Monday , September 25 2017
Home / شہر کی خبریں / اوقافی جائیدادوں کے محافظ خود رہزن بن گئے

اوقافی جائیدادوں کے محافظ خود رہزن بن گئے

کرایہ داروں کے حق میں فیصلہ، وقف بورڈ کو لاکھوں روپئے کا نقصان، لیگل ڈپارٹمنٹ کی رائے نظرانداز
حیدرآباد۔/11فبروری ، ( سیاست نیوز) اوقافی جائیدادوں کی تباہی اور وقف بورڈ کو نقصان کیلئے عام طور پر ناجائز قابضین اور متولیوں کو ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے لیکن جب وقف بورڈکا سربراہ خود بورڈ کے خلاف فیصلہ کرے تو پھر اوقافی جائیدادوں کو کون بچائے گا۔ اگر محافظ خود رہزن بن جائے تو پھر دوسروں سے شکوہ کیا۔ تلنگانہ وقف بورڈ میں گزشتہ دنوں عہدیدار مجاز نے ایک متنازعہ فیصلہ کرتے ہوئے شہر کے مرکزی مقام پر وقف بورڈ کے کرایہ داروں کے حق میں فیصلہ کردیا اور انہیں ایک دو سال نہیں بلکہ 35سال کا کرایہ معاف کردیا۔ اس فیصلہ سے وقف بورڈ کو تقریباً ایک کروڑ روپئے تک کے نقصان کا اندازہ کیا جارہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جن کرایہ داروں سے عہدیدار مجاز نے غیر معمولی ہمدردی دکھائی ہے وہ 30سال تک وقف بورڈ کے خلاف عدالت میں لڑتے رہے اور اوقافی جائیدادوں کو اپنی ذاتی جائیداد ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرتے رہے۔ سپریم کورٹ میں جب انہیں شکست ہوئی تو وہ وقف بورڈ سے کرایہ دار بننے کیلئے رجوع ہوئے اور بعض درمیانی افراد کی مبینہ سفارش پر عہدیدار مجاز نے نہ صرف 30سال کا کرایہ معاف کردیا بلکہ معمولی کرایہ پر دوبارہ معاہدہ کرلیا۔ اس معاملہ میں وقف بورڈ کے لیگل ڈپارٹمنٹ اور چیف ایکزیکیٹو آفیسر نے کرایہ کی وصولی کے حق میں سفارش کی تھی لیکن سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل جو وقف بورڈ کے عہدیدار مجاز بھی ہیں انہوں نے لیگل ڈپارٹمنٹ اور چیف ایکزیکیٹو آفیسر کی رائے کو نظرانداز کرتے ہوئے کرایہ داروں کے حق میں فیصلہ کردیا۔’سیاست‘ کے پاس چیف ایکزیکیٹو آفیسر اور عہدیدار مجاز کے نوٹ کی کاپی موجود ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بشیر باغ پر واقع ایک قیمتی اوقافی ملگیات کے چار کرایہ داروں نے ملکیت کا دعویٰ کرتے ہوئے 35سال تک مقدمہ بازی کی۔ انہیں آخر کار سپریم کورٹ میں شکست ہوئی اور وہ وقف بورڈ سے کرایہ دار بننے کیلئے رجوع ہوگئے۔ وقف بورڈ کے لیگل سیکشن نے سفارش کی کہ کرایہ دار بنانے سے قبل ان سے 35سال کے بقایا جات وصول کئے جانے چاہیئے جو کہ وقف ایکٹ کے عین مطابق ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اس معاملت میں بعض افراد نے لاکھوں روپئے حاصل کرتے ہوئے کرایہ داروں کے حق میں فیصلہ کی راہ ہموار کی۔ عہدیدار مجاز نے اپنے نوٹ میں لکھا کہ سپریم کورٹ میں فیصلہ کے فوری بعد وقف بورڈ کو چاہیئے تھا کہ وہ انہیں فوری تخلیہ کروائے لیکن کرایہ دار وقف بورڈ کی رینٹ ریویو کمیٹی سے رجوع ہوئے اور کمیٹی نے بقایا جات کے طور پر ایک لاکھ روپئے کا ڈی ڈی قبول کرلیا۔ عہدیدار مجاز نے رینٹ ریویو کمیٹی کی سفارش کے مطابق کرایہ نامہ کو قطعیت دینے کی ہدایت دی۔ اس فیصلہ سے وقف بورڈ کو لاکھوں روپئے کا نقصان ہوا اور 35سال کے بقایا کی صرف ایک لاکھ روپئے میں یکسوئی کردی گئی۔ 1971ء سے چار کرایہ داروں نے کرایہ ادا نہیں کیا تھا اور بشیر باغ جیسے علاقہ میں 35سال کا کرایہ کیا صرف ایک لاکھ روپئے میں پورا ہوسکتا ہے؟ ۔ عہدیدار مجاز کے اس فیصلہ پر وقف بورڈ کے ملازمین حیرت زدہ ہیں اور پتہ چلا کہ سکریٹری سے قربت رکھنے والے بعض افراد نے  اہم رول ادا کیا اور لاکھوں روپئے کی معاملت کی شکایت بھی ملی ہے۔ عہدیدار مجاز نے اس مرکزی مقام کی ملگی کیلئے ماہانہ 8000 روپئے کرایہ کو منظوری دی ہے جبکہ بشیر باغ جیسے علاقہ میں  8ہزار کرایہ معمولی سے بھی کم ہے۔ اس طرح عہدیدار مجاز نے اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے وقف بورڈ کو نقصان پہنچایا ہے۔ وقف اُمور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ وقف ایکٹ کے تحت کرایہ داروں سے بقایا جات وصول کئے جاسکتے تھے لیکن نامعلوم وجوہات کے سبب عہدیدار مجاز کا یہ فیصلہ محکمہ اقلیتی بہبود میں موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ  ایک جائیداد نہیں بلکہ اس طرح کے اور بھی کئی معاملات میں عہدیدار مجاز نے وقف ایکٹ کے قواعد کو درکنار کرتے ہوئے اور لیگل سیکشن کی رائے کو نظرانداز کرتے ہوئے قابضین کے حق میں فیصلے کئے ہیں۔ حال ہی میں بعض متولیوں کے خلاف سابق میں دائر کئے گئے مقدمات سے دستبرداری اختیار کرلی گئی حالانکہ وقف بورڈ کے حکام نے اس کی مخالفت کی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ سکریٹری اقلیتی بہبود سے قربت رکھنے والے ایک ریٹائرڈ شخص نے اس میں اہم رول ادا کیا جو اقلیتی بہبود کے ہر ادارہ میں دخل اندازی کے ماہر ہیں کیونکہ انہیں سکریٹری کی سرپرستی حاصل ہے۔ شیخ محمد اقبال کے دور میں اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے قابضین کے خلاف جو کارروائیاں کی گئی تھیں انہیں بتدریج واپس لیا جارہا ہے۔ شاید اسی کام کو یقینی بنانے کیلئے حکومت پر دباؤ بنایا گیا اور جلال الدین اکبر کو عہدیدار مجاز وقف بورڈ کی ذمہ داری سے ہٹایا گیا۔

TOPPOPULARRECENT