہے کہ عہدیدار نہیں چاہتے کہ لاکھوں کروڑکی جائیدادوں کے خردبرد کے معاملات کی تحقیقات ہو۔ جناب عابد رسول خان نے مزید بتایا کہ آج بھی وقف بورڈ کے کونسل کی جانب سے رٹ درخواست کے جواز کو چیلنج کرتے ہوئے اسے خارج کرنے کی خواہش کی گئی جس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اوقافی جائیدادوں کے لٹیروں کو بچانے کے لئے کوششیں شروع ہو چکی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ کمیشن کی جانب سے عدالت میں داخل کردہ درخواست میں دستاویزی شواہد پیش کئے گئے ہیں جن میں اوقافی جائیدادوں کی تباہی کے طریقہء کار کو پیش کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملکاجگری میں موجود 300 ایکڑ اوقافی اراضی کے تحفظ کے سلسلہ میں جب محکمہ مال کے عہدیداروں کو مکتوب روانہ کیا گیا تو متعلقہ تحصیلدار نے کمیشن کو تحریری جواب روانہ کرتے ہوئے بتایا کہ جائیداد کا حق ملکیت رکھنے والا ادارہ یعنی خود وقف بورڈ اس جائیداد کے تحفظ کے معاملہ میں سنجیدہ نہیں ہے۔ جناب عابد رسول خان نے معظم جاہی مارکٹ پر موجود انتہائی قیمتی اوقافی اراضی کی تباہی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہزاروں کروڑ مالیتی اراضیات کی تباہی کی اعلی سطحی تحقیقات کو نا گزیر تصور کرتے ہوئے کمیشن نے عدالت سے رجوع ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب اسکامس منظر عام پر آتے ہیں تو ان کی تحقیقات کروانے میں کوئی عار نہیں ہونا چاہیئے اور وقف جائیدادوں کی تباہی کے کروڑہا روپئے کے اسکامس منظر عام پر آچکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ عدالت پر انہیں مکملاعتماد ہے اورکمیشن کی جانب سے داخل کردہ درخواست مرافعہ نمبر 12627/16پر مکمل سنوائی کے دوران وقف جائیدادوں کی تباہی کا ریکارڈ رکھنے والے افراد بھی معہ دستاویزات کمیشن سے رجوع ہو سکتے ہیں یاپھر اپنے طور پر فریق بننے کے لئے درخواست داخل کر سکتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT